چترال میں مارخور کا غیر قانونی شکار کرنے والا شخص گرفتار

چترال (کریم اللہ ) گزشتہ دنوں لٹکوہ کے علاقہ اوریت میں دس سالہ مارخور کو محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے مقامی لوگوں کی مدد سے پکڑا تھا جسے فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا تھا۔ جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مرگیا۔
تاہم پچھلے دنوں محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے آوی شغور سے تعلق رکھنے والے اسلم بیگ والد میر اور ساتھی کو اس غیر قانونی شکار میں ملوث پاکر ان کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ 2015 کے تحت چالان کردیا ہے۔ ملزم اسلم بیگ کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا لیکن ملزم کے دوسرے ساتھی ابھی تک قانون کی پہنچ سے باہر ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے اعتراف جرم بھی کیا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم اسلم بیگ کا شغور کے ایک بااثر خاندان کے ساتھ ذاتی تعلق بھی ہے۔

یاد رہے چترال کے مختلف علاقوں میں کنزرویشن کی بنا پر مارخور اور دوسرے جنگلی حیات کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ اور ہر سال محکمہ وائلڈ لائف ہنٹنگ کے لئے بین الاقوامی طور پر تین سے پانچ پرمٹ کی نیلامی کرتے ہیں اور سب سے زیادہ بولی لگانے والوں کوشوٹنگ پرمٹ جاری کیا جاتا ہے۔ عموما غیر ملکی ٹرافی ہنٹرز کو ایک مارخور کے لئے ایک لاکھ ڈالر کی پرمٹ جاری ہوتی ہے۔ اور شکار سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 80 فیصد لوکل کمیونٹی کو جبکہ 20 فیصد سرکار کو جاتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھاجائے تو شغور کے مقام پر حالیہ غیر قانونی شکار کی اصل قیمت ایک کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں