نوجوان وکیل آصف ناجی پرATA کے تحت قایم مقدمہ ختم اور واپس سکردو بھیجنے کا حکم

نمایندہ بامِ دنیاء

Asif Naji, Advocate Nazir Ahmed, Advocate Zulfiqar Hussain and others outside Anti-Terrorism Court Gilgit.

گلگت: گلگت بلتستان کے نوجوان سیاسی کارکن ایڈووکیٹ آصف ناجی کو آج ۲۴ گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد عوامیِ احتجاج اور دبائوکے نتیجے میں رہا اورآن پر لگائے گئے دہشت گردیِ کے مقدمات خارج کرنا پڑا۔
آصف ناجی اور دیگروکلاء کو کل سکردو سے گرفتار کرکے گلگت پہنچایا گیا۔ اور آج انسدادِ دہشت گردی کے عدالت میں پیش کیا جس نے آن پر لگائے گٰے الزامات ختم کرکے آنہں سکردو واپس بھیجنے کا حکم دیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے بلتستان میں پانی کی عدم دستیابی پر خواتین نے احتجاج کیا تھا اس پر پولیس نے خواتین کے ساتھ بد سلوکی کیں جس پرلوگوں میں غم وغضہ کی لہردوڈ گِیں۔ ایڈووکیٹ آضف ناجی اور دوسرے سیاسی کارکنوں نے اس پر احتجاج کیا جس پر پولیس نے حسبِ روایت آن پرمظاہرین کو ورغلانے, سرکاری دفتر کے دروازے کو لات مارنے اور گالم گلوچ کے بے بنیاد الزامات لگا کردہشت گردی کے مقدمات قائم کئےتھے.
آصف ناجی ایڈووکیٹ ودیگر وکلاء پر ATA کے دفعات لگانے کے خلاف تمام بار کونسلوں نے احتجاج اورمظاہرہ کیا۔
آج گلگت میں وکلاء کے شدید احتجاج اورسوشل میڈیا پرشدید تنقید کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردی کے دفعات کو ختم کرکے آنہیں ڈسٹرکٹ جج سکردوکے سامنے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے واپس سکردو بھیج دیا ۔

وکلاء اور دیگر مزاحمتی حلقے اسے اپنی فتح سمجھ رہے ہیں.
سیاسی اور سوشل میڈیا کارکنوں نے سکردو کے انتطامیہ پر تنقید کرتے ہویے کہا کہ پانی جیسے بنیادی حق مانگنے پر دہشت گردی کے مقدمہ قایم کرنا ناقابل سمجھ اور قابل مذمت ہے اور مطالبہ کیا کہ متنازعہ علاقہ سے بیورکریسی کا راج ختم ہوجانا چاہیے۔
ظلم و جبر کا نظام گلگت بلتستان میں تادیر قائم نہیں رہ سکتا ہے۔
ایک کارکن نے تبضرہ کرتے ہویے کہا کہ آصف ناجی و دیگر متحرک کارکن گلگت بلتستان کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا ہمارا جمہوری و قانونی حق ہے۔
آنھوں نے سوال کیا کہ یہ کیسا انضاف ہے کہ ہم پانی مانگیں تو دہشتگرد، ہم بجلی مانگیں تق دہشتگرد، ہم آپنا جمہقری اور آینی حق مانگیں تو پھر بھی دہشتگرد ہم اپنے زمینوں کا معاوضہ مانگیں تو بھی دہشتگردکہلاِ یں۔
ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن گلگت کے سیکریٹری اطلاعات ذوالفیقارحسین ایڈووکیٹ نے سکردو ڈسٹرکٹ بار کے رکن اوربلتستان ایکشن کمیٹی کے رہنماِء ایڈووکیٹ آصف ناجی و دیگر وکلاء کی پانی نہ ملنے کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتاری اور ATA کے دفعات لگانا سمجھ سے بالا ترہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے.
آنھوں نے بامِ دنیاء سے بات کرتے ہوِے کہا کہ گلگت بلتستان کے وکلاء کا شاندارمزاحمتی کرداررہا ہے جنہوں نے ہمیشہ قانون کی بالادستی ,مسلئہ کشمیر کے تناظرمیں گلگت بلتستان کے سیاسی مسلہ کے حل کے لئے جدو جہد اور عوام کے لئے فوری انصاف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہےوکلاء کے اس کردار کو دبایا نہی جا سکتا۔

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کی طرف سے جاری بیان میں بلتستان سے عوامی رہنماء ایڈووکیٹ آصف ناجی سمیت دیگر وکلاء کی گرفتاری کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اس واقعے سے گلگت بلتستان کے عوام کو اچھا پیغام نہیں ملا ہے.
عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنماوں اختر امین, ظہورالہی, اخون بائے, واجد اللہ بیگ و دیگر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی بات سے بہتری کا تاثر دینا اوردوسری طرف پانی کی عدم دستیابی پراحتجاج کرنے والوں کوگرفتار کرنا اور آن پردہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات قایم کرنا اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ گلگت بلتستان نوآبادیاتی نظام کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور بدترین ریاستی جبر کا شکار ہے. آنھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اپنے عروج پر ہے جہاں اول تو عوام کو پانی, صحت, تعلیم, روزگار اور دیگر بنیادی حقوق دستیاب نہیں اور دوسری طرف ان کی عدم دستیابی پر سوال کرنے پر جبر و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے.
عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان میں حلقہ اختیارواقتدارسے مطالبہ کرتی ہے کہ آصف ناجی ایڈوکیٹ و دیگر کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جایے اور ان پر لگایے گیے کالے قوانین کے دفعات ختم کیے جاِییں۔
ان رہنماوں نے خبردار کیا کہ اگرآضف ناجی اور دیگر سیاسی کارکنوں کو رہا نہں کیا گیا تو عوامی ورکرز پارٹی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کراحتجاج کا سلسلہ شروع کرے گی.
بایاں بازو کی پارٹی کے رہنماوں نے بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزمایش کے اس گھڑی میں پارٹی رہنماء سمیت تمام کارکنان ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں.
حقوق انسانی کی تنظیموں نے الزام عاِئد کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور ترقی پسند و ریڈکل قوم پرست کارکنوں کو آواز بلند کرنے پر حراساں کیا جا رہا ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی کر مرکزی رہنماء بابا جان، قراقرن نیشنل موومینٹ کر رہنماء افتخار اور دیگ ۱۲ کارکن اس وقت دماس جیل میں عمر قید کی سزایئں کاٹ ریہں ہیں۔ ان کو عطاء آباد سانحہ کے متاثرین کے حق میں اور پولیس کی گولی کا نشانہ بننے والے باپ بیٹے کے خلاف احتجاج کرنے پر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سزایئن دی اور وہ گزشتہ سات سالوں سے جیل میں ہیں۔ اں کے علاوہ ۲۰۰سے زیادہ سیاسی کارکنوں کے نام انسدادِ دہشت گردی کے شیڈول ۴ میں رکھے گیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں