gilgit teacher 236

گلگت بلتستان: کالج اساتذہ نے نئے آسامیوں کی بندر بانٹ کو مسترد کیا

ویب ڈیسک


گلگت بلتستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ حالیہ منظور شدہ چار ہزار آسامیوں میں سے جی بی گورنمنٹ کی طرف سے کالجز کے اساتذہ کو یکسر نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آئندہ کالجز میں داخلہ نہ ملنے والے طلباء و طالبات کیلئے اب کوئی نمائندہ، سماجی کارکن، صحافی یا فیس بکی دانشور ہمدردی ظاہر کرنے کی اداکاری نہ کریں کیونکہ حالیہ منظور شدہ چار ہزار آسامیوں میں سے جی بی گورنمنٹ کی طرف سے کالجز کے اساتذہ کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ فیڈرل فائنانس ڈویژن نے شروع میں جو تھوڑی سی پوسٹیں دی تھیں وہ بھی نکلوا دی گئی ہیں۔
با خبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فیڈرل فائننس ڈویژن نے شروع میں جو پوسٹیں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے لئے مختص کیےتھے وہ جی بی فائنانس کے کچھ دن پہلے کے وزٹ کے بعد مکمل تبدیل کر دیئے گئے۔
اب پھر سکول ملازمین کی ایک تنظیم اور سکولز کے پلاننگ سیکشن نے اسلام آباد میں فائننس ڈویژن کو وزیر اعلیٰ کے ریفرینس سے یہ پیغام دیا ہے کہ کالجز میں لیکچررز کی سیٹوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
یاد رہے جی بی کالجز میں ہر سال تقریبا 20،000 ہزار طلبا اور طالبات کو داخلہ دیا جاتا ہے اور ہر سال کالجز میں طلباء و طالبات کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا ہے اور داخلوں کے وقت ہر فورم سے کالج پرنسپلز، اساتذہ اور داخلہ کمیٹی کو پریشرائز کیا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک بچے کو کالج میں داخلہ دیں۔ اس سلسلے میں ہر سال کالج منیجمنٹ کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے حکم پر زیادہ داخلے دینے کے نتیجے میں نہ تو کلاس رومز میں بچوں کو بٹھانے کی جگہ ہوتی ہے اور نہ اساتذہ کی تعداد اتنی ہوتی ہے کہ وہ سیکشنز بنا کر بچوں کو پڑھا لیں۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی کالج شعبے پہ نہ تو کوئی ریکروٹمنٹ ہوتی ہے اور نہ ہی ترقیاں دی گئی ہیں۔ حالت یہ ہے کہ اساتذہ کی کثیر تعداد ایک ہی سکیل میں رٹائرڈ ہو رہی ہے۔ اب اگر اس دفعہ بھی کالجز کو ان نئے پوسٹوں میں نظر انداز کیا گیا تو جی بی حکومت کو اس کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ ایسوسی ایشن نے دھمکی دی کہ آئندہ سال سے کالجز میں داخلے نہیں دئیے جائیں گے۔ لہذا وہ تمام حکومتی، اپوزیشن اور دیگر عہدداران جو بچیوں اور بچوں کے داخلے نہ ملنے کے ایشو کو لے کر ہمیں پریشرائز کرتے ہیں وہ ان بچوں کی تعلیم کا خود بندوبست کریں۔
واضح رہے کالجوں میں اساتذہ کی قلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسوقت 70 فیصد وزٹینگ فکلیٹی کے سہارے کالجز چل رہے ہیں۔ اب بھی اگر اس مسئلے کیطرف توجہ نہ دی گئی تو ہزاروں کی تعداد میں جو طلبا و طالبات کالجز میں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں وہ در در کی خاک چھاننے پرمجبور ہو جائیں گے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا وہ ہر بی ایس اور بی ایس سی کے سٹوڈنٹ کو یونیورسیٹی میں داخلہ دے سکے گی اور تمام سٹوڈنٹ جن کو کالجز میں کم فیسوں پر بہتر تعلیم مل جاتی ہے ان کو بھاری فیسوں کے ساتھ یونیورسٹی یا پرائیویٹ اداروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں