ہندرپ واقعہ کے خلاف گوپس میں آج دھرنا ہوگا

تحری: عنایت ابدالی

ہندرپ واقعہ اوراغوا شدہ نوجوانوں کی بازیابی میں ناکامی کے خلاف آج ہفتہ کے روز20 جولایی کو گوپس کے مقام پرعوام کا دھرنا ہوگا.
اس کا فیصلہ عوامی ایکشن کمیٹی نے گلگت بلتستان حکومت کو دی گیی 24 گھنٹے کی الٹی میٹم ختم ہونے اورعوام کے تین مطا لبات کو پورا کرنے میں حکومت کی ناکامی کے بعد آج ایک ہنگامی میٹنگ میں کیا گیا.
دھرنا گوپس شہرکے بازار میں 9 بجےشروع ہوگا۔ ایکشن کمیٹی نے گوپس،یاسین، پونیال اور اشکومن کے عوام اور بلخصوص نوجوانوں سے بھرپورشرکت کی اپیل کیں۔
غذر کے عوام ہندراپ نالے سے تین دن قبل کوہستان سے 30 مسلح افراد کی دراندازی اورچار جوانوں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے جانے پر شدید احتجاج کر رہے ہیں.
غذر کے عمایدین اورسیاسی رہنماوں نے مغوی جوانوں کو بازیاب کرانے کےلیے گلگت بلتستان حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ اور پولیس کی غفلت اور بے حسی پر ایس پی غذر کو معطل کرنے سمیت نالےمیں فورس تعینات نہ کرنےکی صورت میں گاہکوچ کی طرف لانگ مارچ کرنے کا دھمکی دیا تھا.
اور تحصیل پھنڈر کی جانب لانگ مارچ کا اغاز کیا تھا ۔
پھنڈرمیں احتجاجی جلسے سے مختلیف سیاسی و سماجی رہنماوں نے اپنے خطاب میں حکومت اور پولیس پرشدید تنقید کیں. جلسے سے خطاب کرتے ہوے ہندراپ کے تاج اکبرجو آفرین ملک کے غنڈوں سے بچ کے واپس آیے تھے، نےاپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے غذر پولیس کا پول کھول دیا. انہوں نے ہندراپ جلسے میں ڈی ایس پی اکبرحسین کے تعصبانہ اوربزدلانہ رویہ بھی تنقید کیا۔
یاد رہے کہ عوام نے کیی بار مطالبہ کیے تھے کہ ہندراپ نالہ میں پولیس تعینات کیے جاٸے مگر ضلعی انتظامیہ اورحکومت کی تاخیری حربہ کے نتیجے میں یہ سانحہ رونما ہوگیا۔
اس پر پورے گلگت بلتستان اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں بسنے والے گلگت بلتستان کے باشندوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڈ گیی ہے اور سراپا احتجاج بنے ہوے ہیں.

اس سلسلے میں جمعہ کے روز اسکردو شہر میں سول سوسسایٹی کے کارکنوں نے یادگار چوک میں ایک مظاہرہ کیا.
مظاہرہں نے مختلیف پلے کارڈز جن پرہندراپ واقعے کی مذمت، مغوی جوانوں کی بازیابی اور گلگت بلتستان کے سرحدوں کی خلاف ورزٰی کو روکنے کے مطالبات درج تھے.
مظاہرین سے آصف ناجی ایڈووکیٹ، نجف علی ایڈووکیٹ، شفا علی اور دیگر رینماوں نے خطاب کیا.اورغذر پولیس کی نااہلی، ایس پی کی تعصبانہ رویہ کا مذمت کیا گیا. اورحکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مغوی نوجوانوں کو فلفوربازیاب کرا یا جاے اور مجرموں کو قرارواقعی سزا دی جاے.


جی بی بچاو تحریک

گلگت بلتستان کے مختلیف نوجوانوں اورطلبا تنظیموں کا کراچی میں ایک ہنگامی اجلاس بروزجمعہ ہوا جس میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کی ظلبا اور نوجوانوں کی تنظیموں نے بھرپورشرکت کیں. اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے سرحدات اوربنیادی حقوق کے لیے تحریک چلانے کے لے لاھہ عمل طے کرہں گے.
انھوں نے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں اغوا شدگان کے خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں. ہندراپ کے عوام جو فیصلہ کریں گے اس کو مدنطر رکھتے ہوئے اگلے لائحہ عمل کا اعلان ہفتہ کے روز کریں گے.
اجلاس میں زریک ایک نوجوان کارکن احتشام خان نے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بسری، تھور، خنجراب، بابا غندی کی زیارت گاہ، شگر، طورمک اوردیگرعلاقوں میں اس طرح کے واقعات رونما ہو چکے ہیں. اسلیےگلگت بلتستان کے سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا. اس سلسلے میں کراچی میں سلسلہ وار مظاہروں کے انعقاد کیا جائے گا.

اجلاس میں یہ موقف اختیارکیا گیا کہ ریاست کی قبضہ گیر پالیسی کے نتیجے میں یہ متنازعہ خطہِ اب غیر محفوظ ہو چکا ہے اور ایک مشترکہ جدوجہد اب ناگزیر ہو چکی ہے. نوجوان رہنماوں نے اس موقع پر تمام گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو مسلکی وعلاقائی عداوتوں اور تفرقے سے بالاتر ہو کر مکمل شعورو آگہی اور اتحاد کے ساتھ خطے کے حقوق اور تعمیر و ترقی میں اپنا کردارادا کرنا ہوگا.
اجلاس میں موجود ایک نوجوان رہنما عنایت بیگ نے بام دنیا سے بات کرتے ہوے کہا کہ گلگت بلتستان کے نوجوان اس تمام معاملے پر باریک بینی سے غورکر رہے ہیں. ہم خطے کے نوجوانوں تک اپنی سرحدوں کے تحفظ کا پیغام لے کر جانا چاہتے ہیں.
آنھوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی گلگت بلتستان کے سرحدی حدود کی پامالی ہوتی رہی ہے. جس کےنتیجے میں پہلے کوہستان کو ہم سے الگ کیا گیا، چترال کاٹا گیا، اقسا ئی چن، لداخ پر قبضہ ہو چکا، اور شندور، پھنڈر، ہندرپ وغیرہ پردعوے موجود ہیں. بَسَری سے شندور تک دیامر, گلگت بلتستان ڈویژن پر اس خطے کے 25 لاکھ محنت کش لوگوں کا ملکیتی حاکمیتی حق و اختیار موجود ہے.اجلاس میں شریک ایک اور نوجوان رہنما قاری فاروق نے کہا کہ اپنی دھرتی ماں گلگت بلتستان کے حق کی خاطر یہاں کے عوام نسل، مسلک، زبان اورعلاقایت سے بالاتر ہو کر متحد ہیں اورانشاء اللہ متحد رہیں گے.
سوشل میڈیا پراس واقعے کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے.
سینیر وکیل اور انقلابی رہنما احسان علی ایڈووکیٹ نے اپنے فیس بک پیج پرلکھا کہ "یوں تو پورے گلگت بلتستان میں عوام دشمن نو آبادیاتی افسرشاہی کا راج ھے مگر ضلع غذر میں ایک مخصوص خفیہ ایجنڈے کے تحت پولیس ضلعی انتظامیہ اوردیگر اداروں میں غذردشمن افسران کو سالہا سال تک مسلط رکھا جاتا ھے. حکومت کی طے شدہ پالیسی اور گورنمنٹ سروس رولز کے تحت کسی بھی انتظامی اور پولیس افسر کو ایک ضلع میں زیادہ سے زیادہ تین سال تک رکھا جاتا ھے اس کے بعد لازمی طور پہ اس کا تبادلہ کیا جاتا ھے. مگر ضلع غذر میں اس حکومتی پالیسی اور قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جاتی رہی ھے-
آنھوں نے سوال کیا کہ "کیا شندور میں مسلسل خیبر پختونخوا کے انتظامیہ کی دراندازی کو روکنے میں ناکامی اوراب ہندراپ میں غنڈوں کی کھلم کھلا بدمعاشی اورمقامی نہتے باشندوں کو یرغمال بنانے پہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والی غذردشمن انتظامی افسران کے خلاف اپنے فرائض منصبی کو بروئے کار لانے میں مکمل ناکامی اورنااہلی پہ انہیں ملازمت سے فارغ نہیں کرنا چاہیئے؟”

اپنا تبصرہ بھیجیں