جاوید ناجی کون ہے؟

تحریر: اقبال بالاور

جاوید ناجی کاتعلق بنیادی طورپرضلع تانگیرسے ہے اورگلگت کے مضافات سکارکوئی میں رہائش پذیر ہیں- لیکن یہاں میں جس تعلق کی بات کرنا چاہتا ہوں وہ ان کا سیاسی اورنظریاتی تعلق ہے جس کی بنیاد پہ ان کو ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا ہے.لیکن جس واقعہ کے بعد جاوید سوشل میڈیا پر مشہورہوے وہ ایک الگ ظلم کی داستان ہیں.
سکارکوئی میں ننھی زینب درندوں کے ہاتھوں اغوا ہوئی اور 3 دن تک لاپتہ رہی. بچی کے والد نجیب اللہ نے انصاف اورقانون کو اپنی پہنچ سے بہت دور پا کر دریائے گلگت میں پرانی اسمبلی کے سامنے دریا میں کود کرجان دے دی. اس سارے عمل میں نجیب کے ساتھ اندھے قانون کی آنکھیں کھلوانے کی کوشش کرنے والا جاوید ناجی ہفتہ 3 اگست کی رات کو دو بجے نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اغواء ہوئے اور تا حال ان کا پتا نہیں چل سکا ہے.

کیا جاوید ناجی کو زینب اوراس کے غریب والد کے لئے انصاف مانگنے کی پاداش میں لاپتہ کیا گیا ہے؟ میرے خیال میں اس کا جواب نفی میں ہے. جاوید ناجی کے پراسرارطورپرلاپتہ ہونے کی وجہ جاننے کے لئے ان کا سیاسی و نظریاتی تعلق بھی جاننا ضروری ہے.

جاوید ناجی کا ان نظریات سے تعلق ہے جو کہتے ہیں کوہ ہمالیہ، ہندوکش، اورقراقرم کے سنگم میں بسنے والے شنا، وخی، بروشسکی، کھوار، بلتی اوردیگر زبانیں بولنے والے جن کے مفادات اورنقصانات مشترکہ ہیں ایک قوم ہیں. موصوف ان نظریات کے قائل ہیں جوکہتے ہیں گلگت بلتستان میں علاقائی, مسلکی اوردیگربنیادوں پرتقسیم اورنفرتیں سامراج اوراشرافیہ کے پھیلائے ہوئے ہیں جن کا مقصد گلگت بلتستان کی قومی اور تاریخی شناخت اورخود مختاری کو مسخ کرنا، اس کے وسائل کولوٹنا، زمینوں پہ قبضہ کرنا، گلگت بلتستان کی زمین کو سامراجی طاقتوں کے فائدےکے لیے استعمال کرنا ہے. جاوید ناجی اس تمام ترتقسیم سے بالاتر ہو کر قومی بنیادوں پہ اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور ان کے حصول کی جدوجہد پر یقین رکھنے والے اس عظیم سپوت کا نام ہے, جس کے پرامن اورغیرمسلح مگرمضبوط خیالات پرقاپو پانے کے لئے درجنوں مسلح افراد کو رات کی تاریکی میں منہ چھپا کران کی چاردیواری پھلانگنی پڑی.

اس کے علاوہ ان گنت ایسے معاملات ہیں جو میں اپنی مختصر تحریر میں بیان نہیں کرسکوں گا- قصہ مختصر یہ ہے کہ جاوید ناجی تانگیری نواز خان ناجی کے قبیلے سے ہیں اور یہ بات ان سامراج اوراشرافیہ حکمرانوں کے آلہ کاروں کو ہضم نہیں ہوتی کیونکہ سامراج کے آلہ کارچاہے سیاسی شخصیات ہوں، نوکرہوں یا جی بی اسمبلی کے ممبرہوں وہ اہنی آلہ کاری پرغیرشعوری طور پر فخرمحسوس کرتے ہیں.اور گلگت بلتستان کی زمین اور وسائل کو سامراج اوراشرافیہ کے فائدے کے استعمال کرنے کے لیے وہ اپنا کردار بھرپورادا کر رہے ہیں- ایسے میں ناجی کے قبیلے کے لوگ متنازعہ گلگت بلستان کی مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے ایک قوم بن کرجدوجہد کرنے کی کوشش کرتے ہیں. یہی وہ بات ہے جو ساتھی جاوید کی گمشدگی کی اہم وجہ بنی ہے.

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے. مجھے یقین ہے کہ ریاست کے اس جبر کے خلاف گلگت بلتستان کے حقیقی سیاسی کارکنان، مزاحمت کار اور قوم پرست سبھی جاوید ناجی اور اس عظیم مقصد کے ساتھ کھڑے ہیں, جس کو مسلح نامعلوم گروہ گزشتہ 7 دہائیوں کے مسلسل کوششوں کے باوجود ختم نہیں کر سکا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں