شعور وآگہی، ناقابل معافی جرم

تحریر: میمونہ عباس

اپنے ہاں بچہ اگر دلیل سے بات کرنے کی کوشش کرے تو لاجواب ہونے کی صورت میں اسے "جا! سقراط نہ بن” اور "خبردار زیادہ فلسفہ جھاڑنے کی ضرورت نہیں” کہہ کر چپ کروادیا جاتا ہے۔ بار بار سوال کرنے والے کو "بدتمیز” کہا جاتا ہےاور کتب بینی کا شوق رکھنے والے کو "کتابی کیڑا” کہا جاتا ہے۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ بچہ دھیرے دھیرے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ فلسفی ہونا، دانشور ہونا یا کسی ادبی شغل میلے میں پڑنا صحیح حرکتیں نہیں ہیں۔ سو وہ آپ کی اور میری مان کر ان سب خرافات سے دور رہتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب ہمیں خود برا محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے بچوں کی سوچ ناپختہ ہے، انہیں علم، شعور اور آگہی کی شدید ضرورت ہے۔ سو اب دوسرے مرحلے میں ہم انہیں لعن طعن کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کا “اچھے بچوں” سے موازنہ کرنے لگتے ہیں، فلاں کے بیٹے کو دیکھو یا ڈمکاں کی بیٹی سے کچھ سیکھو…اب بچہ خود سے بیزار تو ہو ہی رہا ہوتا ہے ساتھ ہی ساتھ فلاں اور ڈمکاں کے بچوں سے حسد بھی کرنے لگتا ہے اور ان سے عداوت مول لیتا ہے چاہے وہ دل ہی دل میں کیوں نہ ہو۔
اس عمل میں ہمارا کردار یہ رہا کہ ہم نے بچے کے معاشرتی تعلقات بگاڑ دیے اور اسے موازنے کی میزان پہ رکھ کر خود سے بہتر لوگوں سے جلنا، کڑھنا اور انہیں نیچے دکھانا سکھا دیا۔ ہم نے یہ نہیں سکھایا کہ کوئی آپ سے کسی معاملے میں بہتر ہے تو اس کی کھلے دل سے تعریف کریں، اسے قبول کریں اور اگر ہوسکے تو اس سے کچھ سیکھیں تاکہ اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو دور کرسکیں۔ اگر ہم یہ سکھا سکتے تو پھر یوں ہوتا کہ بچہ دوسروں سے خود کو کمتر سمجھنے کی بجائے اپنا محاسبہ کرنا سیکھ لیتا اور اپنی بہتری کے لیے خود کو بدلنا بڑا آسان ہوجاتا جس کا فائدہ پورے معاشرے کو ہوتا۔
کیونکہ جس وقت ہم معاشرے کو ایک باشعور، صاف گو اور اعلٰی فکری اقدار رکھنے والی نسل تیار کرکے دے سکتے تھے، وہ وقت ہم نے اپنی اولاد میں جہالت، تنگ نظری اور حسد جیسے منفی جذبات ابھارنے میں ضائع کرچکے۔ اور جب آنکھیں کھلیں تو پتہ چلا کہ ہم نے تعصب اور نفرت سے مغلوب انسان نما مخلوق کو پروان تو ضرور چڑھایا ہے مگر انسانیت کا جذبہ کہیں پیچھے رہ گیا۔ اور وقت ہاتھ سے نکل جانے کے بعد سر پکڑ کر بیٹھ کر سوائے انہیں کوسنے کے اور کوئی چارہ نظر نہیں ہوتا۔ مگر وہ لوگ جو اب بھی ناامید نہیں، جنہیں لگتا ہے کہ ان خرابیوں کو سدھارا جاسکتا ہے۔ تو ان پر کتابیں لادیں یا برین واشنگ کریں کہ دماغ میں بھری غلاظت کا صفایا کریں؟ اور کون جانے اس سے فائدے کے امکانات روشن ہوں کہ نہ ہوں۔ کیونکہ اس تمام عرصے میں اور کچھ کیا ہو کہ نہ ہو لیکن ہم نے اپنی نئی نسل کو جہالت کی بنیادی مگر ان دیکھی ڈگری ورثے میں دی ہوتی ہے۔ اس لیے تو اب صرف اپنی ذات چھوڑ کر اگلے تمام کی حیثیت حشرات الارض سے ذیادہ نظر نہیں آتی ۔ پھر چاہو تو تمام عمر جو نہ بن سکو اسے رگیدتے رہو یا جو اچھا نہ لگے اسے صفحہ ہستی سے مٹاتے رہو!
یوں بھی جہاں آپ کی نسلوں کی تربیت کے اصول دلیل سے دوری اور تنگ نظری پر قائم ہوں وہاں بھلا حق اور دلیل کے ساتھ کوئی کھڑا ہو بھی تو کس بنیاد پر؟ کیونکہ ہم نے پہلے ہی بچے سے کہہ دیا تھا کہ دلیل دینا غیر ضروری فلسفہ جھاڑنا اور سوال کرنا بدتمیزی اور گستاخی ہے۔ نتیجتاً آج اگر پوری قوم مجموعی طور پر فکری زوال کا شکار ہے تو اس پر جتنا رویا جائے کم ہے کیونکہ جہالت نے شعور اور آگہی کو مات دے دی ہے۔
نوٹ: یہاں “ہم” سے مراد ہر وہ شخص ہے جس پر بچوں کی تربیت کی ذمے داری کسی نہ کسی حوالے سے عائد ہوتی ہے۔ چاہے وہ والدین کی صورت ہو، استاد یا تربیت کار!

میمونہ عباس ایک ماہر تعلیم، منتظم، اور غالبا گلگت بلتستان کی پہلی خاتون افسانہ نگار، شاعرہ اور لکھاری ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں