چترال کے سماجی شخصیت کی موت اور دفنانے کا تنازعہ

چترال کے معروف تاجر اور سماجی کارکن صاد ق امین حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔ ہسپتال والے اسے کرونا کیس میں زبردستی دفنارہے ہیں۔

رپورٹ: گل حماد فاروقی

چترال سے تعلق رکھنے والے معروف تاجر اور سماجی شخصیت صادق امین پشاور کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ ان کی تدفین پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے. اسپتال ذرائع ان کی موت کو کورورنا وئرس قرار دے رہے ہیں جبکہ خاندای ذرائع اس کی تردید کر رہے ہیں.
ان کے قریبی عزیز پیر مختار علی شاہ نے پشاور کے ہسپتال سے اپنے ویڈیو پیغام میں میڈیا کو بتایا کہ صادق امین دل کے مریض تھے اور ان کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور لایا گیاتھا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔
پیر مختار کے مطابق ہسپتال کا عملہ اسے کرونا کا مریض قرار دے کر زبردستی دفنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ اور محکمہ صحت کے حکام سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ صاد ق امین کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا جائے. مگر بغیر ٹیسٹ اور تحقیق کے کسی کو کورونا کا مریض قرار دینا زیادتی ہے۔
دریں اثناء پیر مختار نےبام جہان کے نمائیندے کو بتایا کہ وہ دل کے مریض تھے اور ان کا بلڈ پریشر بھیزیادہ تھا. کل ان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں LRH ہسپتال لایا گیا جہاں ان کا ٹیسٹ کرنے کے لئے نمونہ لیا گیا. ابھی وہ ٹیسٹ سیمپل خیبر میڈیکل یونیورسٹی پہنچا بھی نہیں کہ ان کا ایک گھنٹے کے اندر انتقال ہوا۔ جس پر ہسپتال کا عملہ ان کو سپرد خاک کرنا چاہتے تھے. مگر چترال سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں لوگ ہسپتال میں جمع ہوگئے اور انہوں نے اسے زبردستی سپرد خاک ہونے نہیں دیا۔ تاہم ہسپتال عملہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ طے پایا گیا کہ صاد ق امین کا دوبارہ ٹیسٹ لیا گیا اور اس کا رزلٹ جمعرات کے دن گیارہ بجے تک لیبارٹری سے موصول ہوگا۔ اگر ٹیسٹ نیگٹیو آیا تو پھر صاد ق امین کو باعزت طریقے سے چترال لاکر اپنے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
صادق امین نہایت مخلص اور انسانیت کا درد رکھتے تھے وہ ہمیشہ چترالیوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے تھے اور جب بھی چترال کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی کو برداشت نہیں کرتے تھے اور اس کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر طبقہ فکر میں نہایت مقبول تھے۔
ان کے اچانک وفات پر چترال سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے نہایت افسوس اور دکھ کا اظہار کیا اور مرحوم کی سماجی خدمات پو سراہا.

اپنا تبصرہ بھیجیں