‘ہم آزاد ملک ہیں’


تحریر ڈاکٹر عاصم سجاد اختر

عمومی طور پر ماہِ رمضان جب قریب آتا ہے تو پاکستان میں چاند دیکھنے کے عمل کے مسئلہ پر ہلچل مچ جاتا ہے۔ کئی سالوں سے یہ تنازع چلا آرہا ہے جس میں ایک طرف وہ عالمِ دین ہیں جو کہ صرف خاص شہادتوں کو قبول کرتے ہیں تو دوسری طر ف عام لوگ چاند کو دیکھنے پر رمضان شروع کرنے کا علان کر لیتے ہیں، خاص طور پر پختونخوا ءمیں۔ اس سے قطعہ نظر کہ سائنس نے ایسے معاملات کو بے حد آسان بناچکا ہے، سوال یہ ہے کہ باقی مسلم ممالک میں ایسے تنازعات کی خبر کیوں نہیں ملتی؟ ایران اور سعودی عرب میں مذہبی حلقوں کی باقائدہ حکومتیں قائم ہیں مگر ادھربھی چاند دیکھنے کا عمل اتنا پیچیدہ نہیں ہوتا جتنا کہ خدا دادِ پاکستان میں ہوتا ہے۔

اس سال چاند دیکھنے کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے کیونکہ اس سے بھی بڑا تنازع پاکستان کے حکمرانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس اورلاک ڈاؤن پر مختلف طرز کے فیصلے کئے جارہے ہیں لیکن ہمارے ہاں اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ ماہِ رمضان میں عام شہریوں کو مسجد جانے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے میڈیا سے گفتگو کے دوران وسوق سے کہا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے چنانچہ ہم زبردستی لوگوں کو مسجد جانے سے نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کھل کر تو نہیں سمجھایا مگر شائد آزاد ملک ہونے کا حوالہ اس لیے دیا کہ باقی مسلم ممالک میں حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ رمضان کے دوران مساجد میں جمع ہو کر نماز اادا کرنے پر پابندی عائد ہوگی۔یعنی کہ پاکستان میں چونکہ یہ پابندی عائد نہیں کی گئی لہذا ہم اپنے آپ کو آزاد ملک تصور کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید فرمایا کہ اس منظر کو کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے کہ مولوی اور عام لوگ جو کہ مرضی سے مسجد جارہے ہوں ان کو پکڑ کر جیل میں بند کیا جائے؟
پاکستان کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے کہ جس میں مذہب کو سیاست میں لایعنی کے خمیازے بہت عرصے تک بھگتنے پڑے۔ کرونا نے جہاں بہت سے دیگر تضادات کو ظاہر کردیا ہے تو مذہب اور ریاست کے تعلق کے مسئلہ کو بھی کھل کرموضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ کاش کہ یہ مسئلہ محض بحث کے دائرے تک محدود رہتا: سچ یہ ہے کہ رمضان میں بڑی تعداد میں عام پاکستانیوں کے مساجد میں جمع ہونے کے بہت سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ہم ایک بے مثال عالمی وباء سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایک غیر معمولی صورتِ حال ہے اور ہمیں اپنی تاریخ سے کچھ تو سبق سیکھناچاہیے۔

اس ضمن میں سب سے اہم مثال اس پالیسی کی ہے جس کا بظاہر آغاز 1977ء میں امریکہ اور سعودی عرب کی مدد سے ہوا۔ جہاد کے نام پر عسکریت پسندوں کا بڑے پیمانے پر پاکستان میں پرورش کی وجہ سے آج دن تک نہ صرف پاکستان بلکہ سارے خطہ کو اور خاص طور پر افغانستان میں آگ برس رہی ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جب سے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت نے سابقہ پالیسی کو ختم کر کے ”دہشت گردی کیخلاف جنگ“ کا حصہ بننے کا اعلان کیا تھا اسے تقرینا 20سال گزر چکے ہیں ۔ یہ الگ مسئلہ ہے کہ ”دہشت گردی“ کیا ہے یا اس کیخلاف ہونے والے نام نہاد جنگ سے کس کو فائدہ اور نقصان ہوا۔ فلحال یہ کہنا کافی ہے آج بھی ہمارے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں تاریخ ایسے پڑھائی جاتی ہے جیسا کہ ہم 1980ء؁ کی دہائی میں جہاد کر رہے ہیں۔ کتابوں میں بتایا جاتا ہے کہ پاکستان خدا کی طرف سے دیا ہوا تحفہ ہے جو کہ ہندوؤں کے غاصبانہ عزائم سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے بنایا گیا۔ نہ انگریز سرکار کا مذہب کو سیاست میں متعارف کرنے کے کردار کے حوالے سے ذکر ہوتا ہے اور نہ ہی ہمارے خطہ میں رہنے والے مختلف قوموں ( پشتون، بلوچ، پنجابی، سندھی، سرائیکی، کشمیری، گلگت بلتستانی وغیرہ) کی تہذیبوں اور تمدن کے متعلق سپڑھایا جاتا ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت کو یہی سمجھایا جاتا ہے کہ تحریکِ پاکستان کا مقصد اسلامی ریاست کا قیام تھا اور یہ کہ ہمسائیہ ممالک کی ایماء پر کام کرنے والے پاکستان کے اندر شر پسند عناصر مستقل پاکستان اور اسلام کیخلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ کارپوریٹ میڈیا کے کردار کو اس کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ بہت سے پاکستانیوں کے مذہبی جذبات ابھارنا آسان کیوں ہے۔

واپس آتے ہیں موجودہ مسئلہ کی طرف: یاد رہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خاں صاب بالخصوس اس با ت پر زور دیتے آرہے ہیں کہ ہمارے ملک میں معاشی لاک ڈاؤن کے نتیجے میں غریب عوام کا بھوک سے مر جانے کا خدشہ ہے لیکن مساجد کھولنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے غریبوں کی معاشی بدحالی کا حوالہ تک نہیں دیا۔ اگر حکومت کی حقیقی معنوں میں ترجیح غریبوں کی امداد کرنا ہے تو ان کو اس بات پر توجہ دینا ہوگی کہ احساس پروگرام کے رقم اور اس کے ساتھ ساتھ رمضان میں راشن ہر گھرانے تک کیسے پہنچا یا جائیں۔ مساجد میں لوگوں کو جمع کرنے سے محض وائرس کے پھیلاؤسے غریب عوام کا متاثر ہونے کا امکان بڑھے گا۔

ویسے تو موجودہ تنازع میں پی ٹی آئی اور عمران خان صاحب منظر عام پر ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ مذہب اور ریاست کا یہ دیرینہ مسئلہ اس حکومت کا پیدا کردہ نہیں ہے۔ریاست کے غیر منتخب اداروں سے ہمیں زیادہ کھل کر اس مسئلہ پر سوال کرنے کی ضرورت ہے۔ اعلی عدلیہ نے گزشتہ دنوں کرونا سے نمٹنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی پر تنقید کی مگر رمضان میں مساجد کے کھلے رکھنے کے حوالے سے کوئی مداخلت نہیں کی۔ عدلیہ سے زیادہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا مذہبی حلقوں سے تعلق اور اثر ہے، لیکن اس طرف بھی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

در اصل جب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ پاکستان آزاد ملک ہے تو وہ سب کی بات نہیں کرتے۔ یہاں پر مذہب اور ریاست کے بارے میں تنقیدی نکتہ نظر رکھنے والوں کو ہمیشہ ”قومی سلامتی“ کے لیے خطرہ تصور کیا گیا۔ہمسائیہ مما لک کے ساتھ دوستی کرنا بھی خطرناک، صحت اور تعلیم پر خرچ کرنا اور دفاعی بجٹ کم کرنا بھی خطرناک، پارلیمان کو با اختیار اور ریاست کے غیر منتخب اداروں کو حد میں رہنے کا مطالبہ بھی خطرناک اور مجموعی طو ر پر طاقتور حلقوں کی پالیسوں پر عام شہریوں کا سوال کرنا بھی خطرناک۔

کرونا کی وباء کے سامنے دنیا کی سب سے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی قومی سلامتی کی پالیساں ناکام ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ کی کھوکلی نعرہ بازی سے کتنا نقصان ہوتا ہے وقت ہی بتائے گا مگر پاکستان میں ”آزاد ملک“ کا نعرہ لگانا عوام کے ساتھ زیادہ ہی تکلیف دہ مذاق ہے۔ عام حالات میں بھی حکومت قرضوں پر چلتی ہے اور آج کل تو ہر طرف سے پیسے مانگے جارہے ہیں۔ کیا یہ آزاد ملک کی نشانی ہے؟ کیا امریکہ اور سعودی عرب کی سرپرستی میں جنگیں لڑنا آزاد ملک کی نشانی ہے؟

اس رمضان میں اور آنے والے وقت میں بھی پاکستان اور سب سے زیادہ اس کے محنت کش عوام، عورتوں، مذہبی اقلیتوں، مظلوم اقوام اور دیگر استحصال زدہ حلقوں کا مفاداس بات میں ہے کہ مذہب اور ریاست جیسے معاملات پر بحث کو خطر ہ نہیں بلکہ صحت مند سماج کی تعمیر کالازمی جز تصور کیا جائے۔ صدر عارف علوی جب کہتے ہیں کہ مساجد جانے والے شہریوں کی زمہ داری ہے کہ وہ ”سوشل ڈسٹنسنگ“ کے اصول کا احترام کریں تو وہ اس بات کو بھلا دیتے ہیں کہ پاکستان کے بیشتر شہریوں کا مخصوس تصور ِ کائنات ہے جو کہ ایسے نعروں میں ظاہر ہوتا ہے کہ ”کورونااسلام کیخلاف خلاف سازش ہے“ یا ”کورونا ہمارے گناہوں کی وجہ سے خدا کی طرف سے سزا ہے“۔ اس تصور کو وقت ہی تبدیل کر سکتا ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ اور مستقل دونوںحکمران یہ بات تسلیم کریں کہ 72 سال سے زائد عرصے میں مذہب کو سیاسی ہتھیا ر بنانے کی پالیسی سے وسیع تر عوامی حلقوں کو نقصان ہوا ہے۔

شائد اس بات کی توقع رکھنا فضول ہے کہ ہمارے حکمران کچھ بھی تاریخ سے سیکھنے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان واحد ملک نہیں ہے کہ جس میں کرونا وباء سے فرسودہ اور عوام دشمن معاشی و سیاسی نظام کے تضادات بے نقاب ہونے کے باوجود فوجی، مالیاتی اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا احتساب کے لیے عوام کی منظم قوت موجود نہیں ہے۔ ہندوستان پر نظر ڈالیں تو وہاں پر مذہبی نفرتیں بد ترین طریقہ سے بڑھائی جارہی ہیں اور سوچنے سمجھنے والے ہر انسان کو یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ خاموش رہے گا یا بڑھتے ہوئے ظلم و جبر کی لہر کیخلاف سیاسی جدو جہد کا راستہ اختیار کرے گا۔ پاکستان میں شروع دن سے بہادر لوگ رہے ہیں جنہوں نے مذہب کے سیاسی استعمال کیخلاف آواز بلند کی ہے، اور آج بھی کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہب اور ریاست کو الگ کرنے کے ساتھ ساتھ امن، برابری، رواداری اور ایسے تمام اہداف کے لیے ہمارے ملک کے تمام سوچنے سمجھنے والے حلقے جدو جہد کا حصہ بنیں۔


ڈاکٹر عاصم سجاد اختر ایک استاد اور، بایاں بازو کی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء ہیں ۔ وہ قائد اعظم یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سےخدمات انجام دے رہے ہیں
@AasimSajjadA

اپنا تبصرہ بھیجیں