بروغل ثقافتی میلہ میں بھی مقامی ادبی و ثقافتی تنظیمات نظر انداز

23 لاکھ روپے سے منعقد ہونے والے جشن بروغل باہر سے لائے گئے لوگوں پر ضائع کیا گیا.

رپورٹ: کریم اللہ

چترال: چترال بالا میں جشن بروغل جو سال کا تیسرا بڑاثقافتی میلہ ہے اختتام پذیر ہوا. مگر اس میں بھی مقامی صحافیوں ، سماجی رابطہ کے پلیت فارمکے کارکنوں یعنی وی لاگرز اور ادبی و ثقافتی افراد کو نظر انداز کیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ نے نو تشکیل شدہ ضلع کے باہر سے لوگوں کو لاکر انہیں سہولت اور خاطر مدارت کیں. اسی طرح میڈیا کوریج و ثقافتی و ادبی سرگرمیوں کے لئے مختص شدہ لاکھوں روپے باہر سے آنے والوں پر وارے گئے ۔
ایک اندازہ کے مطابق تقریبا 22 سے 23 لاکھ روپے کے بجٹ سے منعقد ہونے والے جشن بروغل میں مقامی صحافیوں اور وی لاگرز نظر انداز رہے ۔
ہمارے ذرائع کے مطابق محکمہ سیاحت و ثقافت میں میڈیا کوریج اور پروگراموں کے انعقاد اور انتظام کے لئے جو رقم مختص ہوتی ہے وہ وہاں کے انتظامیہ اور دوسری لابی ملکر بندربانٹ کرتے ہیں جبکہ چترال کے کسی بھی فرد کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا۔
اس سلسلے میں ہم نے کئی دفعہ چترال کے سیاحت کے ٹاسک فورس کے اہلکاروں بالخصوص اسرار صبور وغیرہ کے نوٹس میں یہ بات لانے کی کوشش کی، مگروہ اس سلسلے میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے سےقاصر رہے ۔
یاد رہے مرکزی اور صوبائی سیاحت ٹاسک فورس میں چترال سے چار افراد یعنی شہزادہ سراج الملک ، شہزادہ سکندر الملک، اسرار صبور اور ایم پی اے وزیر زاد کیالاش شامل ہے مگر ان میں سے کوئی بھی چترال اور یہاں کے باشندوں کے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں پر آواز اٹھانے کو تیار نہیں۔
اس سے قبل مئی کے موسم میں جشن قاقلشٹ کا انعقاد ہوا تھا جس میں صرف میڈیا کوریج کی مد میں 6لاکھ روپے مختص ہوئے تھے ، لیکن ان میں سے مقامی صحافیوں، وی لاگرز اور ادبی و ثقافتی شخصیات کو کچھ نہیں دیا گیا. بلکہ پشاور سے لوگوں کو لا کے ساری رقم انہیں دی گئی ۔
اس کے بعد کروڑوں روپے کے بجٹ سے جشن شندور کا انعقاد ہوا اس میں بھی مقامی صحافیوں اور ادبی و ثقافتی شخصیات کو نظر انداز کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں