چترال-بونی روڈ کی خستہ حالی اور لوگون کی پریشانی

محکمہ سی این ڈبلیو کی نااہلی ، ٹینڈر کو دو ماہ گزرنے کے باؤجود چترال-بونی روڈکی مرمتتا حال نہ ہوسکیں

کریم اللہ

محکمہ تعمیرات و خدمات (سی اینڈ ڈبلیو) چترال کی نااہلی سے چترال-بونی روڈ کی مرمت کے لیے ٹینڈر ہوئے دو ماہ کا عرصہ گزر گیا مگر تاحال اس پر کام شروع نہ ہوسکا۔
محکمہ کے اندرذرائع کے مطابق روڈ کی مرمت کے لئے تین قسم کے فنڈز ریلیز ہوچکے ہیں- ان میں سے ایک پختہ سڑک میں بننے والے کھڈوں کی مرمت کے لئے فنڈ ریلیز ہوا تھا جسے ٹھیکیدار نے 55 فیصد لیا ہے مگر تاحال اس سلسلے میں کام کا آغاز نہ ہوسکا۔
دوسری فنڈ سڑک کے کناروں پر ایک فٹ کنکریٹ لگانے کا تھا اس پر بھی تاحال کام شروع نہ ہوسکا- جبکہ تیسرا فنڈ پی ٹی سی ایل نے محکمہ کو دیا ہے ، چونکہ پی ٹی سی ایل نے چترال سے بونی تا مستوج ڑاسپور فائبر آپٹکس لائن کے لئے سڑک کے کنارے کھدائی کی تھی اور اس کام کو دوبارہ صاف کرنے کے لئے انہوں نے محکمے کو مرمت کے پیسے دئیے ہیں ، ان تینوں فنڈز کے لیے ٹینڈر تو ہوچکے ہیں مگر تاحال کام شروع نہ ہوسکا۔
اسی طرح پچھلے سال بھی پچ ریپیرنگ کے لئے فنڈ مختص ہوچکے تھے مگرروڈ پر عملی کام نہ ہوسکااور وہ رقم کہیں غائب کر دئیے گئے اور اب بھی ادارے کے اعلی حکام اور ٹھیکیدار ملی بھگت سے حالیہ فنڈز کو بھی خرد برد کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں