واپڈا کی جانب سے اپر چترال کو ایک میگاواٹ بجلی بھیگ میں دینے کا دعوی

واپڈا کی جانب سے اپر چترال کو ایک میگاواٹ بجلی بھیگ میں دینے کا دعوی
رپورٹ: کریم اللہ
اپر چترال میں جاری بجلی بحران کے حوالے سے ضلع انتظامیہ ، محکمہ پیڈواور اپر چترال کے عمائدین کا اہم اجلاس بونی میں منعقد ہوا اس اجلاس میں اپر چترال کے ضلعی انتطامیہ ، اے آر ای پیڈو اور بڑی تعداد میں عمائدین نے شرکت کی۔ اے آر ای پیڈو نے اجلاس کو بتایا کہ اپر چترال کو بجلی دینے کے حوالے سے واپڈا کے ساتھ باضابطہ معاہدہ ہوا ہے مگر واپڈا اپر چترال کو بجلی دینے کے لئے تیار نہیں۔ اس وقت اپر چترال کو500 کلو واٹ سے ایک میگاواٹ تک بجلی فراہم کی جارہی ہے ، جبکہ واپڈا کا موقف یہ ہے کہ یہ بجلی بھی اپر چترال کو بھیک میں دیا جارہاہے ۔ اے آر ای نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس سلسلے میں مجبور ہے اور اس مسئلے کو ان کے ہاں کوئی حل نہیں صرف وہ اپنے اعلیٰ حکام کو اس سے متعلق آگاہ کرسکتے ہیں۔ یوں اپر چترال میں جاری بجلی بحران کےحوالے سے منعقدہ میٹنگ بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہوگیا ۔ اس کے بعد عمائدین اپر چترال کا اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ چترال کے سارے سیاسی جماعتوں ، سول سوسائیٹیز ، تجار و ڈرائیور برادری کو اعتماد میں لے کر ایک بھر پور احتجاجی مہم شروع کی جائے گی۔ اس سلسلے میں فیصلہ ہوا کہ پیر 27 جنوری سے اپر چترال کے کونے کونے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا اس کے بعد بڑا جلسہ بونی میں منعقد کیا جائے پھر اگلے لائحہ عمل کی جانب آگے بڑھنے کا فیصلہ ہوا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ پی ٹی آئی سمیت ساری سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے ساتھ ملایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں