کوئٹہ میں آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرنے پر چار خواتین سمیت 60 طلبہ ’گرفتار‘

بام جہان رپورٹ

کوئٹہ میں آن لائن کلاسز کے خلاف اور انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے پر امن احتجاج کرنے والے طلبہ کی گرفتاری کے خلاف سیاسی، طلباء اور سماجی حلقوں کی جانب سخت تنقید کی جا رہی ہے.

بلوچ ظلباء اتحاد کی جانب سے کوئٹہ میں تین دن کی بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا گیا تھا. بدھ آخری دن بھوک ہڑتالی طلبا اپنے کیمپ سے بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب مارچ کرنے لگے تو پولیس نے انھیں روکا اور تشدد کا نشانہ بنایا.
حراست میں لئے گئے طلبا میں بلوث طلباء ایکشن کمیٹی کے رہنماء ڈاکٹر صبیحہ بلوث، ڈاکٹر مھرنگ بلوچ اور مہلب بلوث جن کے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ جو لاپتہ ہیں، شامل ہیں. ان کے علاوہ قائد اعظم یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی میں بلوچ اسٹوڈینٹس کونسل کے چیئرمین اور ان کے ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا گیا.

طلبہ کو حراست میں لیے جانے کی خبر سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر کئی طلباء تنظیموں، سیاسی رہنماؤں اور حقوق انسانی کے محافظوں کی جانب سے اس پولیس کاروائی کی شدید مزمت کی گئی اور گرفتار طلباء کی رہائی کے مطالبات سامنے آنے لگے اور ’ریلیز آل سٹوڈنٹس‘ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک خاتون طالب علم کا ویڈیو پیغام بھی شیئر کیا گیا ہے جو بظاہر پولیس وین میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں خاتون طالب علم کہتی ہیں کہ ’جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہم گذشتہ ماہ سے آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم ایچ ای سی کو کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان میں آن لائن کلاسز نہیں ہو سکتیں۔‘

وہ کہہ رہی ہیں کہ ’آج بھی وہی رویہ ہمارے ساتھ اپنایا گیا ہے جو ایک عرصے سے بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔‘

’ہم پرامن احتجاج کر رہے تھے، پہلے ہمیں کہا گیا کہ پانچ منٹ انتظار کریں آپ کو آگے جانے کی اجازت نہیں۔‘

انہوں نے سوال کیا کہ آئے دن ریلیاں اور احتجاج ہوتے ہیں ان کو اجازت کہاں سے ملتی ہے؟

نیشنل پارٹی نے اس واقعہ کو شرمناک قرار دیا. اور فلفور طلباء کو رہا کرنے کیا مطالبہ کیا. پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدلمالک اور سینیٹر حاصیل بزنجو نے اپنے ٹویٹر اکاونٹس پہ ایک بیان میں اسے شرمناک قرار دیا. انھوں نے کہا کہ نااہل صوبائی حکومت نے پرامن طلباء و طالبات کو حراست میں لے کر ایک بار پھر اپنے علم دشمن ہونے کا ثبوت دیا ہے.
انھوں نے کہا کہ طلبا کا مطالبہ بلکل سادہ اور جائز ہے کہ وہ کیسے ان لائن کلاسیں لیں گے جب انہیں انٹر نیٹ کی سہولت ہی میسر نہیں. آپ ان کے مطالبات منبور کرنے کی بجائے انہیں گرفتار کر رہے ہیں.
عوامی ورکرز پارٹی بلوچستان نے بھی پولیس کاروائی کی مزمت کی.
دوسری جانب وزیر اعلی جام کمال کا کہنا ہے کہ طلباء کی گرفتاری ان کی حکومت کے کہنے پہ نہیں ہوا.
انہوں نے دعوا کیا کہ طلباء اور پولیس کا اپس میں جھگڑا ہوا اس کے بعد گرفتاریوں ہوئیں.

بلوچ اسٹوڈینٹس الائینس، پروگریسو اسٹوڈینٹس فیڈریشن، جمو و کشمیر نیشنل اسٹوڈینٹس فنڈریشن اور انقلابی طلباء محاز نے ایک مشترکہ بیان میں پولیس کی غیر انسانی رویہ اور تشدد کی مزمت کیں اور مطالبہ کیا کہ حراست میں لئے گئے طلباء کو فورآ رہا کیا جائے.

ان طلباء تنظیموں نے سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں اور دیگر طلباء کی گرفتاری کی مذمت کیں اور فی الفور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا. بصورت دیگر اس ریاستی جبر کے خلاف دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ مل کر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا

ان طلبا ء تنظیموں نے کہا کہ .پاکستان میں اس وقت غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے. حقوق کے لئے بولنے، لکھنے اور پر امن احتجاج کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے.

جے کے این ایس ایف کے رہنماوں نے کہا کہ ریاستی جبر کا طلبہ نے ماضی میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور مستقبل میں بھی کریں گے اور اپنے بنیادی حقوق کی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے. انہوں نے یاد دلایا کہ طلبہ اگر ایوب خان کی آمریت کا خاتمہ کر سکتے ہیں تو عمران نیازی کی کٹھ پتلی حکومت طلبہ کی اجتماعی طاقت کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہو گی.
.پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ کی فراہمی کے بغیر آن لائن کلاسز کا آغاز طلبہ کے ساتھ زیادتی ہے.

انہوں نے کہا کہ کرونا وبا نے محنت کشوں کو معاشی طور پر تباہ کر دیا ہے ایسے میں طالب علم فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں.

"جے کے این ایس ایف نے مطالبہ کیا کہ فیسوں کی معافی کا فی لفور اعلان کیا جائے اور تعلیمی اداروں کی نجکاری کے عمل کو روکا جائے. تمام تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے کر ہر سطح پر مفت تعلیم فراہم کی جائے.طلبہ یونین کے الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جائے.”

واضح رہے کہ ملک بھر میں طلبہ کا انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے باوجود یونیورسٹیوں کی جانب سے آن لائن کلاسوں کے انقعاد کے خلاف احتجاج جاری ہے جس میں لاہور کے طلبہ بھی شامل ہیں۔

ان ظلباء تنظیموں نے گلگت بلتستان میں 23 جون کو شاندار احتجاجی مظاہرہ کرنے پر انتظامیہ اور ایس سی او کے اعلی حکام کی جانب سے دھمکیا دی جا رہی ہیں اور ان کے خلاف ایف ائی ار درج کرنے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں.
ان طلباء تنظیموں نے خبردار کیا کی اگر طلباء کے خلاف انتقامی کاروائی کی گئی تو ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے شروع کئے جائین گے.

ایک اور صارف محسن ابدالی نے چند تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’طلبہ آن لائن کلاسز خلاف اور بلوچستان میں انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے کئی ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں مگر ان کو سننے کے بجائے ریاست جواب میں تشدد کر رہی ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے اور قابل مذمت ہے۔‘

نیشنل پارٹی کے سربراہ سینٹر حاصیل بزنجو کے ٹویٹر اکاونٹ پر اس واقع کی مزمت کی

ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت نے سکول کالجز بند کر کے انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن کلاسوں کا حکم دیا۔ تاہم مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز کی جانب سے آن لائن کلاسیں دینے کا آغاز ہوتے ہی طلبہ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

طلبہ سراپا احتجاج: ’جب انٹرنیٹ ہی نہیں ہوگا تو میں کلاس کیسے لوں گا‘

’آن لائن کلاسز تو کیا ہمیں فون سننے کے لیے بھی ٹیلوں پر چڑھنا پڑتا ہے‘
بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت-بلتستان، آزاد کشمیر اور سرائیکی وسیب کے مختلف علاقوں سے انٹرنیٹ سہولت نہ ہونے پر طلبہ کا ردعمل سامنے آیا جس میں ان کلاسوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم حکومت کی جانب سے طلبہ کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ نہ دی گئی۔

اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، پی آر ایس ایف، اسٹوڈینٹس آرگنائزنگ کمیٹی غذر اور آل بلتستان موومینٹ کی کال پر اسکردو، گلگت، اور گاہکوث، اسلام آباد، ٌاہور، ڈیرہ اسماعیل خان، بہاولپور، ملتان اور دیگرشہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

منگل کو بھی لاہور میں پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف بیشتر طلبہ انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے پر آن لائن کلاسیں نہیں لے پا رہے۔ تو دوسری جانب یونیورسٹیوں اور ہوسٹلوں کی فیسیں بھی باقائدگی سے ادا کرنا پڑ رہی ہیں۔

کوئٹہ میں آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرنے پر چار خواتین سمیت 60 طلبہ ’گرفتار‘” ایک تبصرہ

  1. ۔ "زندہ قوم ”
    ۔.
    ابتدائی آفرینش سے آج تک ہزاروں قومیں اس کرہ ارض پر نمودار ہوئیں ۔ ان میں سے کچھ قومیں صفحہ ہستی سے ہمیشہ کےلیے مٹ گئیں اور کچھ قوموں کو اچھے یا برے کارناموں کے وساطت سے آج تک یاد کیا جاتا ہے۔ زمانہ جہالت کی عرب قومیں ہوں یا اسلام کے نور سے منور صحرائی قبائل، یونانی اور رومی فلفسی تمدن ہو یا اموی، عباسی اور عثمانی خلافت یا جدید سائنسی اور مشینی دور کا معاشرتی نظام ۔ وہی قومیں زندہ رہی ہیں جن میں جہد و بغاوت کا عنصر باقی تمام فکری تصورات پہ حاوی رہا ہو۔۔۔!!!

    ہمیں سکول میں داخل ہوتے ہی ایک ترانہ یاد کرایا جاتا ہے ۔
    ” ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں” لیکن زندہ اور پائندہ قوموں کے پنہاں اصولوں سے ہمیں دانستہ طور پر دور رکھا جاتا ہے۔ جب معاشرے میں ظلم اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہو اور ریاست اپنے فرائض بخوبی انجام دینے سے قاصر ہو تو با ضمیر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا لازم ہے۔۔۔۔!!!

    امریکہ میں ایک سیاہ فارم کو جعلی کرنسی کے الزام میں پولیس قتل کر دیتی ہے تو وقت کا سپر پاور عوامی دباو کو جذب کرنے سے قاصر نظر آرہا ہے اور ریاست بشمول پولیس معافیاں مانگتی نظر آرہی ہے۔
    ان کو معلوم ہے کہ رعایا ہی ریاست کے بقا کی ضامن ہے۔ اب بات کرتے ہیں پاک سر زمین کی ، ایک ذہنی عدم توازن کا شکار صلاح الدین ایے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالتے پکڑا جاتا ہے اور عدالت پہنچنے سے پہلے ہی تھانے میں انسانی روپ میں درندوں کے ہاتھوں مار دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارا جہاد صرف فیسبکی مورچوں سے اکادکا گولے پھینکنے تک ہی محدور رہتا ہے۔ ملزم کو پولیس نے گرفتار کیا، تشدد کے بعد برہنہ ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی اور ادھر ہم نے فیسبک سے مذمتی فائرنگ کھول دی ۔ دو دن بعد ہم نے ضمیر کے ساتھ امن معاہدے پہ دستخط ثبت کر دیے ۔۔۔!!!

    کمسن کلیاں زینب، فاطمہ ، نوشین، زہرا اور آسماء جنسی ہوس سے چور گدھوں کے پنجے میں آیئں اور جنسی شیطانی آگ کو ٹھنڈا کر کے کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ احسان، اجمل، اکرم اور اسلم والدہ کے لیئے قریبی دوکان سے دہی لانے گئے مگر پھر ماں کو ملے تو کھیتوں اور جھاڑیوں میں ،وہ بھی وحشی کتوں کے ہوس کے بھینٹ چڑے، جن کا جسد خاکی بھی ممتا کی محبت کا الوداعی دیدار نہ کر سکا۔۔۔۔!!!

    عبیدہ بیگم نے کراچی میں کچرے کے ڈھیر میں بچے کو جنم دیا، زاہد کی کلی غزالہ، وی آئی پی پروٹوکول کی نذر ہوئی۔ سلیم کو زمیندار نے بچوں کے سامنے کلہاڑی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مالک نے اجرت مانگنے پر 8 سالہ ثریا کے چہرے پہ تیزاب پھینک کر کوئلہ بنا دیا۔۔
    وڈیرے نے بھائی کے سامنے بہن کی عزت تاراج کی۔ تھر میں نواز کے دو پیاسے پھول پانی نہ ملنے کے سبب مرجا گئے۔ شکور نے بھوک سے تنگ آ کر بچوں سمیت خودکشی کر لی، امجد رشوت کے پیسوں کا بندوبست نہ کر سکیں اور عدالت کے سامنے ڈگڑی کے ساتھ جلنے کو ترجیح دی۔۔!!!

    ایک نظر ادھر بھی
    وزیراعظم ہاوس کی چائے کا خرچہ 8 کروڑ، اعوان صدر میں 26 لاکھ کا مشاعرہ ہوا، طوطے کا پنجرہ 18 لاکھ پہ تیار ہوا۔ تمام پارلیمنٹیرینز کو مفت سفری واچر جاری ہوے۔ سنیمہ حالز کی مرمت کے لیے ایک ارب مختص، 16 BMW لگجری گاڑیاں منوائی گئیں، سرینہ ہوٹل میں 3 لاکھ رقم کی ہاسپٹل بیڈ تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی ساڑے تین لاکھ ہوٹل کا بل آیا۔ ایک VIP کے پروٹوکول کا سالانہ خرچہ کم از کم 87 لاکھ آیا۔ با اثر شخصیت نے اپنے بیٹے کو رہا کروایا، وزیر کے کتوں کا معالج برطاینہ سے تعلق رکھتا ہے، گواہی دینے کی پاداش میں غریب قتل ہوا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہیں ہماری قومی خبریں ۔۔۔!!!

    اب خرابی کہاں ہے؟ قصوار کون ہے؟ ذمہ دار کون ہے؟
    خرابی نظام میں ہے ذمہ دار میں اور آپ ہیں، ہر منصب دار اپنے منصب سے غداری کر رہا ہے۔ نہ پولیس ٹھیک، نہ جج عادل ، نہ سیاست دان مخلص، نہ رعایا بیدار۔۔۔۔!!!

    وجہ صرف ایک ہے جس مقصد کے لیے یہ ملک حاصل کیا تھا اور جس امید پہ لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا، اس کے ساتھ حاکم و رعایا نے مل کر برابر غداری کی ہے۔ اسلام کے سنہرے اصولوں کو اگر نافذ کیا جاتا تو آج یہ اطلاعات کانوں تک پہنچے کی جسارت نہ کرتے، وقت کا خلیفہ یہودی سے مقدمہ ہار کے تاوان بھرنے پہ راضی ہوتا تھا، اپنی تنخواہ کو مزدور کی تنخواہ کے برابر کرنے کی سفارش ہوتی تھی۔ خلیفے کی قمیض رعایا سے لمبی ہونے پر سوال اٹھتے تھے، گورنروں کو ترکی گھوڑے پہ سوار نہ ہونے کے احکامت جاری ہوتے تھے اور خلیفہ اولاد کی آمدن کا بھی جوابدہ تھا۔۔ ہمارے حاکم وقت مذدور کی تنخواہ 7 ہزار رکھ کے خود کہ رہے ہیں 8 لاکھ پہ گزارہ نہیں ہو رہا۔۔۔۔!!!

    اگر ہم زندہ قوم ہوتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، امریکہ کے سیاہ زندہ قوم ہیں تو آج زندگی بھی متحرک نظر آ رہی ہے. ہماری زندگی جمود کا شکار ہے اور کسی جہد کی طرف مائل نہیں ہو پارہی۔ خواہش کے باوجود ہم حرکت نہیں کر سکتے کیوں۔۔۔؟؟
    1111بقول حکیم الامت شاعر مشرق

    ” خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر ۔۔۔!!!
    پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

    یاد رکھیے جہاد اور ہجرت کے بغیر کوئی بھی قوم انقلاب برپا نہیں کر سکی ہے۔ اٹھیں اور پوچھنے کی ہمت پیدا کریں مبادہ کہ دیر ہو جائے۔

    طالب علم
    (زین)

اپنا تبصرہ بھیجیں