qazi faiz essa 106

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ: ’انٹیلیجنس اہلکاروں نے گھر میں داخل ہو کر ہراساں کیا‘

بشکریہ بی بی سی اردو


پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں کراچی میں اپنے گھر میں مبینہ طور پر فوج اور وزارت داخلہ کے محکمہ انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے ہراساں کیا ہے۔

31 دسمبر کو پاکستان کی وفاقی وزارتِ داخلہ، وزارتِ دفاع، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اور محکمہ داخلہ سندھ کو تحریر کردہ شکایت میں سرینا عیسیٰ نے کہا کہ یہ واقعہ کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیز فائیو میں اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی مرحوم والدہ کے گھر کی مرمت کروانے میں مصروف تھیں۔

بی بی سی نے ان الزامات پر پاکستان آرمی کا مؤقف جانے کی کوشش کی تو ایک سینیئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب تک وزارت دفاع یا وزارت داخلہ کو سرینا عیسیٰ کی جانب سے بھیجی جانے والی درخواست موصول نہیں ہوئی لہٰذا باضابطہ طور پر اس وقت مؤقف دینا قبل از وقت ہو گا جبکہ وزارتِ داخلہ کے ایک افسر نے بھی بی بی سی کو یہی بتایا کہ اب تک ’اس قسم کی کوئی تحریری شکایت انھیں موصول نہیں ہوئی۔‘

’دو آدمی یہ کہہ کر گھسے کہ ان کا تعلق ملٹری انٹیلیجنس سے ہے‘
سرینا عیسیٰ کی تحریری شکایت کے مطابق ان کے والدین کی وفات کے بعد یہ گھر ان کے دونوں بھائیوں اور اُن کے نام پر منتقل ہوا جس کے رنگ و روغن اور مرمت کے لیے وہ کراچی آئی ہوئی تھیں۔

اشتہار

سرینا عیسیٰ نے تحریری شکایت میں بیان کیا ہے کہ 29 دسمبر کو دوپہر 12:15 بجے ان کے گھر میں دو آدمی یہ کہہ کر داخل ہوئے کہ ان کا تعلق ملٹری انٹیلیجنس سے ہے۔

سرینا عیسیٰ کے مطابق اُن کی جانب سے استفسار پر دونوں افراد کسی قسم کا ایسا تحریری اجازت نامہ پیش نہیں کر سکے جو ان کو گھر میں داخل ہونے کا مجاز بناتا ہو، نہ ہی ان میں سے کسی نے اپنے شناختی کارڈ یا دفتری کارڈ کی کاپی دکھائی۔ سرینا عیسیٰ کے مطابق ان دونوں اہلکاروں میں سے ایک نے اپنا نام محمد امجد بتایا لیکن دوسرے نے وہ بھی بتانے سے اجتناب کیا۔

سرینا عیسیٰ کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی بیٹی ان کے ساتھ تھیں۔

سرینا عیسیٰ کے بیان کی کاپی کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ تحریری شکایت ملک کے وفاقی و صوبائی اداروں کو بھیجی جا چکی ہے لیکن اب تک کسی کی جانب سے کوئی جواب یا وضاحت موصول نہیں ہوسکی ہے۔‘

سرینا عیسیٰ نے بیان میں لکھا ہے کہ ان کے گھر میں داخل ہونے والے اہلکاروں نے ان سے ان کے خاندان کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں ایک چار صفحوں کا فارم تھمایا اور اسے بھرنے کا کہا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ اس فارم پر بھی ملٹری انٹیلیجنس یا کسی اور ادارے کا نام نہیں لکھا تھا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ یہ دونوں افراد ان کو فارم تھمانے کے بعد یہ کہہ کر چلے گئے کہ وہ دو دن بعد پُر شدہ فارم واپس لینے آئیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں