پُرزے ہوئے پیماں کتنے

تحریر: پرویز ہود بھائی

ماسوائے جواہر لعل نہرو کے، ہندوستان کا کوئی بھی وزیر اعظم کشمیریوں سے اتنا واضح، سنجیدہ اور خوش نما وعدہ نہیں کر سکتا تھا: ”ہم لوگوں کی مرضی کے خلاف بندوق کے زور پر ان سے کوئی بات نہیں منوانا چاہتے۔ اگر ریاست ِ جموں کشمیر کے باشندے ہم سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو ان کا راستہ الگ، ہمارا الگ۔ ہم زور زبردستی کی شادی اور بندھن نہیں چاہتے۔“ (7اگست 1952ء)

اس اقرارِ صالح کو ٹوٹنے میں دیر نہیں لگی مگر ایسا بھی نہیں کہ سب برباد ہو گیا۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 اور اس کی ذیلی شق 35A اس بات کی ضمانت مہیا کرتے تھے کہ بھارتی یونین میں مقبوضہ کشمیر کو خود مختار حیثیت حاصل ہو گی۔

ہر نئی آنے والی حکومت نے آئین کی اِس شق پر شب خون مارا اور آرٹیکل 370 کے تحت حاصل اختیارات میں کمی ہوتی گئی۔ اتنی تبدیلیوں کے بعد صورتحال کو اطمینان بخش تو قرار نہیں دیا جا سکتا تھا مگر اُصولی طور پرآرٹیکل 370 اور 35A کے تحت کسی حد تک کشمیر کی خودمختاری موجود رہی۔

5 اگست کو، 67 سال بعد، رہی سہی خود مختاری بھی اس وقت ختم ہو گئی جب مودی حکومت نے یہ شقیں ہی آئین سے خارج کر دیں۔

ایک ایسے وقت میں کہ جب اکثریت کی زور زبردستی دنیا بھر میں ایک معمول بنتا جا رہا ہے، عالمی سطح پر مودی حکومت کے اس اقدام کی کسی نے کوئی مذمت نہیں کی۔ بھارت کی بڑھتی ہوئی معاشی و سیاسی اہمیت کے پیشِ نظر ’او آئی سی‘ نے بات ”کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادیوں پر بندش“تک ہی محدود رکھی۔ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین نے’اکسائی چن‘پر اپنا حق جتانے کی کوشش کی مگر مذمتی بیان چین نے بھی جاری نہیں کیا۔

سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ تھی کہ پھولوں کی ہزارہا پتیاں نچھاور کی گئیں، قدموں میں سرخ قالین بچھائے گئے، عمران خان وزیر اعظم سے ذاتی ڈرائیور بن گئے مگر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے شاہی ہونٹوں میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔

متحدہ امارات نے تو کھل کر بھارت کی حمایت کی۔ ثالثی کرانے کے لئے ٹرمپ کی غیر متوقع پیش کش کے ہوا ہو جانے کے بعد بے یار و مدد گار رہ جانے والے پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔

ہمارے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے اس موقع پر کچھ نہ کیا تو اہلِ کشمیر سے بہترسالہ اُس عہد کی خلاف ورزی ہو گی جس کے تحت پاکستان کشمیر کے لوگوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان نے دل کھول کر سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد دی مگر بعد ازاں یہ مدد سیاست، اخلاق اور سفارت کی حدود سے تجاوز کر گئی۔ حدود کی خلاف ورزی اب مہنگی پڑ رہی ہے۔ سر پر ایف اے ٹی ایف (FATF) کی تلوار سرِ عام لٹک رہی ہے۔ یہ تلوار اگر گری تو معاشی تباہی آئے گی۔ اس کے نیچے سے سرکنے کی کوشش کی تو سو طرح کے گڑھے منہ کھولے منتظرہیں۔

آئیے ذر ا دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے لئے کون سے راستے کھلے ہیں۔

اگر بی بی سی کی خبروں کو بنیاد بنایا جائے یا جو تھوڑی بہت معلومات کشمیر سے باہر آ رہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں میں شدید غصہ ہے اور پاکستان محصور آبادی میں ابلتے ہوئے لاوے کو استعمال میں لا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، سیاسی، اخلاقی اور سفارتی محاذ پر مندرجہ ذیل مزید اقدامات کئے جا سکتے ہیں:

قومی تہواروں کے موقعوں پر نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں پر پاکستان اور کشمیر کے پرچم بیک وقت لہرائے جا سکتے ہیں۔ یومِ کشمیر (5فروری) کی چھٹی سالانہ بنیادوں پر منانے کی بجائے سال میں دو مرتبہ کی جائے بلکہ کیا ہی اچھا ہو گا اگر ماہانہ بنیادوں پر یومِ کشمیر کے نام پر شٹرڈاؤن چھٹی کی جائے۔ زید حامد جیسے شعلہ بیانوں کو چینلز پر مزید وقت دیا جائے۔ اسکولوں میں ہر صبح اسمبلی کے دوران کشمیر آزاد کرانے کا عہد لازمی قرارد یا جائے، وغیرہ وغیرہ۔

اس کے بعد کیا ہوگا؟

عوام کو اشتعال دلانا آسان ہوتا ہے البتہٰ یاد رہے کہ جوں جوں توقعات بڑھتی ہیں توں توں توقعات پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی شدت پکڑنے لگتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی ریاست کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہو گا اور اسٹیبلشمنٹ میں موجود نالاں حلقوں کو شہ ملے گی۔ وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو جنگ مخالف موقف، غالباً جی ایچ کیو کی آشیر باد سے، اپنایا ہے اس کے خلاف عوامی چوں چرا کا اظہار ابھی سے ہو رہا ہے۔ کشمیریوں سے دھوکے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن آج کل بہت برہم نظر آتے ہیں۔

بے چین حزب ِاختلاف، جسے عمران خان نے دیوار کے ساتھ لگا رکھا ہے، کے پاس کھلا موقع ہے کہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھائے۔ بے اصول سیاستدان غصے سے بھرے ایسے جذباتی لوگوں کو با آسانی اُکسا سکتے ہیں جن کے نزدیک جنگ کا مطلب ہے مزید بھارتی مِگ 21 مار گرانا اور ابھینندن جیسے مزید پائلٹ گرفتار کرنا۔ ایسی صورتِ حال میں اگر اسٹیبلشمنٹ نے بے عملی کا مظاہرہ کیا تو اس کی وضاحت دینا مشکل ہو جائے گی۔ جس طرح گیارہ ستمبر کے بعد جنرل مشرف کو امریکی مہرہ قرار دے کر خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا اسی طرح بعینیہ خان اینڈ کمپنی پر حافظ سعید اور مسعود اظہر کو غیر ضروری طور پر ہراساں کرنے کی پاداش میں آئی ایم ایف کی غلامی کا الزام دیا جا سکے گا۔

آنے والے مہینوں میں یہ چیلنج گھمبیر صورت اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان مدد کرے یا نہ کرے، بڑھتی ہوئی زیادتیوں کے خلاف کشمیری ردِ عمل سامنے آنا ہی ہے۔ احتجاجی مظاہروں میں مزید پاکستانی جھنڈے نظر آئیں گے مگر مودی نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلا ہے اور مودی کو اب کوئی پروا نہیں، اگر پلوامہ جیسا واقعہ دوبارہ ہوا تو مودی جی اس کا الزام پاکستان کے سر تھونپ دیں گے۔ اندریں حالات کوئی بھی اس بات کا اندازہ نہیں کر سکتا کہ ایسے الزامات کے بعد بھارت کا اگلا حملہ اور پاکستان کا جوابی حملہ کتنا چست یا(لا) محدود ہو گا۔

سفارتی محاذ پر پاکستان چاہے تو مہنگی ترین پی آر فرموں کی خدمات حاصل کر سکتا ہے۔ سفارت کاروں کے جتھے بیرونِ ملک روانہ کر سکتا ہے۔ کشمیر کے بہانے وزیرِ خارجہ خصوصی جہاز پر ایک دارلحکومت سے دوسرے دارلحکومت تک نان سٹاپ سیر پر روانہ ہو سکتے ہیں۔ ادھر، آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ کشمیر کے سفیر بنیں گے۔ وہ اپنی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ معلوم نہیں صدر ٹرمپ ان کی فون کال کا جواب دیں گے یا نہیں مگر بورس جانسن، محمد بن سلمان اور سید طیب اردگان کے کانوں پر تو کوئی جوں تک نہیں رینگی۔ عمران خان کا کوئی قصور نہیں۔ کوشش نواز شریف نے بھی کی تھی مگر ناکامی کا اظہار آخر کار ”ڈان لیکس“ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔

نیوکلیئر محاذ پر کچھ زیادہ ممکن نہیں ہے۔ کچھ نئے ایٹمی ہتھیار، کروز میزائل، ایس ایل جی ایم اور ٹی این ڈبلیو بنا لینے سے یا ان کی نشانہ لینے کی صلاحیت بہتر کر لینے سے کشمیر کے مسئلے پر کوئی آنچ نہیں آنے والی۔

سالوں پہلے ہندوستان اور پاکستان نے یہ صلاحیت حاصل کر لی تھی کہ وہ باہمی طور پر ایک دوسرے کو کئی بار ایٹمی راکھ کا ڈھیر بنا سکتے ہیں۔ کسی کو اچھا لگے یا برا، اس نیوکلیئر طاقت کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایل او سی مستقل سرحد کے طور پر منجمد ہو گئی ہے۔ دوسرے درجے کے سیاستدانوں  کی گیدڑ بھکیاں اپنی جگہ، پلوامہ کے بعد دونوں ممالک نے ایٹمی دھمکیوں سے اجتناب ہی برتاہے۔ 2002 ء (پاراکرم)، 1999ء (کارگل)، مئی 1990 ء اورغالباً 1987ء (براس ٹیک) میں دھمکیوں میں ایٹمی کاٹ موجود تھی۔

کشمیر کے لئے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی محاذ پر پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جو وعدے پاکستان کے شہریوں سے کئے گئے تھے ان کو پورا کیا جائے۔ ملک کی حالت تشویشناک ہے۔ معیشت بحران کا شکار ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان نے ابھی ٹھیک سے قدم بھی نہیں رکھا۔ افرادی قوت ہنر مند نہیں لہٰذا جدید معاشی تقاضوں سے عہدہ برا نہیں ہو سکتی اور آبادی ہے کہ بے لگام بڑھ رہی ہے۔ تعلیم کا معیار پست تو ہے ہی، تعلیم سب کو میسر بھی نہیں۔ کام سے بد دیانتی عام سی بات ہے جبکہ شہریوں میں متشدد رجحانات عام ہیں۔ پاکستان بنگلہ دیش سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ بنگلہ دیش کا فی کس جی این پی اور زرِ مبادلہ کے ذخائر ہم سے بہتر ہیں۔ وہاں آبادی میں اضافے کو بھی روکا گیا ہے جبکہ عوام کو میسر سماجی خدمات بھی بہتر ہیں۔

محمد علی جناح سے لیکر آج تک ہرنیا آنے والا سیاسی رہنما جو وعدے کرتا آیا ہے اب ان پر عمل درآمد ہو جانا چاہئے۔ صورتِ حال مشکل ہے مگر ان وعدوں پر عمل درآمدشروع کرنا اشد ضروری ہے۔ سماجی بہبود اور معاشی ترقی کو ترجیع دی جائے نہ کہ اوروں کے لئے جنگیں لڑی جائیں۔ باقیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ وہ اپنا برا بھلا خوددیکھ لیں گے۔ سب سے پہلے پاکستان کے لوگوں کا بھلا سوچئے پھر باقیوں کی فکر کیجئے گا۔–بشکریہ:روزنامہ جدوجہد

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں