گلگت اور چترال میں 21 مزید لوگوں میں کورونا وائرس کی تصدیق

عنائیت ابدالی اور گل حماد فاروقی


گلگت÷چترال: گلگت- بلتستان اور چترال میں مزید 21 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے. اس طرح اب تک گلگت بلتستان میں کورونا وباء سے متاثرین کی تعداد 83 ہو گئی ہے.

چترال جو ابھی تک کورونا وباء سے محفوظ علاقہ سمجھا جاتا تھا، میں چار مریضوں کی تصدیق ہو گئی ہے. جبکہ تین مریضوں کا ٹیسٹ مشکوک ہے ان کا ٹیسٹ دوبار ہ کیا جائے گا۔

کو آرڈینٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر نثار اللہ کے مطابق آج تین مریضوں کا ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آگیا جبکہ تین مزید مریضوں کا ٹیسٹ مشکوک ہے ان کا ٹیسٹ دوبارہ کرانا ہے۔
ڈاکٹر نثار نے تصدیق کرلی کہ اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائریس کے مریضوں کی تعداد چار ہوگئی. جن کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال کے تنہائی کے گوشے میں داخل کیا گیا ہے اور یہ سب مریض وہاں زیر علاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کے نئے مریضو ں میں سے 25 سالہ شیر نواز کا تعلق بیرزین گرم چشمہ، 63 سالہ رحمت ولی اور 44 سالہ شمس الاکبر جن کا تعلق چمرکن سے بتایا جاتا ہے.

جبکہ ایک مریض شہاب الدین کی تصدیق کل ہوئی تھی اور وہ بھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں زیر علاج ہے۔
ڈاکٹر نثار اللہ کے مطابق تین مزید مریضو ں کا ٹیسٹ مشکوک ہیں اور کل ان کا دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے گا۔

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ تر گھروں کے اندر رہیں؛ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں؛ صفائی کا خاص خیال رکھیں؛ صحت مند خوراک، سبزی، پھل زیادہ کھائیں، اور پانی کا زیادہ استعمال کریں.
انھوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کو زیادہ میل ملاپ سے اجتناب کرنا چاہئے۔ یہ بہت تیز رفتاری سے پھیلنے والی بیماری ہے جس میں احتیاط کی نہایت ضرور ی ہے۔

واضح رہے کہ چترال سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے متعدد مرتبہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر زور دیا تھا کہ چترال جیسے پسماندہ اور دور دراز علاقہ میں خصوصی طو پر کورونا وائریس کی بیماری کی علاج اور مریضوں کی دیکھ بال کیلئے خصوصی طور پر طبیآلات، سکینر، وینٹی لیٹرز اور دیگر ضروری سامان کا بندوبست کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ چترال کے دونوں اضلاع میں ابھی تک کرونا وائریس کی علاج اور اس سے بچنے کیلئے کوئی سامان موجود نہیں ہے۔

دریں اثناء گزشتہ روز حبیب اللہ انقلابی نامی شحص جو اپنے اپ کو جمیعت علمائے اسلام (ف) کا کارکن کہتا ہے نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل کیا تھا جس میں

چترال میں قائم قرنطینہ مراکز میں ایک بیڈ پر دو، دو لوگوں کو لٹایا گیا ہے جو خلاف قانون ہے.

ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی اس غفلت کی وجہ سے چترال میں بہت جلد کرونا وائریس کی وباء پھیل سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے متعدد بار ڈپٹی کمشنر چترال پائین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ اس بابت ان کا موقف لیا جائے مگر وہ کوشش بسیار کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے نہ فون اٹنڈ کیا اور نہ بات کرنے پر راضی ہوا۔ ہمارا نمائندہ ان کے دفتر جاکر ان کا موقف لینے کی کوشش کی مگر انہوں نے بات کرنے اور ملنے سے بھی انکار کیا۔

مزید برآں چترال کو آشیائے خوردنوش لانے والے گاڑیوں میں ڈرائیور اور ان کے شاگردوں کا نہ تو سکریننگ ہوتا ہے اور نہ یہ لوگ ماسک اور دستانے استعمال کرتے ہیں جن سے چترال میں کرونا وایریس کی پھیلنے کا حدشہ ہے۔

گلگت میں مزید آٹھارہ نئےمریضوں کی تصدیق

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مزید 18 مریضوں کی تصدیق ہو گئی ہے. ایک مریض صحت یاب ھوئے.اس طرح مریضوں کی کل تعداد 84 ہو گئی۔

صوبائی وزیر اطلاعات شمس میر نے اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ 18 نئے مریضوں کی تصدیق ہونے سے تعداد 84 ہوگئی تھی. مگر ایک مریض کے صحت یاب ہو جانے سے اب تعداد 83 ھو گئی۔ نئے مریضوں میں 13 افراد کا تعلق گلگت سے 4 استور سے اور 1 مریض کا تعلق نگر سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب متحد ہو کر اس وباء سے نجات حاصیل کریں۔

انہوں نےکہا کہ مقامی سطح پہ اس وائرس کی منتقلی کی اطلاعات ہیں جس سے لگتا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عوام سختی سے عمل پیرا نہیں ہو رہے ہیں اور اس سے خطرناک صورت حال پیدا ہو سکتا ہے.

کل بروز منگل وزیر اعلی حفیظ الرحٰمن گلگت میں کوڈ۔19 ہسپتالوں کی تعمیر کا جائزہ لیں گے اور اس کے بعد ھنزہ اور نگر روانہ ہو جائنگے تاکہ ان اضلاع میں کورونا کے روک تھام کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لے سکیں. وہ اس دوران دونوں اضلاع کے انتظامیہ سے بریفنگ بھی لینگے۔

گلگت میں تازہ ترین خبروں کے مطابق سات مریضوں کا تعلق اسپتال کے عملے اور چھ بیکری ملازمین ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں