گلگت بلتستان: نوآبادیات کا گمنام گوشہ قسط-4

تحریر۔اشفاق احمد ایڈوکیٹ۔

Ashfaq Ahmed Advocate

سرتاج عزیز کمیٹی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں اصلاحات کا آغاز 1972 ء میں کیا گیا جس کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے اپریل 1971 میں ایک کمیٹی قائم کی گئ جس نے اس بات پر غور کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تب تک گلگت بلتستان میں جمود برقرار رکھتے ہوئے اس خطے کی قانونی حیثیت بھی متاثر کئے بغیراسے پاکستان کے ساتھ De ٖٖFacto انضمام جو نہ صرف انتظامی سطح پر ہو بلکہ معاشرتی، ثقافتی اور معاشی سطح پر بھی ہو، کے زریعے کام ثلایا جائے۔ یعنی پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں سال 1972 کے بعد اصلاحات کی شروعات کے ساتھ ایف- سی -آر اور راجگی نظام کا خاتمہ کرکے ایک متبادل نظام متعارف کروایا گیا- جسے سمجھنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ مقدمہ گلگت بلتستان پر حکومت پاکستان کا موقف کیا ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کو سمجھے بغیر گلگت بلتستان میں ایک قومی بیانیہ تشکیل دینا ممکن نہیں۔
لہذا یہ مضمون درحقیقت سرتاج عزیز کمیٹی رپورٹ برائے آئینی و انتظامی اصلاحات گلگت بلتستان” مارچ 2017 سے اقتباس ہے، جوکہ حکومت پاکستان کے وزارت امور خارجہ کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔
قارئین کی آسانی کے لیے آسان اردو زبان میں اس رپورٹ کے پیراگراف نمبر 27, تا 34 کا ترجمہ کرکے پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ ان کو مقدمہ گلگت بلتستان پر حکومت پاکستان کےموقف سے آگاہی ہو۔

File photo: Zulfikar Ali Bhutto discusses some point with his then adviser and former ambassador M.Yusuf Buch.

بقول سرتاج عزیز کمیٹی رپورٹ، 1972ء کے بعد گلگت بلتستان میں اصلاحات کے لئے حکومت پاکستان نے ناردرن ایریاز کمیٹی قائم کی، جس نے اس خطے کے لیے آزاد کشمیر کے طرز پر علحیدہ مجلس قانون ساز ادارہ بنانے کی تجویز کو رد کیا- تاہم ناردرن ایریاز کونسل کو با اختیار بنانے کی تجویز دی.
اس کمیٹی کی رپورٹ پر 9 جون 1972ء کو کابینہ کی کمیٹی نے غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ناردرن ایریاز کو اپنی علیحدہ شناخت برقرار رکھنا چاہیے اور اسے پنجاب، سرحد، یا آزاد کشمیر کے ساتھ نہیں ملانا چاہئے۔ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 16 جنوری 1973ء میں اس سفارش کی توثیق کر دی۔
اس رپورٹ کے مطابق 13 اکتوبر 1973 کو کابینہ کی ایک خصوصی میٹنگ میں ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کے اندر موجود حالات اتنے بہتر ہوں کہ ان سے متاثر ہوکر انڈیا کے زیر تسلط جموں وکشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کرے.-اور الحاق کا مقصد اس طرح ممکن بنایاجائے کہ اس سے اقوام متحدہ میں ہماری پوزیشن متاثر نہ ہو جائے اور اس مقصد کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کی کمیشن برائے انڈیا و پاکستان کی قراردادوں کو بھی ذہن میں رکھا جائے۔
تاریخ سے شغف رکھنے والے قارئین آسانی سے یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ سرد جنگ کے زمانے میں دو متحارب بلاک ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوئے اور سرد جنگ کی کوکھ سے ہی دیوار برلن نے جنم لیا تھا جس کے ذریعے جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا مگر مشرقی جرمنی میں غربت و افلاس کے شکار لوگ ہی دراصل اس جبری تقسیم سے تنگ تھے سو ایک روز وہ اپنی مشترکہ بقاء اور قومی وحدت کے لئے دیوار برلن پر ٹوٹ پڑے اور اس کا نام ونشان تک مٹا ڈالا اور اپنے ملک کی جبری تقسیم کو ختم کرکے دوبارہ” ایک قوم اور ایک ملک” بن گئے۔
ذولفقار علی بھٹو نے شاید دیوار برلن کے انہدام کے منظر کو ذہن میں رکھ کر یہ تجویز دی ہو مگر بھٹو کے اس تجویز کو آج تقریباً پچاس سال کا عرصہ گزر چکا ہے- لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج تک جموں وکشمیر کے لوگوں نے اس خونی لکیر کو توڑنے کی ایک بار بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی- اس کی ایک وجہ بظاہر آزاد کشمیر کے معروضی حالات اور وہاں بہنے والی شہد اور دودھ کی نہروں کا انہیں بخوبی علم ہے۔”
دوسری طرف آزاد کشمیر کے وہ نمائندے جو اس خونی لکیر کو روندنے کی بات کررہے ہیں انہیں اس تلخ حقیقت کا پتہ ہے کہ خونی لیکر کے اس پار انڈین زیر تسلط جموں وکشمیر میں شہد اور دودھ کی جگہ آج کل خون کی نہریں بہہ رہی ہیں !

بہرحال 1973 میں کابینہ کی خصوصی میٹنگ میں مندرجہ ذیل پوائنٹس طے کئے گئے:
1۔ماضی میں شمالی علاقہ جات کے ساتھ سیاسی اور معاشی انصاف نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ مایوس اور بیگانگی کا شکار ہوچکے ہیں- مگر ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے دیگر صوبوں کو حاصل ان تمام سہولیات سے وہ بھی لطف اندوز ہوں اور یہ سہولیات صرف صوبہ بننے کی صورت میں مل سکتی ہیں۔
2۔ شمالی علاقہ جات کو یا تو آزاد کشمیر کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے یا علحیدہ طور پر ان کی اپنی شناخت کے ساتھ رکھا انھیں رکھاجاسکتا ہے۔
شمالی علاقہ جات کے لوگ heterogeneous character کے حامل ہیں اور جغرافیائی اعتبار سے بھی آزاد کشمیر کے ساتھ ان کے انضمام کا کیس نہیں بنتا ہے۔
بہرحال ان کے پاس وسائل کی بھی کمی ہے اس لئے فوری پر ایک علیحدہ صوبائی حیثیت نہیں دیا جاسکتا ہے، چونکہ اس صورت میں صوبائی اسمبلی اور انتظامیہ کے خرچے زیادہ بڑھ جائیں گے۔
لہذا دس سال کے لیے انہیں وفاق پاکستان کے زیر انتظام ایک "خودمختار علاقہ” بنایا جائے اس کے بعد ان کو صوبہ کی حیثیت دی جائے۔
سال 1974ء میں محمد یوسف بچ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔
آزاد کشمیر اور کشمیر حکومت کی حثیت اور مستقبل اور ان کی حکومت پاکستان سے آئینی تعلق کے سوال پر غور کیا گیا۔
وزیر اعظم نے دو افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جو وزیر اعظم کے معاون خصوصی M.Y. Buch اور کابینہ کے سیکرٹری وقار احمد پر مشتمل تھی جنہوں نے اس سوال کا جائزہ لیا اور ناردرن ایریاز ڈویژن نے ایک پیپر میں شمالی علاقہ جات سے متعلق ان نکات کو شامل کیا۔
"اقوام متحدہ نے اپنی کمیشن برائے انڈیا وپاکستان کی قراردادوں مورخہ 13 اگست 1948 اور پانچ جنوری 1949 میں ناردرن ایریاز کو ریاست جموں وکشمیر میں شامل پوری ریاست جموں وکشمیر میں ہونے والی رائے شماری کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔”
اس کیس پر سیکرٹری قانون کے ساتھ مزید بات چیت کی گئی جس کا خیال یہ تھا کہ ناردرن ایریاز کو پاکستان کے ساتھ مکمل طور پر ملانے پر عالمی سطح پر کوئی سخت اعتراضات نہیں ہوسکتے ہیں۔اس بابت
ان کا استدلال مندرجہ ذیل تھا۔
1۔ UNCIP کی تیسری عبوری رپورٹ میں واضح طور پر ناردرن ایریاز پر بلا چیلنج پاکستان کی عسکری کنٹرول کا حوالہ دیا گیا ہے، ناردرن ایریاز لوکل اتھارٹی کے زیر انتظام ہے جن کو پاکستان کے سرکاری افسران کی مدر حاصل ہے۔
2۔ مورخہ دس مارچ 1948 کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے NWFP کے گورنر کو اپنے خط میں یہ بات واضح کیا ہے کہ گلگت ایجنسی کی سیاسی اور سول ایڈمنسٹریشن کو حکومت پاکستان کی Defacto ذمہ داری سمجھا جائے اور اس علاقے کی سیکورٹی ،لا اینڈ آرڈر سے متعلق تمام تمام معاملات کو اسی زمہ داری کے پیشِ نظر دیکھا جائے۔
3۔ UNCIP نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ گلگت کی موجودہ ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی نہیں ہوگی۔
4۔ پنڈت نہرو نے مورخہ 20 اگست 1948 میں UNCIP کے چیرمین کو لکھی ہوئی اپنی خط میں غیر اعلانیہ طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کے ٹروپس کا بعض جگہوں بشمول سکردو پر کنٹرول حاصل ہے اور انہوں نے استدعا کیا تھا کہ ان کو نکال کر ایڈمنسٹریشن ڈوگرہ حکومت کے حوالہ کیا جائے۔
5۔ناردن ایریاز کی سٹریٹیجک اہمیت بشمول قراقرم ہائی وے کی اوپننگ کے پیش نظر وفاقی حکومت پہلے سے ہی اس خطے کو ایڈمنسٹر کر رہی ہے۔
مندرجہ ذیل بالا بنیادوں پر سیکرٹری قانون نے سفارش کیا کہ
ا۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 1 میں ترمیم کیا جائے جس میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے لئے ویسے بھی ترمیم ہونی ہے،اس میں مزید ترمیم کیا جائے تاکہ ناردرن ایریاز کو پاکستان کے علاقوں میں شامل کیا جائے۔”
بہرحال The Buch Commission نے مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر سیکرٹری قانون کی سفارش کو رد کیا۔
1 ۔ 1947 میں آزادی کے وقت ، گلگت وزارت، استور , سکردو،اور کارگل کے حصے اور گریز کےتحصیل سابق ریاست جموں وکشمیر کے حصے تھے۔
2۔ قبائلی علاقے بشمول ناردرن ریجن میں صدرپاکستان کے عام معافی دینے کے اختیارات سے متعلق سوال پر 1964 میں بغور جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ 1962 کے آئین کے تحت یہ علاقے مغربی پاکستان کے صوبے کا حصے نہیں ۔
3۔ تمام ناردرن ایریاز کو مکمل طور پر پاکستان میں شامل کرنے کے بارے میں 1965 میں بھی غور کیا گیا تھا لیکن اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس خیال کو رد کیا گیا کہ ناردرن ایریاز کو پاکستان کے ساتھ شامل کرنے کے اس اقدام کو انڈیا expolite کریں گا اور اور پاکستان کا یہ اقدام UNCIP کی قراردادوں سے متصادم اور Status Quo میں تبدیلی کے مترادف ہوگا ۔ جیسے کہ ۔مسٹر آغا شاہی نے اس بارے میں اپنی ریورٹ دیا تھا۔
4:- اپریل 1971 میں صدر پاکستان کی ناردرن ایریاز کے لئے بنائی ہوئی کمیٹی نے بھی اس خطے کے لئے” سٹیٹس کو” بدستور برقرار رکھنے کی سفارش کی ، اس سے قبل یہی سفارش کیبنٹ کمیٹی آن اورگنایزیشن نے بھی کی تھی”
یعنی Status Quo برقرار رکھتے ہوئے سال 1994 میں ناردرن ایریاز کونسل لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا گیا۔
مگر اس سے قبل آزاد جموں اینڈ کشمیر ہائی کورٹ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کی بابت ایک اہم رٹ پٹیشن نمبر 61/1990 دائر کی گئی جس پر آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے 8 مارچ 1993 میں فیصلہ صادر کیا تھا جس بابت سرتاج عزیز کمیٹی رپورٹ خاموش ہے لہذا لیگل فریم ورک ارڑر پر روشنی ڈالنے سے قبل اس اہم تاریخی فیصلہ کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ تنازعہ کشمیر کے تناظر میں مقدمہ گلگت بلتستان پر عدالتی نقط نظر اور کشمیریوں کا موقف کیا ہے؟
بقیہ اگلے قسط میں۔

اشفاق احمدایڈوکیٹ گلگت میں مقیم ہیں اور وکالت کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں