منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنےوالے مظاہرین کے خلاف بغاوت کا مقدمہ ختم

عوامی ورکرز پارٹی پینجاب کے صدر عمار رشید سمیت 23 کارکنوں کو 28 جنوری کو اسلام آباد پریس کلب کے سامنے سے گرفتار کیا گیا تھا.

بام جہاں رپورٹ

اسلام آباد کے انتظامیہ نے دارالحکومت میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف انسدادِ دہشت گردی اور بغاوت کے الزام میں درج مقدمات ختم کر دیے گئے ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے یہ بات پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان گرفتاریوں کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو بتائی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے گزشتہ سماعت پر اسلام آباد کے چیف کمشنر، آئی جی پولیس اور مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کو طلب کیا ہوا تھا ۔

تاہم سماعت کے آغاز پر ہی ڈپٹی کمشنر عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف درج مقدمات ختم کر دیے گئے ہیں۔
اس پر جسٹس من اللہ نے کہا کہ چونکہ ضلعی انتظامیہ نے یہ مقدمات ختم کر دیے ہیں اس لیے عدالت اب اس معاملے پر حکم جاری نہیں کر سکتی۔

تاہم چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت مظاہروں کے بنیادی حقوق کو ملحوظِ خاطر رکھے۔

جسٹس من اللہ نے گرفتار شدگان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں انھیں احتجاج سے روکا جائے تو وہ دوبارہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "23 افراد کے احتجاج سے کسی کو تو کچھ نہیں ہوتا۔ نہ ریاست نہ عدلیہ اتنی کمزور ہے کہ کسی کے کہنے پر ان کو کچھ فرق پڑے۔”

ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ ریاست کے خلاف جو بات کرے، اور جو نفرت انگیز تقاریر کرے اس کے خلاف تو قانونی چارہ جوئی کرنی چاہئے۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ "ریاست اور عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ کسی کے نعرہ بازی یا بات کرنے سے اس کی بنیادیں ہل جائیں۔

نفرت انگیز تقاریر کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے۔ حکومت نے یہ کیس واپس لے کر اچھا اقدام کیا ہے، اس سے معاشرے میں مثبت پیغام جائے گا۔ اکیڈمک معاملات کا فیصلہ ہائی کورٹ نہیں کر سکتی۔”

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’جمہوری حکومت سے ہم توقع نہیں کرتے کہ وہ آزادی اظہار رائے پر قد غن لگائے اور نہ کوئی ادارہ نہ ریاست کمزور ہے کہ اسے فرق پڑے۔‘

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو کچھ آج بھارت میں ہو رہا ہے وہ یہاں نہیں ہو گا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار کارکنان ہمارے پاس آ کر ہمیں بتائیں کہ وکلاء کی فیس پر ان کے کتنے اخراجات ہوئے، حکومت اس کا ازالہ کرے گی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر عمار رشید نے اطمنان کا اظہار کیا اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی کے لئے کوشیشیں کیں اور اظہار یک جہتی کی۔

"آپ سب کا شکریہ جنہوں نے ہمارے ساتھااظہار یکجہتی کیا”۔

انھوں نے امید ظاہر کیا کہ اس سے پاکستان میں اختلاف رائے ، پرامن احتجاج اور اظہار رائے کی آزادی کو جرم قرار دینے کے خلاف دیرپا نظیر قائم ہوگا۔

"ہمیں اب اپنی توجہ بنیادی جمہوری حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں قید دوسروں کی طرف مبذول کرنی چاہئے ، خاص طور پر عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی رہنماء بابا جان اور 14 دیگر کارکن، جو پاکستان میں سب سے طویل عرصے تک سزا کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ سماعت پر منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر عمار رشید اور دیگر 22 زیر حراست افراد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
سیشن جج نے ان ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی جس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

ان افراد کو 28 جنوری کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

محسن داوڑ اور عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری عصمت شاہجہان اور پارٹی کے دو اور خواتین کارکنوں سمیت چھ لوگوں کو چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا جبکہ دیگر پر غداری اور بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انھیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ پشتونوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کی بھی تمام مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تاہم تاحال ان کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی ہے۔
منظور پشتین کو گذشتہ ماہ پشاور میں تہکال کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا ۔
منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی مظاہرے ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں