پاکستان: 25 سال سے انسدادِ پولیو مہم جاری لیکن وائرس بدستور موجود

دنیا بھر میں 24 اکتوبر کو انسداد پولیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں سے اس مرض نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ ختم ہونے کے بجائے مسلسل اضافہ ديکھا جا رہا ہے.

پاکستان کے علاوہ افغانستان اور نائیجیریا میں بھی پولیو پایا جاتا ہے۔ نائجیریا میں 2016 سے اب تک کوئی نيا کیس سامنے نییں آیا ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں 2018 میں پولیو کے 12 کیسز سامنے آئے تھے لیکن رواں برس اکتوبر تک پولیو کیسز میں کئی گنا اضافہ ہونے کے ساتھ 76 کیسز رونما ہو چکے ہيں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تمام تر کوشش کے باوجود رواں سال کے اختتام تک مزيد کئی کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔

پولیو کے خلاف 94-1993 میں شروع کی گئی مہم اب تک جاری ہے۔ پولیو کے انسداد کی مہمات پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں جبکہ تنقید کے باعث وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو بابر بن عطا کو بھی عہدے سے فارغ کیا گیا۔

پاکستان میں انسدادِ پوليو کا سفر

پاکستان باقاعدہ طور پرعالمی سطح پر پوليو کے خاتمے کی مہم ميں 1994 ميں شامل ہوا۔

اس وقت وزيراعظم بينظير بھٹو نے اس مہم کا آغاز کیا جبکہ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کو سب سے پہلے قطرے پلائے۔

ايک محتاط اندازے کے مطابق اُس وقت پاکستان ميں 20 ہزار سے زائد پوليو کيسز تھے۔

پاکستان سے 25 سال بعد بھی پوليو وائرس کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہر گزرتے سال کے ساتھ مختلف خدشات کا جنم لينا ہے۔ کبھی لوگ اپنے بچوں کو پوليو ويکسين پلانا مغرب کی سازش قرار ديتے ہيں تو کبھی انسداد پوليو رضا کاروں کو جاسوسی کے نيٹ ورک کا آلہ کار مانا جاتا یے۔ کئی افراد اس کو غير شرعی بھی سمجھتے ہیں۔

فوجی آپريشنز کے بعد ملک کے بيشتر حصوں ميں امن قائم ہو چکا ہے ليکن پوليو کے خلاف خدشات ختم نہیں ہو رہے جبکہ اب بھی انسداد پولیو رضا کاروں پر مسلح حملے رپورٹ ہو رہے ہیں۔

انسداد پوليو کے خلاف منظم سازش

رواں سال اپريل کے مہينے ميں پشاور کے نواحی علاقے ماشو خيل ميں ايک منظم پروپيگنڈے کی وجہ سے ملک بھر ميں پوليو کی مہم رک گئی تھی۔ جس کی وجہ سے نہ صرف پوليو کيسز ميں اضافہ ديکھنے کو ملا بلکہ پوليو ٹيمز کے حوالے سے بھی خطرات بڑھے۔
2012 سے اب تک پوليو ٹيمز پر حملوں ميں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ جن ميں پوليو ورکرز کے علاوہ، سيکیورٹی فورسز کے اہلکار اور عام شہری بھی شامل ہيں۔

رضا کار ٹيموں پر حملے

سيد لطيف کا تعلق صوبہ خيبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے ہے ليکن وہ عرصہ دراز سے کراچی ميں مقیم ہيں۔ 1994 سے وہ انسداد پوليو مہم سے وابستہ ہيں۔

پہلے وہ ايک عام ويکسينٹر تھے ليکن اب وہ موٹيويشنر ہيں اور لوگوں کو پوليو کے قطرے پلانے کی جانب راغب کرتے ہيں۔

سيد لطيف نے اپنے دوست عبد الوحيد کے ساتھ کراچی کے ديہی علاقے اسلاميہ کالونی ميں ايک اسکول اور پوليو ويکسی نیشن سينٹر کی بنياد رکھی۔ ليکن اسکول اور ويکسی نیشن سينٹر کو دھمکيوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

دھمکيوں کے باوجود انہوں نے اپنا کام جاری رکھا ليکن 2012 کی ايک شام کو وہ اس وقت دہشت گردوں کی گوليوں کا نشانہ بنے جب وہ کام ختم کرنے کے بعد واپس اپنے گھر جا رہے تھے۔
اس حملے ميں سيد لطيف کی دائيں ٹانگ مکمل طور پر مفلوج ہو گئی جس کے باعث وہ مہينوں اسپتال ميں رہے۔

ان کی عدم موجودگی ميں ان کے قريبی ساتھی عبد الوحيد نے ان کا سفر جاری رکھا تاہم 2013 ميں وہ دہشت گردوں کے ايک حملے ميں جاں بحق ہو گئے۔

اس حملے ميں وحيد کے چھوٹے بھائی اور ان کی بيٹی بھی زخمی ہوئيں۔

سيد لطيف کے مطابق دہشت گرد علاقے ميں اپنا خوف پوليو مہم کے خاتمے کی صورت ميں نافذ کرنا چاہتے تھے۔

سات سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد سيد لطيف بتاتے ہيں کہ آج ان کے دوست کی قربانی بلآخر رنگ لے ہی آئی ہے اور اب علاقے کے لوگ ان کے ہيلتھ سينٹر ميں خود اپنے بچوں کو لا کر پوليو کے قطرے پلاتے ہيں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ يہ سوچ پورے پاکستان تک پھيلانا چاہتے ہيں۔

سيد لطيف کے مطابق بدقسمتی سے پوليو کا مرض صرف پشتون علاقوں ميں پايا جاتا ہے جبکہ دوسرے علاقوں کے لوگ اکثر ان کی ثقافت سے ناواقف ہوتے ہيں۔

ان کا کہنا تھا کہ پشتون لوگ کسی غير شخص کو اپنے دروازے پر کم ہی برداشت کرتے ہيں اور اس سے والدين اور ورکرز کے درميان تعاون میں فقدان پيدا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق پوليو ورکرز کی مناسب تربیت کرنی چاہیے تاکہ کوئی بھی اس کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے۔

خيبر پختونخوا ميں بڑھتے ہوئے پوليو کيسز

صوبہ خيبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے اس سال اب تک کُل 23 پوليو کيسز سامنے آئے ہيں۔

دلچسپ امر يہ ہے کہ سال 2017 اور 2018 ميں اس ضلع سے کوئی بھی کيس سامنے نہیں آیا تھا۔
نورزلی خان بنوں کے علاقہ اسماعيل خانی کے رہائشی ہيں۔ ان کے مطابق ان کی دس ماہ کی بيٹی فردوس کو پوليو کی بيماری پوليو ٹيم کی لا پروائی کی وجہ سے ہوئی۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے نورزلی خان نے بتايا کہ ان کی اس شکايت کے بعد پوليو ٹيم کی ورکر نے ان کی بيٹی کا پوليو کارڈ چيک کرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کر ديا تھا اور ان کو تنبيہ کی کہ کسی کو اس معاملے کے بارے ميں نہ بتايا جائے۔

نورزلی خان کے مطابق اپنی بيٹی کا پوليو ٹيسٹ مثبت آنے کے بعد ان کی زندگی تاريکی کا شکار ہو گئی ہے اور وہ اپنی بيٹی فردوس کے مستقبل کے بارے ميں ابھی سے فکر مند ہيں۔

حميد اللہ داوڑ ضلع بنوں کے ڈسٹرکٹ ہيلتھ افسر ہيں۔ وہ کسی حد تک نورزلی کی بات سے متفق ہيں۔

ڈسٹرکٹ ہيلتھ افسر کا کہنا ہے کہ ان کی ٹيمز مکمل تياری کے بعد پوليو مہم کا حصہ بنتی ہيں اور کسی سے بھی نا خوشگوار رويہ نہیں رکھتیں۔

ان کے مطابق يہی وجہ ہے کہ بنوں ميں انکاری والدين کی تعداد 28 ہزار سے کم ہو کر فقط پانچ ہزار رہ گئی ہے جبکہ پہلی مرتبہ علاقہ ميں پوليو وائرس منفی آيا ہے جو کہ ہمارے ورکرز کی انتھک محنت کا نتيجہ ہے۔

سينوفی ايوارڈ

سال 2016 کو پوليو ڈے کے موقع پر سيد لطيف کو ان کی گراں قدر خدمات پر ‘سينوفی پيسٹر’ نے ان کو فرانس کے شہر پيرس ميں ‘پوليو ہيرو’ ايوارڈ سے نوازا۔

سيد لطيف کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ يونين ليول کی سطح پر چھوٹی چھوٹی ڈسپنسرياں قائم کريں اور اس ميں عوام کو مفت دواؤں کی سہولت فراہم کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ والدين جب اپنے بچوں کو ڈسپنسری لايا کريں گے تو اس کے ساتھ ان کو پوليو کے قطرے بھی وہيں پلا ديے جائیں گے۔ اسی طرح ان کا اعتماد بڑھ جائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ پوليو وائرس موسم سرما ميں کم ہی پھيلتا ہے جس سے يہ قياس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ شائد رواں برس پوليو کيسز ميں مزید اضافہ ديکھنے میں نہ آئے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

اپنا تبصرہ بھیجیں