گلگت بلتستان کا وفاق سےگندم کے کوٹے میں اضافہ کا مطا لبہ

وزیر اعلٰی کی وفاق سے ترقیاتی منصوبوں پر کام اور فضائی سروس جاری رکھنے کا مطالبہ؛ سیف سٹی میں خراب کیمروں کو ٹھیک کرنے کی ہدایت؛ لاک ڈاون میں نرمی پر غور

بیورو رپورٹ

گلگت: گلگت-بلتستان کےوزیر اعلی حافظ حفیظ الرحٰمن نےوفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے ان کے صوبے کیلئے گندم اور دیگر ضروری اشیاء کے کوٹہ میں اضافہ کیا جائے اور ٖفضائی سروس کو جاری رکھا جائے۔ اور بڑی ترقیاتی سکیموں پو فنڈ جاری کیا جاسکے تاکہ ان پر کام کو جاری رکھی جا سکے۔

ان خیالات کااظہار انھوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں منعقدہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے گلگت بلتستان کے تقریباً 50 ہزار لوگ بیروزگار ہوکر ملک کے دیگر صوبوں سےاپنےخطے میں آچکے ہیں ۔
انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کی اس صورتحال وجہ سے مستقبل میں گندم کی کمی پیدا ہوسکتا ہے لہٰذا وفاقی حکومت 60ہزار گندم کی اضافی بوریاں گلگت بلتستان کیلئے فراہم کرے۔
وزیر اعلٰی نے گلگت بلتستان کیلئے پی آئی اے کی فضائی سروس کو بھی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔

اس سلسلے میں انھوں نے یقین دہانی کیا کہ گلگت اور سکردو ایئرپورٹوں پر کورونا وائرس کی روک تھام اور بچاؤ کے حوالے سے ایس او پیز کو مزید سخت کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں فضائی سروس کے ذریعے آنے والے تمام مسافروں کی سکریننگ یقینی بنائی جارہی ہے اور گھروں کے اندر قرنطینہ کے حوالے سے بھی پابند کیا جائے گا۔
حفیظ الرحٰمن کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں ناسازگار موسمی حالات کی وجہ کام کا موسم انتہائی محدود ہوتا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت متعلقہ اداروں کو میگا ترقیاتی منصوبوں پر پابند ٖفضا میں اور کورونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے تمام طے شدہ ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے بڑی بڑی ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھنے کیلئے اقدامات کرے۔

لاک ڈائون میں نرمی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وفاقی حکومت جو بھی فیصلہ کریں گے، ان کی حکومت گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے پیدا صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اور صوبائی کابینہ کی کمیٹی کے سفارشات کی روشنی میں ان فیصلوں پر عمل کروائے گی۔

کانفرنس کی تفصیلات بتاتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شمس میر نے کہاکہ وزیر اعلی نے مستقبل میں بھی کورونا وائرس کے خدشات و تحفظات سے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کو آگاہ کردیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان واحد خطہ ہے جہاں پر کورونا ریکوری ریٹ بہت بہتر ہے لیکن اس کے باوجود خطرات و خدشات موجود ہیں ۔کسی بھی وقت کورونا وائرس کسی مقامی مریض کے ذریعے سے ابادی میں پھیل کر مسائل پیدا کرسکتا ہے.

اس صورت حال کے پیش نظر قومی بیانیہ پر مکمل عملدرآمد کرینگے جسکا فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون کے حوالے سے پانچوں صوبوں کے وزرائے اعلٰی کے آپس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس میں جو طے ہوا ہے اس کو وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں رکھا گیا۔

میر نے کہا کہ لاک ڈاون میں نرمی کے سلسلے میں صوبائی حکو مت دیگر اداروں کے سا تھ مشورہ اور تیاری میں مصروف ہے۔

اس حوالے سے حکومت گلگت بلتستان کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن، ہوٹل منیجمنٹ، انجمن تاجران، ٹرانسپورٹر اور دیگر تنظیموں کے ساتھ بات چیت کررہی ہے اور لاک ڈاون میں نرمی پر غور ہورہا ہے اور عوام کو لاک ڈاون کے حوالے سے دی گئی ہدایت پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

سیف سٹی کے 42 سیس سی ٹی وی کیمرے خراب

منگل کے روز وزیر اعلٰی نے سیف سٹی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انھوں نے گلگت شہر میں جاری لاک ڈاؤن کا سی سی ٹی وی اور ڈرون کیمروں کے ذریعے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔ وزیر اعلیٰ کو صوبے میں جاری ہوم لاک ڈاؤن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 20 اپریل سے صوبے کے تمام شہروں میں صفائی مہم کا آغاز کیا جارہاہے۔

وزیر اعلٰی نے محفوظ شہر کے مختلف مقامات پر نصب 42 سی سی ٹی وی کیمروں کے غیرفعال ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ان کیلئے بجلی نہ ہونے کی صورت میں متبادل کا بندوبست کیاجائے۔
انھوں نے کہا کہ سیف سٹی انتہائی اہم پروجیکٹ ہے اس کی مدد سے گلگت میں جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے شہر کے گنجان آبادی والے علاقوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمروں کو نصب کرنے کی ہدایات دی۔

رمضان کے مہنے میں تیاریوں سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تمام مساجد میں جراثیم کش دواوں کاچڑکائو کروایا جائے گا اور سنٹائزرز نصب کئے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کورونا وائرس سے بچاؤ اور روک تھام کے حوالے سے صوبے میں جاری ہوم لاک ڈاؤن کی کامیابی میں علماء کے مثبت کردار کو سراہا اور ان سے اپیل کی کہ وہ ملک میں جاری اس وباء سے بچاؤ اور روک تھام کیلئے سماجی دوری کا خصوصی طور پر خیال رکھیں اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہدایت پر عمل کریں تاکہ کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے زندگیاں بری طرح متاثرہوئی ہے ہمیں اپنے روز مرہ معمولات ، دفاتر اور رہنے سہنے کے نظام میں تبدیلی لانی ہوگی۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہیلتھ ایڈوائزری پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا تاکہ کورونا وائرس سے بچا جاسکے۔ حکومت دفاتر، ہسپتالوں، تجاراتی مراکز اور پبلک مقامات کیلئے ہیلتھ ایڈوائزری کی روشنی میں خصوصی ایس او پیز بنائے گی جس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

وزیر اعلیٰ الرحمن نے متعلقہ حکام اور اداروں کو ہدایت جاری کی کہ گلگت بلتستان میں فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے سپلائی لائن کی بحالی یقینی بنائا جائے۔

انھوں نے یوٹیلٹی سٹورز میں ضروری اشیاء کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ خوراک کو ہدایت جاری کیا کہ وہ تمام یوٹیلٹی سٹورز کیلئے ضروری اشیاء فراہم کئے جائیں۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحٰمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پھلوں کی پیداوار کا موسم شروع ہوچکا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعبے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ زراعت اور باغبانی سے وابستہ افراد کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیر اعلی نے کہا ہے کہ صوبے میں آنے والے ذائرین کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا ہے اور مشکوک افراد کا بھی کورونا وائرس کے ٹیسٹ جاری ہے۔ صوبے میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کے استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے خدمات سرانجام دینے والے افراد کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا جارہاہے۔

بیکری، نائی کی دوکانوں اور فروٹ منڈیوں میں کام کرنے والوں کا اعداد و شمار اکٹھا کیا ہے جن کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ لازمی کروایا جائے گا۔

کرونا اپ ڈیٹ

صوبائی وزیر اطلاعات نے منگل کو کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال سے متعلق جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ کورونا وائرس کے مزید 20 افراد صحتیاب ہوئے ہیں جن میں سے 2 کا تعلق گلگت سے اور 18 کا تعلق ضلع نگر سے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ایک تازہ متاثرہ مریض کی تصدیق ہو گیا ہے جس کا تعلق سکردو سے ہے۔ اس طرح گلگت بلتستان میں ایکٹیو کیسز کی تعداد 75 ہوگئی ہے۔ ٹوٹل مریضوں کی تعداد 234 ہے۔
بلتستان ڈویژن میں اس وقت چھ مریض ہیں۔جن میں تین اسکردو، تین گانچھے. استور اور دیامر سے نو مریضوں کی تصدیقہو چکی ہے. جبکہ چھ صحتیاب ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں