لاپتہ افراد کی گھروں کو واپسی لیکن مزید گمشدگیاں بھی ساتھ ساتھ

اکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی بچی انسہ بلوچ ان بچوں اور بچیوں میں شامل تھیں جو کہ نومبر 2018ء کے آغاز سے لیکر دسمبر کے آخر تک لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئٹہ شہر میں ہونے والی احتجاج میں شامل رہیں۔ وہ اپنے بھائی عامر بلوچ کی بازیابی کے لیے اس احتجاج میں شرکت کے لیے ساڑھے تین سو کلومیٹر دور خاران سے آئی تھیں۔

انسہ بلوچ اپنے خاندان کے بعض دیگر افراد کے ہمراہ احتجاج کے لیے اس وقت کوئٹہ آئیں جب 700 کلومیٹر دور آواران سے سیما بلوچ اپنے بھائی شبیر بلوچ کی بازیابی کے لیے کوئٹہ آکر یکم نومبر 2018 سے علامتی بھوک ہڑتال شروع کی۔

سیما کی علامتی بھوک ہڑتال کے باعث کئی سال بعد لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کے لیے نکلنا شروع کیا تھا جوکہ حکومت اور انتظامیہ کے لیے کسی حدتک پریشانی کا باعث بنا۔

دو ماہ جاری رہنے والے احتجاج کے دوران انسہ کی سوشل میڈیا پر رونے والی ایک ویڈیو سب سے زائد وائرل ہوئی تھی۔ ان کے بھائی عامر بلوچ دو روز قبل بازیاب ہوگئے ایک تصویر میں وہ اپنے بھائی سے لپٹی ہوئی خوش دکھائی دے رہی ہیں۔
عامر بلوچ سمیت گذشتہ چند دنوں میں بازیاب ہونے والے 11 افراد کے نام ان 110 لاپتہ افراد کی نئی فہرست میں شامل تھے جن کے رشتہ دار یکم نومبر سے احتجاج میں شریک رہے۔

کوئٹہ میں شدید سردی کے باعث لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز(وی بی ایم پی )نے پہلے احتجاجی کیمپ کو کراچی اور اس کے بعد خواتین اور بچوں کے ہمراہ اسلام آباد میں احتجاج کا پروگرام بنایا تھا۔

احتجاجی کیمپ کو کراچی منتقل کرنے کے اعلان کے روز ہی بلوچستان کے نئے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے وی بی ایم پی کے چیئر مین نصراللہ بلوچ اور وائس چیئر مین ماما قدیر بلوچ کے علاوہ بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائیزیشن کی چیئر پرسن بی بی گل بلوچ سے ملاقات کی تھی اور ان سے کچھ دنوں کی مہلت کی درخواست کی تھی۔
ان کی درخواست پر نہ صرف تنظیم کی جانب سے احتجاجی کیمپ کی کراچی منتقلی کو ملتوی کیا گیاتھا بلکہ جمعرات کی شب وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی درخواست پر احتجاجی کیمپ کو دو ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان بھی کیا۔

بلوچستان میں لوگوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا تھا۔

مشرف حکومت کے خاتمے کے بعد دو سابق جمہوری حکومتوں میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن اس وقت کیمپ کو مؤخر نہیں کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ کے ساتھ پریس کانفرنس میں اس کو مؤخر کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے وی بی ایم پی کے سربراہ نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ انہوں نے موجودہ حکومت کو 110 افراد کی جو نئی فہرست دی تھی ان میں سے 11 لوگ بازیاب ہوکر گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے اس پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اسے مؤخر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی کہ سابقہ حکومتوں کو بھی انہوں نے لاپتہ افراد کی فہرستیں دیں لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تاہم اس مرتبہ ایک امید نظر آئی ہے۔ انہوں نے کہا مسخ شدہ لاشوں کا گرنا بند ہونا چائیے ۔

پریس کانفرنس کے موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے پربلوچستان کی موجودہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی ۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی جس پرانہیں ایک اچھا ریسپانس ملا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ وی بی ایم پی کے عہدیداروں کے مشکور ہیں جنہوں نے انہیں دو ماہ کا وقت دیا۔

اس پریس کانفرنس کے دوران اگرچہ وی بی ایم پی کے عہدیداروں نے بلوچستان حکومت کو احتجاجی کیمپ کو دو ماہ کے لیے مؤخر کرنے کے لیے ایک اعلان تو کیا لیکن اس اعلان کے برعکس کیمپ دو ماہ کے لیے بند نہیں کیا گیا۔ شدید سردی کے باوجود حسب معمول ماما قدیر اور خواتین اس میں بیٹھی رہیں۔

پہلے گذشتہ دس سال سے قائم اس احتجاجی کیمپ کو دو ماہ کے لیے مؤخر کرنے کے اعلان لیکن اس اعلان کے چند گھنٹے بعد اس کو جاری رکھنے کی وجہ آخر کیا بنی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ماما قدیر نے اس کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں لاپتہ افراد کی بازیابی یا ان کو عدالتوں میں پیش کرنے کی مکمل یقین دہانی نہیں کرائی گئی بلکہ دو ماہ میں میکینزم بنانے کی بات کی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادھر ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے مزید دس کے قریب افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ایک سینیئر عہدیدار بھی پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں جن کا دورہ بلوچستان بھی متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر اقوام متحدہ کے عہدیدار سے ان کی ملاقات ممکن ہوئی تو انہیں بلوچستان سے لاپتہ افراد کی صورتحال کے بارے آگاہ کیا جائے گا۔

ماما قدیر نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جب تک انہیں لاپتہ افراد کی بازیابی یا ان کو عدالتوں میں پیش کرنے کی مکمل یقین دہانی نہیں کرائی جاتی اس وقت تک ان کے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

بشکریہ بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں