وادی بروغیل میں معدہ وجگرکے امراض میں بے تحاشا اضافہ

رپورٹ: کریم اللہ

چترال بالا کے انتہائی شمال مشرق میںافغانستان کے واخان کوریڈور کے سرحد پر واقع وادئ بروغیل کے لوگ غربت اور پسماندگی کی وجہ سے کئی بیماریوں کے شکار ہیں. یہاں کے 2000 سے زائد باسیوں میں سے زیادہ تک افراد معدہ اور جگر کی بیماریوں کے شکار نظر آتے ہیں۔ ان امراض میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے.

بروغیل میں صحت کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید جسمانی و ذہنی کوفت سے دوچار ہونا پڑتا ہے. انہیں تقریباّ 280 کلو میٹر طویل فاصلہ پیدل طے کرکے قریب ترین شہر بونی یا چترال تک مریضوں کو لانے اور لے جانے میں بے تحاشا سفری و مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔

اس وقت بروغیل میں تقریبا دو فٹ برف پڑنے کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت بند ہے جس کی وجہ سے لوگ پید ل ایک دن کا سفر طے کرکے یارخون لشٹ آتے ہیں اور وہاں سے گاڑیوں میں بیٹھ کر بونی یا چترال کا رخ کرتے ہیں. طویل پیدل چلنے سے ایک جانب مریضوں کی تکلیف کی حالت خراب ہو جاتی ہے تو دوسری جانب اس طویل سفر میں لوگوں کو شدید مالی مشکلات سے بھی دو چار ہونا پڑ تا ہے۔


بروغیل سطح سمندر سے تقریباّ 12،000 فٹ کی بلندی پر واقع ایک دور افتادہ اور پسماندہ وادی ہے. موسم سرما میں چھ ماہ وادی کا زمینی رابطہ دوسرے علاقوں سے منقطع ہوکے رہ جاتی ہے۔

حکومت کی جانب سے صحت ، تعلیم اور سڑک کا کوئی نظام موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وادی کے باسی اس جدید دور میں بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم انتہائی غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔
ابھی تک کسی بھی حکومتی نمائندے یاغیر سرکاری تنظیموں نے اس وادی کی پسماندگی کو دور کرنے اور یہاں کے مکینوں کو بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں