گلگت اور جان علی کی دیوانگی

تحریر: عزیز علی داد

اگر ہم گلگت کی قدرتی حسن کو روایتی و جدید شاعری میں تلاش کریں تو ہمیں جا بجا دریا, نیلگوں جھیلیں, سر سبز وادیاں,فلک بوس پہاڑ, جنگلات, کلیاں اور پریاں ملتی ہیں. یہ سب کچھ یہاں کے باسیوں کی تخلیق نہیں ہیں بلکہ قدرت کی طرف سے ودیعت کئے ہوئےتحفے ہیں. اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہماری ثقافت نہیں بلکہ یہ ہمارا جغرافیہ ہے جس نے ہماری ثقافت اور ذہنی ساخت کی تشکیل کی. روایتی طور پراس شقافتی ساخت کے ذریعے ہی ہماری شخصیت کی تشکیل ہوتی تھی. اس ثقافتی فکر نے انسان اور قدرت دونوں کا احاطہ کیا ہوا تھا. یہی وجہ ہے کے برفیلے پہاڑ, جنیپر (چلی) کے درخت, مارخور اور انسان ایک ہی کلیاتی خیال میں بندھے ہوئے تھے. یہ یہی کلیاتی تصور دنیا ہی ہے جس کی وجہ سے ہمارے آبا و اجداد کوجنیپر کے درخت میں پریاں نظر آتیں تھیں. اس درخت کے پتوں کی خوشبو .کو سو نگھ کر شامن (دنیل) وجد میں آتا اور پریوں سے ہم کلام ہوجاتا تھا.دیامرکو پریوں کی زمین کہا جاتا ہے کہ وہاں یہ دیومالائ تصور کائنات عام زندگی اور قدرت کے ہر پہلو میں رچا ہوا تھا. اسی کلیاتی تصور کائنات نے ہی دیامر میں جنگلات کو اب تک محفوظ رکھا. جس دن یہ تصور ٹوٹ پھوٹ گیا اسی دن وہ مقدس پریاں درختوں سے بھاگ گئیں اور منڈی کے قوتوں اور کمرشلائزیشن کے زیر اثر اب انھہی درختوں پر لوگون کو نوٹ لٹکے ہوئے نظر آئے. مارکیٹ کی قوتوں کی آمد کے ساتھ ہی اس حرص بھرے ذہںن نے جنگلات کا چند عشروں میں ہی خاتمہ کر دیا.

شینا زبان کے مشہور شاعر اور فنکار جان علی جان ایک مسافر ویگن کے چھت پر سوار ہو کر اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں. فوٹو: نعیم دانیال

یہ کہانی صرف گلگت کے نئے تباہ کن سوچ کی نہیں ہے جس نے قدرتی ماحول میں تباہی برپا کردی ہے. ایسی سوچ کے اثرات انسانی معاشرے پر بھی گہرے مرتب ہوتے ہیں. جب گلگت کا روایتی/دیومالائی تصور کائنات تباہ ہوا تو اس کی جگہ تاریکی کی قوتوں نے لے لی. تاریکی کی ان قوتوں نےگلگت کی زمین پر زہر کے بیج بو ئے. اس کی فصل نفرت, منافقت, تعصب, فرقہ واریت اور ذہنی غلامی کے نتیجے میں نکلی. جب زمین ہی زہرآلود ہوجائے تو اس سے جو فصل اگے گی وہ زہریلی ہوگی. جان علی جان شینا زبان کے وہ شاعر ہیں جو اس معاشرتی زہر اور اس کے زہریلے اشرات کی اپنی شاعری میں نشاندہی کرتا ہے. وہ فولک/لوک ادب کے نمائندوں میں سے ہےجس کی شاعری کی ہییت اور متن اسی مٹی سے پیدا ہوتے ہیں نہ باہر سے مستعار لئے ہوئے ہییت یا خیال سے. وہ گلگت سے معاشرے کے زہر آلود ذہںن کو ہی گلگت کی دائمی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور متنبہ کرتا ہے:
"انت عدت تھیگت تو پھتو چھات دیات”
(اسی عادت کی وجہ سے تم لوگ ابد تک آگ لگاتے رہو گے).
چونکہ گلگت کا معاشرہ و ثقافت اجتماعیت پر مبنی ہے اس میں فرد کو اپنی انفرادیت کے اظہار پر قدغن ہے. انفرادی شخصیت کے دشمن اس معاشرے می ان صرف وہی خیالات پنپ سکتے ہیں جو گروہ کی نفسیات کو تقویت دے. اسی لیئے فرقہ واریت کے لیئے گلگت کی سرزمین بہت زرخیز ثابت ہوئی ہے. جان علی فرقہ وارانہ گروہ سوچ پر استوار مذہب کی نئی تعریف کو مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ معاشرے کے افراد کو کھا جاتا ہے.
تھئے مسجد گا یا تھئے حمام گا یا
جنتئے حورانی میئی غلام گا یا
فساد گیر عالم تو مئی امام گہ یا
فسادوٹ ٹک تھرین او اسلام گا یا
جان علی ہر اس سوچ اور نظام کی نقد کرتا ہے جو فرد کو اپنا بننے کی بجائے فرد کو اپنے زیر نگیں رہنے پر مجبور کرتا ہے. اس عمل میں فرد کی اپنی ذات ختم ہو جاتی ہے. اس کا میں ہم میں مدغم ہوکر کھو جاتا ہے. جو معاشرے فرد کو اپنی ذات سے بیگانہ کر دیتا اور گروہی سوچ کو فرد پر تھوپتا ہے, اس معاشرہ کے افراد جھوٹی زندگی گزار رہےہوتےہیںں. وہ گلگت بلتستان والوں کی باہر کی قوتوں کے زیردست ہونے پر نقد کرتا ہے اور ان کو اپنی بے بسی دکھاتا ہے. بے بسی کا یہ عالم ہے کہ گلگت کے لوگ اپنی بے بسی کا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ایسے نظام میں بندھے اور معاشرے میں قید ہیں جہاں پہ زبان, آنکھوں, کانوں اور خیالات پر مقدس پہریدار اور چوکیدار بیٹھے ہوئے ہیں. جان علی فرما تے ہیں:
سونگتھے تھے مور تھا زمانہ ہوشار بلن,
گلتچ گلیتو کرے اختیار بلن,
تو کھش ڈرینو نومچ انتقال بلن.
گلگت بلتستان میں رائج نظام کی نقد کرتے ہوئے کہتےہیں:
نے کاغذ گا کھرو وایئی تو عدالت گا کھرو وایئی
نے ٹیکسی گا کھرو وایئ تو پیپسی گا کھرو وایئی

جان علی اس جدوجہد کا استعارہ جس میں فردجھوٹے اور ذہنی افتراق میں مبتلا معاشرے سے آزادی حاصل کرنا چاہتا ہے.جان علی ظلمتوں میں ڈوبے معاشرے میں اپنی شاعری کے ذریعے دیپ جلانا چاہتا ہے مگر روشنی سے متنفر معاشرہ تاریک سوچ اور قوتوں کی پرورش کرتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو اپنی حقیقت اور سچ سے محفوظ رکھ سکے. سچ کو پانے کے لئے انسان کو اپنے آپ کو اپنے اندر سرائیت کر گئے ان عفریتوں اور بلاؤں سے آزاد کرنا ہوتا ہے. جان علی نے اس آزادی کی مہنگی قیمت ادا کی. آج کے گلگت کا معاشرہ اور ثقافتی رویئے نئے فرد کی تشکیل کرنے کی بجائے اپنے اپنے ہی بچوں کو کھا رہے ہیں. آج کا گلگت ذہنی شری بدتوں سے بھرا ہوا ہے. جان علی اس شری بدتتی سوچ سے بدعت کر رہا ہے.جان علی گلگت کا وہ معصوم ہے جو معاشرے کی ذہنی آدم خوری کا شکار ہو گیا.
کچھ ہفتے قبل ایک دوست نے جان علی کی ایک تصویر شیر کی .اس تصویر میں شینازبان کےمعروف شاعرجان علی جان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مستی کی کیفیت میں ایک ہائیس ویگن کی چھت پر محو سفر ہیں. یہ کیفیت بندے کو اپنے آپ سے چھین لیتی ہے اور دیکھنے اور سوچنے کے نئے افق وا کرتی ہے.جب یہ نئی نظر اور ادراک واپس معاشرے کی طرف پلٹتے ہے تو معاشرہ اسی آنکھ کو پھوڑنےاور عقل کی روشنی کو بجھانے کرنے کی کوشش کرتا ہےتاکہ تاریکیوں میں پلے بڑھے بلاوں اور ذہنیت کاراج دائم رہے.اس معاشرے میں فرزانگی دیوانگی ہے. جان علی ایک ایسے شاعر اور فنکارہے گلگت کے معاشرے میں ایک نئی فکر و نظر کی متعارف کروانا چاہ رہا ہے مگر گلگت کے معاشرتی,ثقافتی اور مذہبی بلاوں سے لڑتے لڑتے اس کا ذہن خود اس کو نگل گیا. آج کل جان علی اپنے آپ سے بےخبر گلگت کےکوچہ و بازار میں رقصاں اورگویا ہے.ان کی حالت مشہور انگلش ادیب جوناتھن سوفٹ کی سی ہے جس نے جوانی میں دیوانوں کے لئے ایک پا گل خانہ بنوایا مگر آخری عمر میں خود اسی پاگل خانے میں داخل ہوا. ویسے گلگت ایک پا گل خانہ ہی ہےجس کی دیواریں پتھر سے نہیں بلکہ منافقت, نفسیاتی دو گونی, اخلاقی بد اعتقادی, فرقہ وارییت اور ذہنی غلامی سے بنی ہیں. یہ معاشرہ اپنے آپ کو ان بلاوں سے آزاد کرنے کی بجائے آزادی سے فرار اختیارکررہا ہے. یہ معاشرہ اندر سے اتنا ڈرپوک اور کمزور ہوگیا ہے کہ اس کو آزادی سے ڈر لگنے لگا ہے. ایسی خوف سے معمور خوفناک زندگی, زندگی نہیں شرمندگی ہے. اسی لیے جان علی جان نے تنگ آکر کہا تھا:
ادے بے بیوکیجو مروک گا مشٹی,
گلیت گا پھٹ تھے کون نشوک گا مشٹی

اپنا تبصرہ بھیجیں