گولین واٹر سپلائی سکیم ایک سال بعد بحال، چترال کو پانی کی فراہمی شروع

رپورٹ: گل حماد فاروقی

چترال: گولین آب رسانی کے منصوبے کی 15 ماہ بعد بحالی سے چترال شہر کو پانی کی فراہمی شروع ہو گئی اور لوگوں کو سکھ کا سانس لینا پڑا.

گولین سے چترال شہر کو پینے کے پانی کا پائپ لائن 7 جولائی 2019 کو گلیشیر سے بننے والے جھیل کے پھٹنے سے سیلاب نے تباہ کیا تھا۔ سیلاب کے باعث علاقے میں متعدد مکانات، زیر کاشت اراضی، دکانیں، سڑکیں، پل، آبپاشی کی نہریں بھی تباہ ہوے تھے۔ جس کے نتیجے میں چترال ٹاؤن اور مضافات میں پچاس ہزار لوگ پینے کی صاف پانی سے محروم ہو گئے تھے۔
اس منصوبے کی بحالی کیلئے علاقے کے لوگوں نے کئی بار احتجاج بھی کئے مگر حکومت ایک سال تک فنڈ فراہم نہ کرسکی۔

عوام کے پر زور مطالبے پر صوبائی حکومت نے اس منصوبے کیلئے پونے چار کروڑ روپے کا فنڈ منظور کرکے اس کی بحالی پر 14 جون 2020 کو کام شروع ہوا. تاہم 13 جولائی کو ایک بار پھر گولین میں سیلاب آیا اور اسے ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہونا پڑا۔

تاہم عوام کے دباؤ پر متعلقہ تعمیراتی کمپنی نے دن رات محنت کرکے اس منصوبے کو بالآخیر پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ کیلاش نے اس منصوبے کا افتتاح کرکے چترال شہر کو پانی کی فراہمی بحال کردی۔

اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلیٰ محمود خان کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے سیلاب کی وجہ سے تباہ شدہ منصوبوں کی بحالی کیلئے پچھلے سال 40 کروڑ 70 لاکھ روپے دئے تھے جس سے مختلف منصوبوں کی دوبارہ بحالی ہوئی۔ اس سال جو سیلاب آیا تھا اس کے لئے بھی وزیر اعلیٰ نے 65 کروڑ روپے کا گرانٹ دیا تھا. انہوں نے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا جوچترال کی تعمیر و ترقی میں کافی دلچسپی لیتے ہیں۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈیزاسٹر عبد الولی خان نے بام جہان کو بتایا کہ اس منصوبے کی بحالی سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو فائدہ ہوگا۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیرنگ کے ایگزیکٹیو انجنیر محمد زاہد نے بحالی کئ کام پر اطمنان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس مرتبہ اسے نہایت محفوظ ر استے سے لایا گیا ہے۔ اب عوام کو پانی کا مسئلہ نہیں ہوگا۔

تعمیراتی کمپنی کے ڈائریکٹر فہیم اعظم نے بتایا کہ اس منصوبے کو بہت پہلے مکمل کرلیتے اگر دوبارہ سیلاب نہ آتا تاہم ان کی ٹیم نے دن رات محنت کرکے اسے دو ماہ پہلے مکمل کروایا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کو قبل از وقت پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اس بار اس کی حفاظت کیلئے مختلف جگہوں میں کنکریٹ کا کام بھی ہوا ہے اور پائپ لائن کو دریا کی بجائے سڑک کے کنارے لایا گیا ہے تاکہ آئندہ سیلاب کی وجہ سے اسے نقصان نہ پہنچے۔

گولین واٹر سپلائی سکیم کی بحالی پر علاقے کے لوگ نہایت خوش ہیں کیونکہ یہاں کے لوگ پندرہ ماہ تک پانی کیلئے ترس رہے تھے اب لوگوں کا پانی کا مسئلہ حل ہوگا۔ واٹر سپلائی سکیم کی افتتاح کے موقع پر تحصیل میونسپل آفیسر مصباح اللہ، WSU کا عملہ اور علاقے کے معززین بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں