منصف بھی اگر عدل کا دشمن ہو تو کیا ہو؟

غزل

انصاف کے پلڑوں مین اگر دھن ہو تو کیا ہو؟
منصف بھی اگر عدل کا دشمن ہو تو کیا ہو؟

ہم چین سے سوئے تھے کہ دربان کھڑا ہے
دربان ہی جب گھر کا نقب زن ہو تو کیا ہو ؟

جو کچھ بھی وہ بولے سرمحفل وہ مقدم
اور میرے اشاروں پہ بھی قدغن ہو تو کیا ہو؟

ہرچند کہ پھولوں سے سجائی ہے تری راہ
کانٹوں میں گر الجھا ترا دامن ہو تو کیا ہو؟

کافر ہے وہ اس بت کو جو کج چشم سے دیکھے
پر نذر ہوس خود وہ برہمن ہو تو کیا ہو؟

اس دل میں مرے باب مین سلجھاو کے بدلے
یوں لاکھ پرکھنے پہ بھی الجھن ہو تو کیا ؟

گلگت کے سخن دانوں سے کیا اپنا تقابل
اور ہنزہ مین مقبول نہ یہ فن ہو تو کیا ہو؟

وسیم عباس حیدری

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں