گلگت بلتستان میں نئی سیاسی صف بندی اور اس کےمجوزہ پروگرام

تحریر: فرمان علی

گلگت بلتستان کے ایک معتبر سیاستدان اور وکلاء کے رہنماء نے خطے اور اس کے گردو پیش رونماء ہونے والے ڈرامائی تبدیلیوں کے پیش نظر گلگت بلتستان کی سیاست اورعوامی جمہوری جدوجہد کے رخ کو متعین کرنے اور ہمخیال تنظیموں کو ایک اتحاد کا حصہ بننے کے لئے چند نکاتی پروگرام پیش کیا ہے جس پر اگر ترقی پسند اور وطن دوست تنظیمیں متفق ہوں تو موجودہ سیاسی جمود اور خوف وہراس کے فضاکو توڑنے اور لوگوں کو مایوسی سے نکالنے میں یہ ایک اہم پیشرفت ثابت ہوگی.
اس پروگرام کے خدوخال کسی حد تک گزشتہ دنوں اسکردو میں بلتستان اسٹوڈینٹس ٍفیڈریشن کے کنوینشن میں واضح ہوگیا تھا. جب قوم پرست اور بایاں بازو کے رہنمائوں نے "گلگت بلتستان بچائو اتحاد” کے قیام کا اعلان کیا تھا. اور بلتستان کے معروف ترقی پسند اور قوم پرست رہنماء شبیر مایار کو اس اتحاد کا کنوینر نامزد کیا تھا.
اسی تسلسل میں جناب احسان علی ایڈووکیٹ، سابق صدر سپریم اپیلیٹ کورٹ بار ایسو سی ایشن نے اس اتحاد کی سیاست اور جدوجہد کےرخ کو واضح کرنے کے لئے گیارہ نکاتی پروگرام پش کیا ہے.اورواضح کیا ہے کہ جو بھی تنظیم "گلگت بلتستان بچائو اتحاد” کے درج ذیل پروگرام سے اتفاق کرتا ہو وہ اس اتحاد کاحصہ بن سکتا ہے.

وہ نکات درج زیل ہیں:
1- گلگت بلتستان کی وحدت اور تاریخی تشخص کو بچانے کیلئے جدوجہد پر یقین رکھتا ہو.
2- گلگت بلتستان کے عوام پرگزشتہ سات دہائیوں سے مسلط جدید نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور 99 فیصد کچلے ھوئے عوام کی حق حکمرانی پر یقین رکھتا ہو.
3.- ایک خودمختار آئین ساز اسمبلی کے قیام اور اس کے ذریعے موجودہ نوآبادیاتی قوانین اور آرڈرز کی جگہ آئین ساز اسمبلی کی بنائی ہوئی آئین کی بنیاد پہ مقامی عوام کے تمام بنیادی انسانی جمہوری، شہری، معاشی اور سیاسی حقوق کا تحفظ.
3- اسٹیٹ سبجیکٹ رولز 1927ء کی فوری بحالی اور ان کی خلاف ورزی میں اب تک جتنی عوامی اراضیات کی الاٹمنٹ کی گئی ہے یا غیر ریاستی باشندوں کو فروخت کی گئی ھے ان سب کی منسوخی
4- انسداد دھشت گردی ایکٹ سمیت تمام عوام دشمن قوانین کا خاتمہ
5- تعلیم اور صحت کو بنیادی انسانی حق کے طور پہ مفت فراہم کرنے کی آئینی ضمانت دینا-
6- تعلیم کے بعد نوجوانوں کو روزگار کی آئینی ضمانت اور روزگار ملنے تک ہر نوجوان کولازمی بےروزگاری الائونس دینا-
7- کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا کو سکالرشپ کا اجراء
8- معدنیات کی وسیع پیمانے پہ کانکنی کیلئے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنا تمام مقامی و غیرمقامی افراد کو انفرادی طور پہ دی گئی لیزز کی منسوخی اور مقامی گائوں یا وادی کے باشندوں کے نام پہ اجتماعی لیز دینے کی پالیسی اپنانا.
9- سی پیک، دیامر بھاشہ ڈیم اور دیگر میگا پراجیکٹس میں حصہ داری اور رائیلٹی طے کرنے کیلئے گلگت بلتستان کی حکومت اور حکومت پاکستان میں معاہدہ کرنا-
10- زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق کو تسلیم کرنا.
11.- جموں و کشمیر پہ ہندوستان کی طاقت کے ذریعے قبضہ کے خلاف کشمیری عوام کی آزادی و خودمختاری کی جدوجہد کی مکمل حمایت اور دونوں طرف کے باشندوں کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کی بحالی اور یہاں ایک انقلابی عوام دوست حکومت کے قیام کیلئے جدوجہد کے ساتھ مکمل یک جہتی جیسے مطالبات اس نئے الائنس کے ایجنڈے میں شامل ہیں.
اس پروگرام سے اتفاق کرنے والی تمام تنظیمیں جن میں خواتین کی تنظیمیں بھی شامل ہیں اس الائنس کا حصہ بن سکتی ہیں اور ہم ایسی تمام تنظیموں اور سماجی و انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو اس اتحاد میں خوش آمدید کہتے .
اس پروگرام کو عملی جامع پہنانے اور گلگت بلتستان سظح پر عوامی مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے کیلے ضروری ہے کی اس اتحاد کا ڈھانچہ فوری طور پر تشکیل دیا جائے اور ہر ضلع، تحصیل اور گائوں سطح پر اتحاد کی تنظیم سازی کی جائے. پیشہ ورانہ تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں، ڈاکٹروں، طلباء، نرسسز ، اساتذہ، اور تاجروں کے تنظیموں کو اس اتھاد کا حصہ بانا ضروری ہے.
اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ 2014 اور 2016 کے تحریکوں سے سبق سیکھا جائے اور ان غلطیوں کو نہ دہرایئں جس کے نتیجے میں موقع پرست عناصر فائدہ آٹھائیں اور تحریک کو نقصان پہنچے اور لوگوں میں ایک بار پھر مایوسی پھیلے.

اپنا تبصرہ بھیجیں