گلگت بلتستان کا آئینی مسئلہ اور تبدیلی سرکار کا ناٹک


تحریر: احسان علی ایڈووکیٹ


گلگت بلتستان میں قاری حفیظ الرحمنٰ کی حکومت کی پانچ سالہ معیاد جون میں ختم ہو رہی ہے. تبدیلی سرکار نے نون لیگی حکومت کے بعد نئے انتخابات کے انعقاد کے بابت عبوری حکومت کے قیام کی اجازت حاصل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کیا تھا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ گلزار احمد کی سربراہی میں قائم سات رکنی لارجر بنچ نے حکومت کی درخواست کو نمٹاتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ وہ آرڈر 2018ء میں ترمیم کے بجائے سپریم کورٹ کی 17 جنوری 2019ء کے فیصلے کے تحت دی گئی "جی بی گورننس ریفارمز 2019ء” کے آرٹیکل 56(5) کے تحت عبوری حکومت تشکیل دے۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ وہ عدالت کو بتا دے کہ سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے کی موجود گی میں ایک منسوخ شدہ آرڈر 2018ء میں ترمیم کی اجازت کیسے دے سکتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے 17 جنوری 2019ء کے فیصلے میں حکومت پاکستان کو 14 دنوں کے اندر اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے واضح احکامات دیئے تھے مگر تبدیلی سرکار نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پہ ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا ہے بلکہ آرڈر 2018ء کے تحت گلگت بلتستان کے انتظامی عدالتی اور سیاسی معاملات چلا رہی ہے۔

تحریک انصاف  کی حکومت کو عبوری  ڈھانچہ  بنانے کے حوالے سے عدالت عظمیٰ سے اجازت لینے کی مجبوری اس لئے پیدا ہو گئی کہ آرڈر 2018ء میں نگران حکومت  بنانے کیلئے کوئی آرٹیکل موجود ہی نہیں اگر اس بابت معمولی سا ذکر بھی ہوتا تو حکومت کبھی بھی سپریم کورٹ کے علم میں نہ لاتی کہ گلگت بلتستان میں معاملات کس طرح چلا  رہے ہیں ۔

تبدیلی سرکار کو اپنی پسند کی عبوری حکومت بنا کر جی بی میں اگلے الیکشن جیتنے کی خواہش نے مجبور کیا کہ وہ منسوخ شدہ آرڈر 2018,ء میں ترمیم کے ذریعے   عبوری حکومت کی شق  شامل کرنے کے بابت سپریم کورٹ سے اجازت لیں۔ سپریم کورٹ نے اس بات پہ برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سےپوچھا کہ عدالت 17جنوری کے فیصلے کی موجودگی میں کس طرح ایک کالعدم آرڈر میں ترمیم کر سکتی ہے ؟ اسلئے مختصر آرڈر میں یہ حکم دےکر تبدیلی سرکار کو مزید مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ وہ جی بی گورننس ریفارم 2019ء کے تحت ہی عبوری حکومت قائم کرے۔ نیز عدالت عظمیٰ نے اپنے آرڈر میں فریقین پہ واضح کیا کہ عدالت عید کے فوراً بعد 17جنوری 2019 کے فیصلے پہ عمل درآمد اور اس فیصلے کی خلاف ورزیوں پہ حتمی فیصلہ دے گی۔

یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ راقم سمیت بہت سارے وکلاء کے بار بار مطالبے کے باوجود گلگت بلتستان  کےوکلاء کے کمزور  اورمصلحت پسند نمائندوں نے ابھی تک توہین عدالت کی درخواست عدالت میں جمع نہیں کرائی ہے۔ بلکہ فیصلے پہ عمل درآمد کیلئے درخواست دی ہے نیز سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی میں چیف جج سپریم کورٹ کی تقرری کا نوٹیفکیشن منسوخ کرنے کیلئے ایک متفرق درخواست بھی دی گئی ہے ۔مگر سپریم کورٹ کے ایک لارجر بنچ کے اپنے فیصلے میں دیے گئے واضح احکامات کو یکسر نظر انداز کرنے اور اس فیصلے کی مسلسل خلاف ورزیوں کو چیف جسٹس اور دیگر معزز جج صاحبان خود بھی گزشتہ سوا سال سے دیکھ رہے ہیں اور مختلف تاریخ  پیشیوں پہ سائلان کے وکلاء بھی ان خلاف ورزیوں کے بارے میں فاضل عدالت کی نوٹس میں لاتے رہے ہیں۔ مگر عدالت عظمیٰ ابھی تک بہت تحمل سے کام لیتے ہوئے حکومت کے خلاف کوئی سخت اقدام اٹھانے سے احتراز کر رہی ہے اور حکومت بھی بار بار فیصلے کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کو بار بار امتحان میں ڈال رہی ہے۔

اب یہاں ایک اہم سوال اٹھتا ہے کہ آیا سپریم کورٹ اپنے فیصلے کو واقعی بے توقیر ہونے دے گی یا اس فیصلے کی مسلسل خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت کے ذمہ دار عہدیداران کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے گی یا کم از کم ان تمام احکامات کو کالعدم قرار دے گی جو حکومت نے عدالتی فیصلے کی کھلم کھلا خلاف ورزی میں کئے ہیں۔

عدالت عظمیٰ کے نوٹس میں یہ بات بھی ہے کہ سال 1999ء میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے فیصلے پر 20سال گزرنے کے بعد بھی حکومت نے عمل درآمد نہیں کیا ہے۔ حالانکہ وہ فیصلہ گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے پر سپریم کورٹ کےموجودہ فیصلے سے کئی حوالوں سے زیادہ بامعنی اور بہت واضع فیصلہ تھا اور وہ 13 اگست 1948ء کی اقوام متحدہ کی قرارداد میں دیے گئے اختیارات کے قریب تر ایک نظام حکومت دینے کا حکم دیا گیا تھا اور جس میں واقع طور پہ وفاقی حکومت کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ چھ مہینے کے اندر گلگت بلتستان میں ایک خودمختار آئینی عدالتی نظام قائم کرے اور یہاں کے باشندوں کو اپنے منتخب نمائندوں کے زریعے اپنے اوپر خود حکومت کرنے کا حق دیا جائے۔

اسلئے سپریم کورٹ کا 1999ء کا فیصلہ 17 جنوری 2019ء کے فیصلے سے زیادہ بہتر فیصلہ تھا اور اسی لئے وکلاء تنظیموں اور دیگر درخواست دہندگان نے سپریم کورٹ میں سال 1999ء کے فیصلے پہ عمل درآمد کرانے کیلئے درخواستیں دی تھیں مگر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم لارجر بنچ نے سابقہ فیصلے پہ عمل درآمد کے احکامات صادر کرنے کے بجائے حکومت پاکستان کو گلگت بلتستان کے عوام پہ ایک اور انتظامی حکم نامہ کے ذریعے اسلام آباد سے براہ راست حکمرانی کا اختیار دے دیا۔جس کے باعث گلگت بلتستان کے 20 لاکھ محکوم  عوام پر آج بھی نوآبادیاتی نظام مسلط ہے۔ یہاں کی عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ میں ججوں کی تقرری کا اختیار براہ راست ایگزیکٹو کے پاس رکھا گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان کی اسمبلی ایک ڈمی ادارہ ہے ۔

اب بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس وقت ہے کہ وہ سوموٹو نوٹس کے ذریعے اپنے فیصلے میں ترمیم کرکے گلگت بلتستان میں عبوری ڈھانچہ دینے کا اختیار حکومت کو دینے اور  آرڈر کے تحت بے معنی الیکشن کرانے کی بجائے 1999ء کے اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کیلئے آئین ساز اسمبلی کے انتخاب کیلئے الیکشن کرانے کا واضع حکم دے۔


احسان علی ایڈووکیٹ بایاں بازو کے سرکردہ رہنماء اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن جی بی کے سابق صدر، اور جی بی بار کونسل کے سابق وائس چیئر مین رہ چکے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں