نگر میں کرونا وائرس سے لڑتے ہوئے ایک اور ہیلتھ ورکرشہید

ہوپر نگر کے رہنے والے ملک اشدر کو چھ دن قبل قرنطینہ میں رکھا گیا تھا مگر رپورٹ کا رزلٹ آج ان کے مرنے کے بعد موصول ہوا.


رپورٹ: عنایت ابدالی


گلگت: ضلع نگر میں کورونا وائرس سے لڑتے ہوئے ایک اور فرنٹ لائن مجاہد جان کی بازی ہار گئے .
اسپتال ذرائع کے مطابق 55 سالہ ملک اشدر محکمئہ صحت کے ملازم تھے اور بحیثیت سینئر ٹیکنیشن ریڈیالوجسٹ نگر میں کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرتے کرتے خود اس مرض کا شکار ہوگئے.

اس مہنے کی 24 تاریخ کو ان کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں نگر میں قائم قرنطینہ مرکز میں منتقل کیا گیا تھا اور ان کا سیمپل گلگت بھیج دیا گیا تھا.لیکن رپورٹ کےآنے میں چھ دن لگے۔ آج اس کے انتقال کے بعد رپورٹ کا رزلٹ آگیا جس میں کرونا وائرس پایا گیا۔

ملک اشدر کا کوئی سفری تاریخ موجود نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرونا وائرس مریضوں کے علاج کے دوران انہیں لگ گیا ہے۔ملک اشدر کا تعلق ضلع نگر کا علاقہ ہوپر سے تھا۔ وہ محمئہ صحت میں سینئر ٹیکنیشن ریڈیالو جسٹ کے ظور پر خدمات انجام دیتے تھے۔

اس بہادر سپوت نے اپنے علاقے میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو علاج معالجے کی خدمات دیتے ھوئے خود کرونا وائرس سے متاثر ھوگئے.
شہید کو ان کے ابائی گاوں ہوپر ںگر میں سپرد خاک کر دیا گیا.ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شمس میر نے بام جہان اور ہائی ایشیاء ہیرالڈ کو بتایا کہ اج مزید 12 افراد میں کورونا کی رپورٹ پازیٹیو آئی ہے جبکہ 15 افراد کا رزلٹ نیگیٹیو آیا ھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل 27 اشخاص کا ٹیسٹ کیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ ضلع نگر میں فوت ہونے والے محکمہ صحت کے ملازم کو مقامی طور پر یہ بیماری لاحق ہوئی تھی۔

ایک سوال پر انھوں نے بتایا کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق کورونا وباء سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد اب 123 ہوگئی ھے ۔

ٹیسٹ سنٹر کم ہونے کی وجہ سے نتائج دیر سے موسول ہو رہی ہیں۔ مقامی لوگوں اور ڈاکٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کی نگر میں فوری طور پر ایک ٹیسٹ سنٹر اور وینٹیلیٹر کا انتظام کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں