حیا مارچ کی حیا کیا تھی؟ ایک عورت مارچ والے کی آپ بیتی

تحریر: یاسر چٹھہ

آج آٹھ مارچ ہے۔ عورتوں کا عالمی دن ہے۔ عورت مارچ کی تیاریاں کئی دنوں سےجاری تھیں۔ سوشل میڈیا پر بہت غُل تھا۔ ایک طرف سے نعرے اور مارچ کی تیاری ہو رہی تھی، اور دوسری طرف سے مَنبر والوں کے ویڈیوز بھی دھڑا دھڑ شیئر ہو رہے تھے۔ ویڈیوز تقریروں میں دلیل کم اور فنڈنگ پر زور بیانی اور گالیاں زیادہ دے رہے تھے۔
گالیوں کی رفتار سے اندازہ ہو رہا تھا کہ سچ اور حق کے بَہ غیر شرکت غیرے ٹھیکے دار بات بات پر منبرِ پاک کی علامت کا احترام بر طرف کرتے ہوئے غلاظت بَک رہے تھے، تو

ان کے دھاڑی مُنڈھے معتدل مسلمان رفیق ٹی وی سکرینوں اور کامنٹس میں میرا جسم، میری مرضی کے تاب کاری اثرات کے نقصان گِنوا رہے تھے۔
آج گھر سے نکلنے لگے تو ہمارے بڑے بیٹے، فریدون، پُر جوش تھے کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی جہاں یار اور اپنی والدہ عرفانہ اور خالہ عروج کے ساتھ عورت مارچ میں جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے پاس یہ اجتماع ہونا تھا۔ انہوں نے جوش میں ہمسایوں کو بتایا کہ ہم ابھی عورت مارچ جا رہے ہیں۔ ہمسایہ لوگوں نے کہا، توبہ توبہ، کدھر جا رہے ہو، ادھر نا جانا۔ انہوں نے ایسے ہی خواہ مخواہ کَھپ مچائی ہوئی ہے۔ ہم نے ہنسی ہنسی کہا، اچھا دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور گھر سے پندرہ بیس منٹ کی مسافت طے کر کے پریس کلب سے تھوڑے فاصلے پر گاڑی کھڑی کرتے ہیں۔ گاڑی سے اترتے ہی چلنے لگتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ آس پاس رستے میں آتی گاڑیوں پر جمعیتِ علمائے اسلام (JUI-F) کے پرچم کیوں آویزاں ہیں۔ میں، عرفانہ یعنی اپنی شریکِ حیات کو ہنس کر کہتا ہوں کہ یہ دیکھو جے یو آئی والے بھی عورت مارچ میں شامل ہونے لگے ہیں۔

لیکن جب ہم پریس کلب کو مڑنے والی سڑک پر پہنچنے ہی والے تھے تو یہ ہنسی حالات کی ستم ظریفی ثابت ہونے لگی تھی۔ آگے دیکھتے ہیں کہ کافی بڑی تعداد مدرسے کی بچیوں کی نظر آتی ہے اور کچھ با ریش نو جوان بھی ہیں۔ تھوڑا سا دور سٹیج نظر آتا ہے۔ ایک مقام پر پولیس کے کمانڈوز لوگوں کی سرسری جامہ تلاشی کر کے آگے جانے دے رہے ہیں، البتہ چند قدم کے فاصلے پر سے لوگ اسی طرف ویسے ہی اس سٹیج کی طرف جا رہے ہیں۔

خیر ہم سڑک کے دوسرے کنارے سے پریس کلب کی جانب بڑھنے لگے۔ اس طرف پولیس والوں نے ہمیں بَہ غیر چیکنگ کیے ہی جانےدیا۔ جس طرف ہم نے جانے کا قصد کیا تھا وہاں سٹیج کے پاس جا کر دیکھا تو جمعیتِ علمائے اسلام کے حیا مارچ والوں کے سٹیج کی طرف کشور ناہید بھی شاید اسی تذبذب میں چلی گئی تھیں جس کا سامنا

ہم کچھ دیر پہلے دور سے کر کے اپنی دوسری جانب چل دیے تھے۔

اپنے طرف والی سٹیج جو کہ پریس کلب کے گیٹ کے ہاہری احاطے میں لگی ہوئی تھی وہاں سے کشور ناہید صاحبہ کو دیکھا گیا تو ان کو لوٹ آنے کا کہا گیا۔
جب ہم عورت مارچ کے اجتماع والے پنڈال میں پہنچے تو بچے، فریدون اور جہاں یار اپنے لیے پوسٹرز چننے میں لگ گئے۔ اس دوران ساری صورتِ احوال کا جائزہ لیتا ہوں۔ ہر دو طرف کے سٹیج محض چند گز کے فاصلے پر تھے۔ بیچ میں صرف بارہ پندرہ فٹ کی سڑک تھی اور قناعتیں لگا کر دونوں اجتماعوں کو علیحدہ رکھا گیا تھا۔
جمیعت کے سٹیج کی طرف سے محفل جاری تھی۔ اشتعال انگیز لہجے میں تقریریں جاری تھیں۔ اس موقع پر ہی تناؤ والی کیفیت کو دیکھ کر میں نے فیس بک پر اپنا یہ سٹیٹس ڈالا:

Right now at National Press Club #auratMarch.
… JUI (F) jalsa going on the other side of the road.
Hopefully there’s no mischief from any side…

عورت مارچ کی طرف والا سٹیج بھی کچھ دیر بعد سر گرمِ عمل ہو گیا۔ یہاں سے دنیا داری کی باتیں ہو رہی تھیں اور اس بار کے عورت مارچ کے وسیع تر مطالبات کو پیش کیا جانے لگا تھا۔ اس میں جنسی اقلیتوں کی باتیں تھیں، بلوچستان کی ان ماؤں بہنوں کی یاد گیری تھی جن کے اولاد اور بھائی غائب ہیں، وزیرستان کے پختونوں کی باتیں تھیں، جنگ کی اقتصاد کے خلاف باتیں تھیں اور عورت کے اپنے جسم پر اختیار اور معاشی خود مختاری کی باتیں تھیں، آئی ایم ایف کے ایجنڈے سے آنے والے مہنگائی کے سیلاب اور ورکنگ وِیمن اور گھر چلانے والی خواتین پر پڑنے والے بوجھ کی باتیں تھیں۔
مجمع میں بہت سے دوست احباب بھی تھے، جن سے ہماری باتیں چل رہی تھیں۔ اچانک سے تقریریں ہلکی پڑیں۔ دونوں طرف کے سٹیج اور حاضرین منتشر ہونے لگے تو اچانک حیا مارچ کی طرف سے پہلے تو پانی کی خالی بوتلیں گرنا شروع ہوئیں، پھر چھڑیاں گریں، پھر جوتے پھینکے گئے، پتھر بھی آئے۔ لگتا ہے کہ پوری تیاری سے تھے، یا ویسے ہی تیار رہتے ہیں۔
جیسے کہ پہلے کہا ہمارے ساتھ بچے بھی تھے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے پلان میں تو رکھ لیا تھا کہ کوئی زیادہ نا خوش گوار صورتِ حال بنے تو عرفانہ اور بچوں نے کس رستے سے جلد از جلد نکلنا ہے، جب کہ میں وہیں رکا رہوں گا۔ صورتِ حال خراب ہونا شروع ہوئی تو بچوں کو اور عرفانہ کو گاڑی کی چابی پکڑا کر بھیج دیا۔
یہ تھوڑے دور ایک چلڈرن پارک میں بچوں کے ساتھ کھیلنے لگ گئے۔ سڑک کی دوسری طرف سے حیا مارچ کی بچیاں واپس مدرسے کی طرف جا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ اور کچھ وقفے کے بعد حیا مارچ والے مرد بھی جا رہے تھے۔
عرفانہ اور بچے پارک میں کھیل رہے تھے کہ ان کے پاس ایک لڑکی ہانپتی ہوئی آئی۔ اس لڑکی پر حیا مارچ کے مردوں نے پتھر پھینکا تھا، اور وہ اسے وہ گالیاں دے رہے تھے جو میری شریکِ حیات بَہ وجہ حیا اور لحاظ مجھے بتانے سے ہچکچاتی رہی ہیں۔
عرفانہ کے مطابق، وہ لوگ جو سو کے قریب افراد کا گروہ تھا، وہ عورت مارچ کی طرف سے تھوڑا قریب آتی ہر لڑکی کو بے حیا، اور لعنت ہے، لعنت ہے تو بار بار پکار رہے تھے۔
کچھ وقت گزر گیا۔ کوئی بیس منٹ گزرے ہوں گے کہ عرفانہ، فریدون کے بھوک لگنے پر آس پاس سے سنَیکس کی کوئی شاپ ڈھونڈنے اور گاڑی کی طرف چلنے لگیں۔ اسی اثناء میں پینتیس چھتیس برس کا با ریش مرد دوڑتا ہوا آیا اور مُٹھی میں سے سرخ مرچیں عرفانہ کی آنکھوں اور بچوں پر پھینک دیں۔ عرفانہ کی آنکھیں reflexively بند ہو گئیں۔ اس لیے وہ محفوظ رہیں۔ بچے پریشان تھے کہ ایسا کیوں ہوا۔
عورت مارچ سے باہر کھڑے ہو کر حیا داروں کی اس تربیت پر عرفانہ حیران رہیں، اور اونچی آواز میں اس حیا دار بھگوڑے پر چیخنے لگیں۔ اور ان حیا داروں کو ان کا اصل چہرہ دکھانے لگیں۔ بچے ساتھ تھے، ورنہ عرفانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بے حیا کو مَت دینے کا پکا ارادہ رکھتی تھیں۔ بچوں کو unattended نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، وہ زیادہ panic میں آ جاتے۔
اسی دوران آس پاس سے کچھ افراد بھی ان کے پاس مدد کے لیے آئے اور پانی کی بوتلیں دیں جس سے بچوں پر گری مرچیں دھوئی گئیں۔
اب اِنہوں نے مجھے کال کی تو میں فوری طور پر ان کی طرف آیا۔ لیکن ظاہر ہے با حیا وہاں نہیں رہے تھے۔
چند منٹوں کے لیے وہاں رکنے کے بعد ہم گاڑی میں بیٹھے تو ایف ایم 99 ریڈیو پر کالرز بیسڈ پروگرام چل رہا تھا۔ ایک کال آئی ہوئی تھی کہ ہمارے معاشرے میں عورت مارچ کے نکالنے کی کوئی تُک نہیں بنتی۔ ہمارے یہاں تو عورت مکمل محفوظ ہے۔ اس معتدل مزاج کالر کی بات سن کر عرفانہ اب ہنس پڑیں اور کہہنے لگیں کہ شکر ہے کہ اس حیا دار کے پاس مرچیں ہی تھیں، ورنہ یہ تیزاب بھی تو ہو سکتا تھا اور کسی پر گرنے کے بعد معتدل مسلمانوں نے سوشل میڈیا پر یہی کہہ رہے ہونا تھا کہ اس لڑکی نے ہی کچھ کیا ہی ہو گا اور اشتعال دلایا ہو گا، ورنہ حیا مارچ والے بھلا کوئی بے حیا تھوڑے ہی تھے۔
بَہ ہر حال، یہ عورت مارچ تو تھا ہی اس طرح کے افراد کے بر خلاف کہ جو کہتے ہیں:

All’s right with the world!

ساتھ ہی کہنا چاہوں گا کہ عورت مارچ اسلام آباد اچھا خاصا well-attended اجتماع تھا۔ اس پر ظاہر ہے سٹیٹس-کو کی مشینری کو اذیت تو ہو گی۔ بحر حال، رہے نام سچ کا اور انصاف کا۔

بہ شکریہ: ایک روزن


یاسرچٹھ اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے شغف ہے۔ "بائیں” اور "دائیں”، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں