مسئلہ کشمیر برصغیرمیں ایک رستا ہوا ناسور ہے:نائلہ علی خان

مسئلہ کشمیر پرشیخ عبداللہ کی نواسی ڈاکٹر نائلہ علی خان کیساتھ ایک نشست

قیصرعباس

”میں ایک خودمختار جموں کشمیر کے قیام پر یقین رکھتی ہوں۔موجودہ دور میں کشمیریوں کو ناقابل یقین مصائب کا سامنا ہے۔ ان حالات میں کسی سیاسی اور اقتصادی ترقی کا تصو ربھی محال ہے۔ بلاشبہ مسئلہ کشمیر برصغیر پاک و ہند میں ایک رستا ہوا ناسور ہے جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کوسخت نقصان پہنچایا ہے۔“

ڈاکٹر نائلہ علی خان نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جدوجہد سے کشمیرکی موجودہ صورت حال پرایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ان کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیرسے ہے اور آج کل امریکہ میں ’روز اسٹیٹ کالج اوکلوہاما‘ میں انگریزی ادب کی پروفیسر ہیں۔لیکن ان کارشتہ ان کی آبائی سرزمین سے اب بھی قائم ہے جہاں وہ تحقیق وتدریس اور خاندانی و ثقافتی رابطوں کے لئے جاتی رہتی ہیں۔

ان کی ایک اور پہچان کشمیر کے پہلے وزیراعظم شیخ عبداللہ کی نواسی کی حیثیت سے بھی ہے۔ ان کے والد ڈاکٹر اور والدہ ادب کی پروفیسر رہی ہیں۔ ڈاکٹرنائلہ اب تک کشمیر، اسلام اور حقوق نسواں کے موضو عات پر چار کتابوں کی مصنف بھی ہیں۔ اس انٹرویو میں انہوں نے کشمیر کی موجودہ صورت حال،اس کے سیاسی مسائل اور مستقبل پر کھل کرتبصرہ کیا ہے۔

انڈیانے حال ہی میں کشمیر کو دو انتظامی حصوں میں تقسیم کیاہے اور آئین کی دفعہ 370 کو مسوخ کردیاہے جس کے تحت کشمیر کو خصوصی مراعات کا درجہ حاصل تھا۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

پہلی بات تویہ ہے کہ انڈیا کے آئین میں کشمیرکو ایک خصوصی حیثیت دے کرکشمیریوں پرکوئی احسان نہیں کیا گیا تھا۔ یہ ان خصوصی حالات و واقعات کا منطقی نتیجہ تھا جو اس وقت انڈیا میں موجود تھے اور اس طرح یہ ہماری ماضی کی روایات اور مستقبل کی امیدوں کا ایک استعارہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ خصوصی درجہ صرف اور صرف کشمیر ہی کو نہیں دیا گیا تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے خطے کی اس خصوصی حیثیت کی مخالفت کی انہوں نے اپنے ہی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ انڈیا کی جمہوریت کی کامیابی کا ایک امتحان یہ بھی ہے کہ اس کی اقلیتیں خود کو کتنا محفوظ اور مطمئن محسوس کرتی ہیں۔

ہندوستان کے وزیراعظم نریندرا مودی مذہبی سیاست کے چمپئن کے طورپر جانے جاتے ہیں جس میں اقلیتوں اور مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نظرنہیں آتی۔کیا آپ کے خیال میں مودی مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل کے لیے بھی سنجیدہ ہیں؟

آرٹیکل 370 کی تنسیخ اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی کی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔ جس طرح انڈیا کے رہنماؤں نے نئے اقدامات پرخوشی کا اظہار کیا ہے اورکشمیر کی ہندوستان میں مکمل شمولیت کو ایک ناقابل واپسی عمل قرار دیا جا رہا ہے اس سے ہندوستان پر کشمیریوں کا جو تھوڑا بہت اعتماد تھا وہ بھی جاتا رہاہے۔
ان اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ ہندوستانی حکومت نہ صرف نہرو کی تشکیل کردہ ان پالیسیوں کو منسوخ کرنا چاہتی ہے جن کے تحت اقلیتوں کو ان کے حقوق دیے گئے تھے بلکہ ان کے اثرات کو زائل بھی کر رہی ہے۔ ان حالات میں آپ میرے اور انڈیا یا پاکستان میں ان لوگوں کے دکھ کا اندازہ نہیں کر سکتے جو خون کے آنسو بہا رہے ہیں۔ آج کشمیر میں جس طرح لوگوں کو گرفتار کیاجارہے وہ میرے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ دوسری جانب بدلتی ہوئی صورت حال پر پاکستان کی خاموشی اور انڈیا سے سفارتی سطح پر بات چیت سے گریز بھی میرے لئے قابل تشویش ہے۔

اس صورت حال کے مدنظراب یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا کشمیر کاقابل عمل تصفیہ اب ناممکن ہے؟ کیا مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے تمام دعوے کھوکھلے ہیں؟ ہم کشمیر کا ایک پرامن اور دیرپا حل چاہتے ہیں جو اس علاقے کے باشندوں کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اسی میں تمام فریقین کا وقار ہے اوراسی سے علاقے کے امن اور ترقی کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔

گزشتہ بہترسالوں سے کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک مستقل تنازعہ بنا ہواہے جس نے خطے کے امن اور ترقی کوبھی یرغمال بنایا ہواہے۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اس تنازعے کے حل کے ذریعے خطے کی خوشحالی کی طرف قدم بڑھایا جاسکتاہے؟

کشمیرمیں امن اور خوشحالی بجا طورپرعلاقے کی ترقی اور انڈیا و پاکستان کے کروڑوں لوگوں کی خوش حالی سے منسلک ہے۔ ہماری جغرافیائی سرحدوں کے ہوتے ہوئے بھی ہم سب ایک ہی خطے کے باسی ہیں۔ کشمیر میں غیر جمہوری روایات کو فروغ دینے کی بجائے علاقے کے لوگوں کو بااختیار بنایا جائے۔صرف اسی طرح لوگوں کو ایک باعزت نظام کا حصہ بنایاجاسکتاہے تا کہ ان کی طاقت ایک فعال اور باعزت زندگی کے لئے وقف ہوسکے۔

میرے دل میں انڈیا اور پاکستان کے ان سیاست دانوں اوراداروں کے لئے کوئی ہمدردی نہیں ہے جو کشمیر میں آگ و خون کے خوفناک کھیل کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کی نظر میں انڈیا اور پاکستان کے دوطرفہ مذاکرات میں کشمیریوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ آپ کا کیاخیال ہے؟

میرا خیال ہے کہ دونوں کشمیر کو سودے بازی کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ جموں کشمیر کی تاریخ کھوکھلے وعدوں، سیاسی دھوکے بازی، فوجی تشدد، غیرقانونی حراستوں، انسانی حقوق کی پامالی، مشکوک سیاسی دھڑے بندیوں اور عوامی انخلا سے بھری پڑی ہے۔ کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد اپنے حق ِخود ارادیت اور رائے شماری کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لیکن دونوں ممالک میں نوکر شاہی ادارے اور قومی یا علیحدگی پسند سیاسی رہنما اسے صرف سیاسی نعرے کے طورپر استعمال کر رہے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کو صرف دو طرفہ مذاکرات تک محدود کرنا کشمیری رہنماؤں کو پس منظر میں رکھنے کی ایک گھناؤنی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

کشمیر کی سیاسی اور سماجی افراتفری، تشدد اور نامساعد حالات نے ر یا ست کے باسیوں کی زندگی، معیشت اور سماجی رشتوں کو بری طرح متاثر کیاہے۔ آپ ایک دانشور اور شیخ عبداللہ کی نواسی ہونے کی حیثیت سے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ کشمیر میں گزارنے کے بعد اب امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان حالات نے آپ کوایک کشمیری اور خاتون ہونے کے ناطے کس طرح متاثرکیا؟

کشمیرجہاں میری زندگی کا بیشترحصہ گزرا، کے پیچیدہ سماجی اور سیاسی پس منظرنے میری ذاتی پہچان کی تشکیل کی ہے۔ میں ایک کشمیری ہوں جو اب امریکہ میں رہائش پذیر ہے، جو ہندوستان اور کشمیر کی بیک وقت شہری ہے اور جنوبی ایشیاکی ثقافت کا حصہ بھی ہے۔ میری ذات ان سب رنگا رنگ عناصر کا مجموعہ ہے۔ میری نسل کے تمام لوگوں نے اپنے عہد کی ٹوٹ پھوٹ اور افراتفری کو قریب سے دیکھا ہے اور وہی ان کی شخصیت کی بنیاد ہے۔

اربابِ اقتدار پر میری بے اعتمادی شاید میری والدہ کے ابتدائی پُر آشوب دور کی وراثت کا اظہار ہے جس کے دوران انہوں نے اپنے والد شیخ عبداللہ کی سیاسی جدوجہد اور مصائب دیکھے۔ وہ 1948ء سے 1953ء تک ریاست جموں کشمیر کے وزیراعظم رہے۔ جب انڈیا اور پاکستان دونوں نے علاقے میں رائے شماری کا ارادہ ترک کر دیا تو ا نہوں نے ریاست کے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے تحریک کاآغاز کیا جس کے نتیجے میں انہیں 1972ء تک قید و بند کی سختیاں جھیلنا پڑیں۔ لیکن اس کے باوجود کشمیر کی آزادی کے لئے ان کا عزم کبھی متزلزل نہیں ہوا۔
آج اگرچہ میں امریکہ میں رہتی اور کام کرتی ہوں لیکن کشمیر سے میری جذباتی وابستگی ہمیشہ میری ذات کاحصہ رہی ہے اور رہے گی۔ کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل جو علاقے کے لوگوں کی خوش حالی اور باوقار زندگی کا ضامن ہو، میری دعاؤں کاحصہ ہے۔ میں اس کشمیر کا خواب دیکھتی ہوں جہاں میری بیٹی ایمان‘ مستقبل میں ایک آزاد اور پرامن فضا میں وا پس قدم رکھے۔
بہ شکریہ: روزنامہ جدوجہد

    ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کے بعد پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں