میرے لفظ ختم ہوئے، تمھارے آنسو سوکھ گئے

تحریر: علی احمد جان

آج چھ دن گزر گیا 11 لاشیں سامنے رکھ کر ہزاروں لوگ کوئٹہ شہر کے مغربی بائی پاس پر بیٹھے اپنے ملک کے وزیر اعظم کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آئیں اور ان کو پرسہ دیں۔ ان کو گلے لگائیں اور یقین دلائیں کہ پھر ایسا نہیں ہوگا۔ ان کے پیاروں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر گردنوں پر چھری چلانے والے اس ملک کے قانون کی دفعہ 302 کے تحت قتل عمد کے جرم کی پاداش میں سزائے موت کی قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔
وزیر اعظم نے اپنے با اختیار اور واحد تجربہ کار وزیر داخلہ کو بھیجا مگر لاشیں سامنے رکھ کر دھرنا دینے والوں نے ان کی بات نہیں سنی۔ پھر بات چیت اور بول چال کی مہارت رکھنے والے ایک وزیر اور ایک مشیر کو بھیجا گیا جن کا مسلکی تعلق بھی احتجاج کرنے والوں کو اپنے موقف سے نہیں ہٹا سکا۔
اپنے کنٹینر پر گھنٹوں لوگوں کے جذبات ابھارنے اور خون گرمانے والی تقاریر سے مقبول ہوئے وزیر اعظم عمران خان اپنے دور اقتدار کے اڑھائی سال گزارنے کے بعد شاید یہ جان چکے ہیں کہ اب ایسی تقریر کرنا بھی ان کے اختیار میں نہیں کہ کسی پر الزام دھرا جائے، کسی کو مجرم ٹھہرایا جائے اور وعدہ فردا پر تالیاں بجوائی جائیں۔ اب لوگوں کے تیکھے سوالات کا جواب دینا ہوتا ہے، وعدہ پورا کرنا ہوتا ہے کہ بلا تفریق جنس، ذات، نسل، عقیدہ اور رنگ کے ہر شہری کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس کے وہ وزیر اعظم ہیں۔
مئی 1988ء میں گلگت پر لشکر کشی سے اب تک میں نے سینکڑوں مظاہروں میں شرکت اور تقاریر کی ہیں، نعرے لگائے ہیں، کالم، خطوط، مضامین لکھے ہیں، مکالمے اور مباحثے کیے ہیں۔ الفاط بارہا دہرائے گئے ہیں. خون کی اس ہولی کی طرح جو تب سے بار بار کھیلی جاتی رہی ہے. جس کی صرف جگہ اور مقام تبدیل ہوتا رہا ہے۔ مگر گزشتہ برسوں سے کوئٹہ میں تو ایسا لگتا ہے کہ اب یہ شہر ہزاروں کی قتل گاہ بن گیا ہے۔ (ہزارہ قبائل سے مراد ہے مگر یہاں لوگ قتل بھی ہزاروں میں ہوئے ہیں)۔
اب نیا کیا لکھا جائے جو پہلے نہیں لکھا، کہا اور سنا گیا ہو۔ ہم ہر مقتول کو جانتے ہیں اور قاتل بھی معلوم ہے اور وجہ قتل سے بھی واقف ہیں۔ یہ باتیں اب ڈھکی چھپی نہیں بلکہ رات سات سے گیارہ بجے تک ہر ٹی وی چینل پر ایک سے ایک بڑبولا اپنے انداز میں وہی دھرا رہا ہوتا ہے جس کو سن سن کر بولنے والے کے منہ کھولنے سے پہلے سننے والے کو پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کیا کہنے والا ہے۔
میں کیا یہ لکھوں کہ ہمارے ملک میں فرقہ ورانہ دہشت گردی، عدم برداشت اور تکفیری سوچ کی گہرائی کا گڑھا ہماری ریاست نے مبینہ طور پر بحر ہند کے گرم پانیوں تک رسائی کے لئے آنے والے سرخ ریچھ کے لئے کھودا تھا. جس میں اب وہ خود گر رہی ہے؟ یہ بات خود ہمارے وزیر اعظم نے ملک کے اندر اور باہر بار ہا کہہ دیا ہے۔
کیا یہ لکھا جائے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات اور ایک دوسرے کی تکفیر کی روش ایران کی ولایت فقیہ اور سعودی عرب کے سلفی فرمان رواؤں نے ایک دوسرے کو جوابی کاروائی کے طور پر ہمارے ہاں درآمد کیا جو اب مقامی طور پر ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ یہ بات بھی سب ہی جانتے ہیں، مانتے ہیں اور زبان زد عام ہے۔
ہمارے دشمنوں کو ہماری ترقی، اسلامی بھائی چارگی اور اخوت ایک آنکھ نہیں بھاتی اس لئے وہ ہمارے خلاف ہر وقت سازشوں میں مصروف رہتے ہیں. خاص طور پر ایسے واقعات کے پیچھے ہمارے بد طینت پڑوسی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس بات کو کیا لکھا جائے جو ہماری حکومت کو کسی واقعہ کی خبر چلنے سے پہلے ہی معلوم ہوتی ہے۔
کیا اس بات پر نوحہ کناں ہوں کہ حالیہ برسوں میں کوئٹہ سمیت ملک بھر میں ہزاروں لوگ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ایسے واقعات میں مارے گئے مگر آج تک کوئی ایک قاتل بھی سزا نہ پا سکا۔ شاہراہ قراقرم پر سفر کرنے والے نہتے مسافروں کے دن دھاڑے قتل عام میں ملوث قاتلوں کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے باوجود آج تک کوئی مجرم ثابت نہ ہوسکا۔ یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کیونکہ یو ٹیوب پر وہ ویڈیوز اب بھی موجود ہیں جو کبھی بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
کوئٹہ میں اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائے مظاہرین بھی وزیر اعظم سے کیا نئی بات کہہ دیں گے جو پہلے کبھی نہیں کہی گئی ہو. اور کون سا نیا مطالبہ پیش کریں گے جو پہلے منظر عام پر نہیں آیا ہو۔ اگر ریاست مدینہ کےخلیفہ عمران خان بحالت مجبوری بنی گالہ کی دھوپ سینکنے اور کتوں کو کھانا کھلانے سے فرصت پا کر بقول محترم ضیغم خان کے سات دن دس گھنٹے کا سفر ایک ہی اونٹ پر آدھا راستہ غلام اور آدھا راستہ خود سواری کر کے کوئٹہ کی سردی میں پدھارے بھی تو کون سی نئی بات کریں گے جو اس سے پہلے کے وزرائے اعظم، صدور اور دیگر ارباب اختیار و اقتدار نے نہیں کی ہوگی۔
یہ بات بھی سب ہی جانتے ہیں کہ ایوان صدر، وزیر اعظم اور گورنر ہاؤس میں ہر موقع کی مناسبت سے ایک تقریر اور ایک پیغام لکھا ہوا ہوتا ہے جو میڈیا کو جاری کیا جاتا ہے یا متعلقہ افراد کے حوالے کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ایسے پیغامات وقوعہ سے پہلے ہی جاری کیے جانے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔
ایسے واقعات کے لئے بھی ایک تقریر موجود ہوتی ہے جو پڑھی جاتی جس کا لب لباب ہوتا ہے کہ "یہ سب ہمارے دشمنوں کی کارستانی ہے خاص طور پر ہمارے ہمسائے کی جو اب مغربی محاذ سے بھی ہم پر حملہ آور ہے۔ دہشت گردی کا شکار ہونے والے غیرت مند، پاکستان کے وفادار اور پر امن لوگ ہیں۔ حکومت نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کیا ہوا ہے، دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے” وغیرہ وغیرہ۔ زیادہ سے زیادہ کچھ علماء کہلانے والے سیاسی راہنما وزیر اعظم کے سامنے دھواں دھار قسم کی تقاریر جھاڑ کر اپنے دام بھی بڑھائیں گے وہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔
1988 ء سے اب تک 32 سال ہو گئے۔ پاکستان میں گیارہ سال تک مارشل لاء لگا کر ہیروئین، کلاشنکوف کلچر، مذہبی انتہا پسندی اور تکفیریت کو فروغ دینے والے جنرل ضیاالحق بھی اسی سال ہی دینا سے رخصت ہوئے تھے۔ اسی سال بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول کی پیدائش ہوئی تھی جو اب وزیر اعظم بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس دوران ایک دفعہ پھر مشرف کے مارشل لاء کے علاوہ ایک درجن سے زائد کل وقتی وزرائے اعظم مجھے یاد ہیں۔ تقریر سب کی وہی ہے بیان ایک ہی جیسا ہے۔ اس دوران مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی کے علاوہ تکفیریت، فرقہ واریت اور انتہا پسندی میں بھی پاکستان نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی ہے۔
آج میری بھی عمر 55 سال ہو گئی۔ اب میرے پاس بھی پرسہ، دلاسا اور دلجوئی کے الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔ لگتا ہے میرے الفاظ کی طرح چار دنوں سے لاشیں دفنائے بغیر دھرنا دینے والوں کے آنسو بھی سوکھ چکے ہیں۔
یہ مضمون سب سے پہلے ‘ہم سب’ میں شائع ہوا تھا. جسے یہاں ان کی اجازت سے دوبارہ شائع کر رہے ہیں.

علی احمد جان اسلام آباد میں مقیم سیاسی و سماجی تبصرہ نگار اور کالم نگار ہیں. وہ ترقیاتی شعبے میں آزادانہ مشاورت دیتے ہیں. ‘ھم سب’ میں کالم لکھتے ہیں.انہیں سیاحت اور سفر کا بھی شوق ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں