رحیم یار خان کے ہندو بچوں کو اسلامیات پڑھنے پر کیوں مجبور کیا جاتا ہے؟

اُنھیں لگتا ہے کہ ان کے بچے اگر اسلامیات پڑھیں گے تو جوان ہونے پر ان سے ان کا مذہب تبدیل کروانا آسان ہو جاتا ہے۔ ان کی برادری کو یہ بھی خوف ہے کہ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے گاؤں کے مقامی "سرکاری سکول میں ہندو بچوں کو مجبوراً اسلامیات پڑھنا پڑ رہی ہے۔

اقلیتی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان دیالو رام اور ان کی بستی والوں نے اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ علیحدہ سکول بنایا جائے۔ مگر اس کے لیے وسائل کہاں سے آتے؟ پھر بھی حال ہی میں انہوں نے کوشش ضرور کی ہے۔

دیالو رام بستی فقیرا بھگت میں رہتے ہیں جو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے ایک گاؤں چک 187 میں واقع ہے۔

حال ہی میں بی بی سی سے گفتگو میں دیالو رام نے بتایا کہ ان کے ساتھ والے گاؤں چک 186 میں ایک گورنمنٹ ایلیمینٹری سکول قائم ہے۔ تاہم ’ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر بچے اسے یا تو چھوڑ چکے ہیں یا وہاں جانے کو تیار نہیں۔‘
ان کے مطابق اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ جس میں مرکزی وجہ اسلامیات کا مضمون ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ سرکاری سکول سے تعلیم حاصل کرنے والے ہندو بچوں کا مذہب خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

’وہاں اسلامیات پڑھائی جاتی ہے۔ ہمارے مذہب کا متبادل (مضمون) کچھ بھی نہیں ہے۔ جب بچے اسلامیات پڑھیں گے تو ان کو اپنے مذہب کی تو کوئی خبر نہیں ہو گی۔‘

’اس طرح جب وہ بڑے ہوتے ہیں، مولوی صاحب انھیں تبلیغ کرتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے ان کے ذہن میں پہلے سے ایک چیز ڈالی ہوتی ہے تو وہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔‘
’اکثر اِدھر لوگ لالچ پر مسلمان ہوتے ہیں‘

بستی فقیرا بھگت میں ہندو برادری کے 15 کے قریب خاندان آباد ہیں۔ ان کی اور اس طرح کی قریبی بستیاں بنیادی طور پر صحرائے چولستان کے علاقے میں آتیں ہیں۔ آباؤ اجداد کے زمانے سے یہاں کے باسیوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور مویشی پالنا رہا ہے۔

رحیم یار خان شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع نسبتاً پسماندہ اس علاقے کو ان دنوں پانی کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ آمدن متاثر ہونے سے اقلیتی برادری مالی طور پر زیادہ متاثر ہوتی ہے یا دباؤ کا شکار رہتی ہے۔

دیالو رام کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ان کے قریبی گاؤں چک 197 میں ایک خاندان مسلمان ہوا۔ "اکثر اِدھر لوگ لالچ میں آکر مسلمان ہوتے ہیں۔ کسی نے کسی کے پیسے دینے ہوں اور برادری سے کوئی جھاڑ پچھاڑ ہوئی ہو تو وہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔

’چند دنوں کے لیے رہتے ہیں اور اگر اچھے خاصے پیسے مل جائیں تو ادھر ہی رہ جاتے ہیں، ورنہ پھر واپس آجاتے ہیں۔‘
ٹاٹ والے سکول
ان حالات میں دیالو رام کا کہنا تھا کہ علیحدہ سکول ان کی مجبوری بن چکا تھا۔ تاہم ان کے پاس وسائل کی کمی تھی۔ ان کی برادری سے ہی تعلق رکھنے والے سماجی کارکن رمیش جے پال ان کی مدد کو پہنچے۔

ہندو بچوں کے لیے سکول ’رمیش جے پال لرننگ سنٹر‘ ان ہی کی مدد سے چار ماہ قبل قائم ہوا اور چل رہا ہے۔ تاہم اسے باضابطہ سکول نہیں کہا جا سکتا۔

دیالو رام یہاں واحد استاد ہیں۔ ان کے پاس قریباً 40 بچے بچیاں پڑھتے ہیں۔ بچوں کے بیٹھنے کے لیے ریتلی زمین پر کیکر کی چھاؤں میں دریاں یا ٹاٹ بچھایا جاتا ہے۔ سامنے استاد کی کُرسی رکھی جاتی ہے۔

تاحال بلیک بورڈ وغیرہ کی سہولت میسر نہیں اس لیے دیالو رام بچوں کو کتابوں سے زبانی پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے خود کامرس میں انٹرمیڈیٹ کر رکھا ہے۔ ان کے شاگردوں میں چار سے لے کر گیارہ سال کی عمر کے بچے بچیاں ہیں۔

وہ انھیں انگریزی، اردو، حساب، سائنس اور دیگر بنیادی مضمون پڑھاتے ہیں۔ یہاں انھیں اسلامیات نہیں پڑھنا پڑتی۔
گلاس کو ہاتھ بھی لگا دے تو مارتے ہیں‘
دیالو رام کا کہنا تھا کہ یہاں انھیں اس تعصب کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا جو انھیں سرکاری سکول میں کرنا پڑتا تھا۔ ان کے اندازے کے مطابق سرکاری سکول میں پڑھنے والے ہندو بچوں کی شرح تقریباً پانچ فیصد ہو گی۔

’یہاں لوگ کافی متعصب ہیں۔ پانی پینے سے بھی روکتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ گلاس کو ہاتھ بھی لگا دے تو مارتے ہیں۔ اس وجہ سے ڈر کے مارے بھی بچے سکول نہیں جاتے۔‘

ان کے لرننگ سنٹر پر تعلیم کا سلسلہ دوپہر میں شروع ہوتا ہے اور شام تک جاری رہتا ہے۔ یہاں پڑھنے والوں میں وہ بچے شامل ہیں جو یا تو سرکاری سکول چھوڑ چکے ہیں، یا جانا نہیں چاہتے یا پھر جاتے ہیں مگر شام کے وقت یہاں آ کر بھی پڑھتے ہیں۔

دیالو رام کا کہنا تھا کہ اس سکول میں انھیں باقی مضامین کے ساتھ ساتھ کھانا کھانے کے پہلے اور بعد کے مذہبی منتر وغیرہ بھی پڑھائے جاتے ہیں۔
حکومت کا کیا کہنا ہے؟
تاہم حکومتِ پنجاب کے محکمہ تعلیم کا اصرار ہے کہ سرکاری سکولوں میں غیر مسلم طلباء کو اسلامیات کا متبادل مضمون یعنی اخلاقیات پڑھایا جاتا ہے۔ سکول ایجوکیشن کے صوبائی وزیر مراد راس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ مضمون پڑھانے کے لیے غیر مسلم معلم بھی بھرتی کیے گئے ہیں۔‘

تاہم دیالو رام کہتے ہیں کہ ان کے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ’نویں دسویں جماعت کے لیے شاید ہے مگر پرائمری اورمڈل میں بالکل بھی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں ہمارے پاس کتابیں ہی نہیں ہیں۔ ہوں بھی تو وہ نہیں پڑھاتے۔‘

تاہم صوبائی وزیر مراد راس کا کہنا تھا کہ انھیں ایک کہ علاوہ اس طرح کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی کہ کہیں کسی کو جبراً اسلامیات پڑھائی جا رہی ہے۔

’جو شکایت ہمیں موصول ہوئی ہے وہ غالباً رحیم یار خان کے علاقے لیاقت پور سے ہے اور وہ ایک غیر رسمی سکول کے حوالے سے ہے۔ اس پر تحقیقات جاری ہیں اس لیے میں زیادہ بات نہیں کر سکتا، مگر آپ دیکھیں گے کہ دنوں میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح جب تک ان کے پاس شکایت نہیں آتی کہ کہیں زبردستی اسلامیات پڑھائی جا رہی ہے تب تک ان کے لیے از خود پتہ لگانا مشکل ہے۔ پنجاب بھر میں 52 ہزار سکول ہیں۔
’آپ نہیں آ سکتے، مجھے اپنے پاس بلا لیں‘

تاہم مراد راس کا کہنا تھا کہ وہ اپیل کرتے ہیں کہ ’اگر کسی کو یہ مسئلہ در پیش ہے تو وہ میرے پاس آئے، ہم اسے فوری طور حل کریں گے۔ آپ نہیں آ سکتے، مجھے اپنے پاس بلا لیں۔‘

سکولوں میں اقلیتوں کے ساتھ تعصبانہ رویے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا احساس ہے کہ ’بدقسمتی سے ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔‘

’ہمارا ارادہ ہے کہ ہم رواں برس بچوں کو سکول میں داخلے میں ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ تعصب کے خاتمے کے حوالے سے بھی مہم چلائیں گے۔‘

دیالو رام اور ان کے شاگردوں کا تاہم دیگر امتحانات کے ساتھ وقت سے بھی مقابلہ ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ چند ماہ میں موسمِ گرما میں چولستان کے تپتے صحرا کی ریت پر سکول لگانا کس قدر ممکن ہو پائے گا؟

بشکریہ بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں