صحافی ہارون رشید اور چینل 92 کے خلاف عمار علی جان کی پیمرا میں درخواست دائر

بام جہان رپورٹ

ڈاکٹر عمار علی جان نے صحافی ہارون رشید کے چینل 92 پر اپنے کردار کشی پر پیمرا میں ان کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔

اپنی ایک ٹوئیٹ میں عمار علی جان نے لکھا کہ انہوں نے اپنے وکیل جنت علی کلیار کے ذریعے پیمرا میں ہارون رشید اور چینل 92 کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔

"بغاوت اور غداری کے الزامات نے پاکستان میں بہت سی زندگیاں تباہ کی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پیمرا شہریوں کے خلاف ایسی خطرناک مہم پر ایکشن لیتے ہوئے اسے ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔”

پیمرا میں دائر کی گئی درخواست میں ڈاکٹر عمار علی جان نے استدعا کی ہے کہ اس پروگرام کو غیر معینہ مدت کے لئے معطل کیا جائے اور چینل کو پابند کیا جائے کہ اسی پروگرام کے اوقات میں ان سے غیر مشروط معافی مانگے اور اسے اتنی ہی واضح جگہ دی جائے جتنی اصل پروگرام کو دی گئی تھی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ پیمرا سیکشن 29 کے تحت چینل پر سخت ترین جرمان عائد کرے تاکہ یہ ایسی حرکت دوبارہ نہ کرے اور نہ ہی اپنے ملازموں کو لوگوں کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگانے کی اجازت دے جب کہ یہ لوگ اپنا دفاع کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پیمرا چینل 92 کو پابند بنائے کہ وہ کم از کم اپنے ایئر ٹائم کا 5 فیصد حصہ عوامی مفاد کے معاملات پر بات کرنے کے لئے وقف کرے جو کہ پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 20 میں تمام چینلز کے لئے لازمی ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ہارون رشید نے چینل 92 پر ایک پروگرام کے دوران عمار علی جان پر غیر ملکی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

ہارون رشید نے اس پروگرام کے دوران پروفیسر پرویز ہود بھائی پر بھی 1985 سے مستقل پاکستان کے خلاف کام کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ہود بھائی امریکی ایمبیسی کا نوکر ہے اور پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف بولتا ہے، لیکن بھارتی نیوکلیئر پروگرام سے اسے کوئی مسئلہ نہیں، جو کہ صریحاً بے بنیاد الزام تھا۔

انہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ پورے جنوبی ایشیاء اور عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف اواز بلند کرتے رہتے ہیں اور مختلف اخبارات میں مضامیں لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں