ہندراپ کیس:حقائق اورپولیس کےدعوے

تحریر: عنائیت ابدالی

Four youg men kidnapped by armed men from Handrapo last Wednesday with KP police

اہلیان ہندراپ اورآفرین ملک کا کیس 2014 جولاٸی سے جاری ہیں ۔اس شخص نے پہلے عوام سے قلنگ دیکر نالہ میں بھیڑبکریاں رکھا- دوسال بعدعوام کو قلنگ دینے سے انکارکیا اورکورٹ سےحکم امتناعی حاصل کیا۔ اس دوران عوام نے سیشن کورٹ سے رجوع کیں-سیشن کورٹ نےہندراپ کےعوام کےحق میں فیصلہ دیا اورعوام نے آفرین ملک کو نالے سے بھگانے میں کامیاب ہوگیے۔ اس دوران عوام نے ہندراپ نالے میں پولیس تعینات کرنے کےلیےعماٸدین کے ذریعے حکام بالا سے رابطہ کیے مگر کافی کوششوں کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔
عماٸدین ہندراپ چیف سیکرٹری اوردیگرحکام سے دوبارہ ملے. انہوں نے ہندراپ نالے میں پولیس تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پرغذرپولیس ہندراپ نالے نہیں بیجھے گیئے۔ اس دوران ایس پی غذرعماٸدین کو قاٸل کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ افرین ملک کو نالے میں رہنے دیا جاٸے مگرعوام پولیس کی لیت ولعل اور آفریں ملک کے لئے نرم گوشہ کو دیکھ کرمسقبل میں پیش آنے طوفان کا صحیح اندازہ لگا چکے تھے اسلئے آنھوں نے تہیہ کیا کہ افرین ملک کو مزید برداشت کرنے کا مطلب مزید مساٸل کودعوت دینے کے مترادف ہے۔
عوام آفرین ملک کو نالے سے اپنی مدد آپ کے تحت بھگاتے رہے مگر پولیس خاموش تماشائی بنے رہے۔
ہندراپ واقعہ سے ایک دن پہلے ایس ڈی پی اونے گوپس نالے کا دورہ کیا اورلوگوں کے سامنے بیس مسلح کوہستانیوں کے ساتھ سازبازکرکے ان کو واپس بھیج دیا جس سے دراندازوں کوشہہ مل گئی اورعوام قانون کا احترام کرتے ہوئے چارنوجوانوں کو اغوا ہوتے دیکھتے رہ گیے۔
اغوا کاروں نے چار کو یرغمال بنایا اورتین کوواپس بیھج دیا تاکہ گائوں والوں کو خبردے سکے اوروہ زمین کے حوالہ سے مزاکرت کےلیے ہندراپ آجاٸیں۔
عوام نے اسی وقت پھنڈرتھانے میں 27 مسلح افراد کے خلاف ایف اٸی اردرج کیے۔
اسی رات 2 بج کر35منٹ پرایس ایچ او مرزا حسن 12جوانوں کے ساتھ ہندارپ پہنچ گیا اورگائوں سے بھی جوانوں کا ایک دستہ ان کے ہمراہ ہوگیا۔
رات کےتقریباّ 3 بجے ایس ڈی پی او گوپس اکبرحسین کے ساتھ 8 مزید جوان ہندراپ نالہ چلے گیئے ان کے ساتھ بھی ان کے سامان اٹھانے گاوں سے چند افراد چلے گیے۔
اگلے دن ایلیٹ فورس کے دو گاڑیوں میں جوان ہندراپ پہنچ گیے۔ گائوں والوں نے ان کودوپہرکا کھانا دیا- مگر شام کو معلوم ہوا کہ وہ گاوں کے اخرمیں ڈیرا ڈالے ہوٸے ہیں۔
دو دن کے بعد گائوں کے جوان واپس آگیے اوربقول ان کے ایس ڈی پی او نے جوانوں کو سرحد پار جانے سے روکے رکھا ۔اس وجہ سے گائوں کے نوجوان واپس آگئیے۔ پولیس ہندراپ سے واپس آنے کے بجاٸے تین دن کے بعد چھشی نالہ سےہوتے ہوٸے کومیلہ پہنچ گیے اوراس وقت تک چاروں مغوی جوانوں کو خیبر پختونخواء پولیس نے اغواکاروں سے چھڑا کےاپنے تحویل میں لئیے تھے۔
دوسری جانب ایلیٹ فورس کے جوان دو دن ہندراپ گاوں ہی میں بیٹھ کر گلگت واپس روانہ ہوگیے تھے۔
اغوا کاروں نے تین دن ہمارے نوجوانوں کو اپنے پاسیرغمال رکھنے کےبعد چوتھےدن ان کو لیےکرنکلےان کو ہتھیارآن کے ہاتھ میں تھما دیا اور دھمکی دی کہ ہتھیاروں کی موجودگی سے انکارکرنے کی صورت میں قتل کردیے جائوگے۔۔۔
اغوا کار پلان کے مطابق ایک ایک کر کےراستے میں ادھرادھرہوتے گیے جب ایک اغوا کاررہ گیا توخیبرپختونخواءپولیس کے چوکی کے قریب پہنچ گیے اور چاروں مغویوں کوپولیس کے حوالے کرنے کے بعد وہ شخص بھی وہاں سےغاٸب ہوگیا ۔
پولیس نے ان سے ہتھیار لینے کے بعد ایس ایچ او کے پاس لے کرگئے وہاں ضروری کاررواٸی کے بعد ان کو ایس پی کے پاس لے کرگئیے۔ ایس پی کے پاس گلگت سے پولیس افیسرلیاقت پہنچ گیا اور ایس پی نے مزید کارواٸی کے بعد چاروں جوانوں کوحوالہ کردیا۔
جب لڑکے راتوں رات گھر پہنچ گیے تو آٸی جی، ڈی آٸی جی رات کے اندھیرے میں جوانوں کے گھر پہنچ گیے۔
اس دن سے انتظامیہ اپنے حق میں بیانات جاری کرانے کی غرض سے لڑکوں کے پیچھے پڑے ہوٸےہیں۔
لڑکوں کے خاندان کو لکھے ہوٸے پریس ریلیز پڑھنے کو کہا جاتا ہے تو کٸی پہ ایف اٸی ار ختم کرنے کا وعدہ کرکے اپنے حق میں بیانات نکلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مغوی جوانوں کا کہنا ہے کہ میڈیا ہمارے بیانات سیاق و سبق سے ہٹ کے شاٸع کرنے میں مصروف ہے جو کہ ناانصافی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں