ہنزہ کے 14اسیران کی سزا کیوں از خود کالعدم ہے؟

احسان علی ایڈووکیٹ

علی آباد ہنزہ میں عوام کی تاریخی دھرنا کے موقع پہ راقم نے اپنی تقریروں میں بار بار سیاسی اسیروں کو دی گئی ظالمانہ سزاؤں کو غیر آئینی غیر قانونی اور بلا اختیار ہونے کی بنا پہ ان سزاؤں کو از خود کالعدم اور قابل منسوخی قرار دیا تھا۔ اور اس بنا پہ صدر پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان سزاؤں کو فلفور کالعدم قرار دے ۔مگر نامعلوم وجوہ کی بنا پر اس مطالبے کو حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا یہاں تک کہ بعض اسٹیبلشمینٹ نواز قانوں دان جو گلگت- بلتستان پہ مسلط نو آبادیاتی نظام کو درست سمجھتے ہیں اور اس جمود کے حامی نے میرے اس مطالبے پہ تنقید کر کے اسیروں کی فوری رہائی کو ناممکن بنا دیا.

میرے مطالبے کی بنیاد آئینی و قانونی ے آئین اور قانون سے ماورا کسی بھی ادارہ یا عدالت کا وجود ہی غلط ہوتا ہے یہی وجہ ھے کہ جنرل مشرف کو آئین سے بار بار غداری کا جرم ثابت ہونے پہ سزائے موت دینے والی خصوصی عدالت کے تاریخی فیصلے کو ہائی کورٹ نے محض اس بنیاد پہ کالعدم قرار دیا تھا کہ اس خصوصی عدالت کو بنانے کی منظوری وفاقی کابینہ سے نہیں لی گئی تھی۔
اس سنہرے اصول کے تحت سابق چیف جج رانا شمیم کی عدالت بھی سراسر غیر آئینی غیر قانونی ہونے کے علاوہ اس کی منظوری نہ گلگت – بلتستان کی کابینہ سے لی گئی تھی اور نہ اسلام آباد کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی گئی تھی۔

اس آئینی و قانونی اصول کے مطابق رانا شمیم کی عدالت بھی سراسر غیر آئینی غیر قانونی تھی. اور اس بنا پہ ان کی عدالت سے اسیران ہنزہ اور دیگر قیدیوں سے متعلق سنائے گئے سارے فیصلے از خود کالعدم اور قابل تنسیخ ہیں.

صدر پاکستان اپنے صوابد یدی اختیارات کے تحت ایسی سزاؤں کو کالعدم قرار دے سکتا ہے یا سپریم کورٹ آف پاکستان ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

مگر اسٹبلیشمنٹ کو اور اس کے سہولت کاروں کو شاید ہمارے سیاسی اسیروں کی فوری باعزت رہائی قبول نہ تھا۔

احسان علی گلگت-بلتستان کے سینئر قانوندان اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں