siege of chitral 529

شمال مشرقی حملہ آور، ریشن کے قیدی اور کڑاک کے مفرور فوجی

نور شمس الدین


تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو چترال پر اکثر بیرونی حملے شمال اور شمال مشرقی اطراف سے ہی ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ شاید جنوب میں درہِ لواری کی دشوار گزاری یا پھر اُس پار کی مظبوط پشتون حکومتوں کی موجودگی تھی۔ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آٹھویں صدی عیسوی میں تبتیوں اور چینیوں کے حملوں سے لیکر انیسویں صدی کے گریٹ گیم تک شمال اور شمال مشرقی سرحدیں ہی باہر سے آنے والوں کے لئے آسان راستے رہیں۔
تاریخی کتابوں میں چترال کو جن مختلف ناموں جیسا کہ بلور، قشقار، کھوستان سے یاد کیا جاتا تھا ان کی ابتداء بھی اوپر سے آنے والی فوجیوں کی وجہ سے ہی ہوئی۔ یارقندو کاشعر کے تجارتی قافلے ، چینی افواج یا پھر تبتی حملہ آور حتی ٰ کہ فرنگی بھی اوپر شمال کی طرف سے ہی آکر قابض ہوئے۔
کون نہیں جانتا کہ 1846 میں پنجاپ ہڑپنے اور معاہدہِ امرتسر کی رو سے گلگت گلاب سنگھ کی جھولی میں ڈالنے والے انگریزوں کو محض تین دہائیوں میں ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ پامیر کے پہاڑوں کے اُس پار زار روس کی موجودگی اور مہاراجہ کشمیر کے ساتھ ان کی ماضی کی تلخیاں کہیں روسیوں کے لئے شمالی دروازہ نہ کھول دے۔ یہی وجہ تھی کہ 1877 میں لفٹننٹ کرنل جان بڈلف کو بطور ِافسر خصوصی ڈیوٹی پر گلگت میں تعینات کیا گیا ۔

موجودہ اپر چترال میں کڑاک کا وہ مقام جہاں پر چترالیوں کے حملے کے بعد فرنگی اور سکھ غاروں میں چھپے رہے


یاد رہے کہ گلگت پر گلاب سنگھ نے معاہدہِ امرتسر سے چند سال پہلے قبضہ کیا تھا اور گلگت تب سے جموں، کشمیر اور لداخ کی طرح ریاست کشمیر کا حصہ تھا۔ 1876-77 میں گلگت ایجنسی کے قیام، انگریز افسر کی تعیناتی اور 1889 میں باقاعدہ پولیٹکل ایجنٹ کی تقرری کے بعد سے 1935 تک گلگت کا انتظام مشترکہ طور پر فرنگیوں اور ڈوگرہ سکھوں کے ہاتھ رہا۔ اس طریقے سےنہ صرف روس کے دہانے پر ہندوستان کا شمالی دروازہ بند ہوگیا بلکہ فرنگیوں کی گلگت آمد سے ریاست ِ افغانیہ کے ساتھ لمبی اور غیر محفوظ مشترکہ سرحد رکھنے والی ریاست چترال کی تذویراتی اہمیت بھی بڑھ گئی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مہاراجہ کشمیر نے 1878 میں چترال کو آزاد ریاست تسلیم کیا اور پھر مہتر چترال امان الملک اور سلطنتِ انگلیشہ کے اچھے تعلقات کے ہنی مون دورانیے کا آغاز ہوگیا۔ فرنگیوں کو ڈیورنڈ لائن اور محفوظ چترال چاہیے تھا جبکہ مہتر کو انگریزوں کی اعانت اور شمال مغربی سرحدات سے دراندازیوں کا خاتمہ۔ دونوں کے مفادات ایک ہونے پر بھی تعلقات اچھے نہ بنتے یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب موتمر ڈیورنڈ اور میجر رابرٹسن پہلی بار چترال آئے ۔ کچھ عرصے بعد گلگت کا چارج بطور پولیٹکل ایجنٹ سنبھالنے کے بعد رابرٹسن چترال کی محلاتی سازشوں اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے اور پھر امان الملک کی وفات کے بعد جانشینی کی جنگ نے محاصرہِ چترال کے زریعے انگریزوں کو چترال کے معاملا ت میں بلاواسطہ شراکت دار بنادی۔
امان الملک کی وفات کے بعد تین سالوں کے اندر تین مہتروں کی یکے بعد دیگرے قتل نشینی اور پھر قتل اور ایک مہتر کی علاقہ بدری نے ایک بار پھر سے شمال مشرقی حملہ آوروں کو دعوت دی مگر اس بار دوست کے بھیس میں غاصب بن کر آنے والے فرنگی اگلے پانچ عشروں تک چترالی حکمرانوں کو کٹھ پتلی بناکر اپنے طریقے سے چترال پر حکومت کرنے لگے۔ اس حکومت کے کئی مثبت ومنفی پہلو ہیں مگر وہ سب فلحال ہمارا مطمع نظر نہیں۔
مہتر امان الملک کے دور میں چترال میں مقیم پہلے فرنگی افسر گورڈن کی یاداشتوں اور گلگت کے پولیٹیکل ایجنٹ میجر رابرٹسن کے مطابق 30 اگست 1892 میں مہتر امان الملک کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے نظام الملک کی چترال سے دوری کے ساتھ اُن کے پرتعیش اور بزدلانہ مزاج نے ان کے چھوٹے بھائی افضل الملک کو تخت چترال پر براجمان کردیا مگر تین مہینے سے کم عرصے میں بدخشان کے راستے مرحوم امان الملک کے بھائی شیر افضل داخل ہوئے اور مہتر ِچترال کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ گورڈن اس بات سے متفق ہیں کہ ان کی چترال تعیناتی کے دوران ہی شیر افضل کی راہ ہموار کرنے اور سلطنت انگلیشہ کا اثر رسوخ ختم کرنے کے لیے محلاتی سازشیں جاری تھیں۔ اگرچہ افضل الملک کو گلگت کے پولیٹکل ایجنٹ نے جائز حکمران تسلیم نہیں کیا تھا مگر شیر افضل کی آمد امیر افغانستان کی طرف سے کئے گئے عہدنامے کی خلاف ورزی تھی لہذا انگریز سرکار ان حالات پر خوش نہیں تھی۔

نور شمس الدین کے پچھلے کالم بھی پڑھیے؛

مہاراجہ کشمیر، جارج ہیورڈ اور میر ولی

گریٹ گیم، چترال اور انگریزوں کی مداخلت

راجہ گوہر امان اور اُن کا دورِ حکومت


اگرچہ افضل الملک کی تخت نشینی اور یاسین سے نظام الملک کی طرف سے متوقع حملوں پر گلگت کی انگریز انتظامیہ نے چپ کا روزہ رکھ کر تماشائی بننے کا فیصلہ کیا تھا مگر شیر افضل کی آمد نے فرنگی نظریہ بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور یوں نظام الملک کی طرف سے چترال پر حملہ کرنے کی خواہش کو گلگت کے فرنگی افسروں نے نہ صرف پسند کیا بلکہ یاسین کی حد بندی تک ان کے ساتھ بھی رہے۔ اس سے پہلے کہ ہنزہ لیویز کی مدد سے نظام الملک دراسن کے راستے چترال پہنچتے ہیں۔ شیر افضل اِسے فرنگیوں کا حملہ تصور کرکے چترال خالی کرکے بدخشان کی طرف بھاگ گیا تھا۔ نظام الملک کے اقتدار کی بھاگ دوڑ سنبھالتے ہی انگریزوں اور ریاست چترال کے تعلقات ایک بار پھر بہتر ہوگئے اور رابرٹسن نے خود چترال کا دورہ کیا۔
نظام الملک اور فرنگی سرکار کی ملی بھگت سے چلنے والی تین سالوں پر محیط یہ حکومتی دورانیہ اس وقت ختم ہوا جب یکم جنوری 1895 کو نظام الملک کے چھوٹے بھائی امیر الملک نے انہیں قتل کیا اور چترال ایک بار پھر انارکی کا شکار ہوا۔ اب کی بار شمال اور متوقع شمال مشرقی راستوں کے علاوہ جنوب سے عمرا خان (ریاستِ جندول کا حکمران) جبکہ افعانستان سے شیر افضل بھی چترال پر دھاوا بولنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ یوں ایک ہی وقت میں فرنگی، جندولی اور سابقہ مہتر چترال شیر افضل کی فوجیں چترال کی سرحد پر وارد ہوئیں ۔ جندولی اور افعانی افواج نے کثیر تعداد میں چترالیوں کے ساتھ لیکر 3 مارچ 1895 کورابرٹسن کی قیادت میں لڑنے والے فرنگیوں کو شکست دیدی اور سارے فرنگی، ان کے حامی چترالی اور نوعمر مہتر چترال شجاع الملک قلعہِ چترال میں نظر بند ہوگئے۔ یہ نظر بندی 18 اپریل کو اس وقت ختم ہوئی جب گلگت سے ریلیف فورسز کے عنقریب چترال پہنچنے اور ملاکنڈ کے اس پار پشتون ریاستوں کی یکے بعد دیگرے جنرل لو کے ہاتھوں پٹنے کی خبریں چترال پہنچتے ہی شیر افضل ایک بار پھر بدخشان بھاگ گئے۔

کیپٹن روز 14 سکھ رجمنٹ کے ساتھ


چترال قلعے کی محاصرے کو چھڑانے کیلئے آنے والے کرنل کیلی پہلے بندے تھے نہ جرنیل رابرٹ لو بلکہ مہتر ِ چترال کے قتل کی خبر گلگت پہنچنے کے بعد میجر رابرٹسن کی روانگی سے پہلے اور بعد میں بھی مختلف انگریز افسران سپاہیوں سمیت چترال کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔ ان میں چند نام کیپٹن روز، لیفٹنٹ جونز ، لیفٹننٹ ایڈورڈ اور لیفٹننٹ فولر کے ہیں۔
کیپٹن روز اور لیفٹننٹ جونز کشمیری سپاہیوں کے ہمراہ گلگت سے مستوج آکر پولیٹیکل ایجنٹ لیفٹننٹ موبرلی کے ساتھ تھے کہ مارچ کے اوائل میں بنگال سیپئرز کے لیفٹننٹ فولر اور بمبئی انفنٹری کے لیفٹننٹ ایڈورڈ بھی چند سپاہیوں سمیت مستوج پہنچ گئے۔ مارچ کی 5 تاریخ کو کیپٹن روز، ایڈورڈ اور فولر مستوج سے بونی آتےہیں اور اگلے روز واپس مستوج جاتے ہیں جبکہ ایڈورڈ اور فولر کشمیری فوجیوں اور کارتوس کے 5 درجن سے زیادہ کی صندوقیں لیکر مرکزی چترال کی طرف نکلتے ہیں۔ چترال میں شیر افضل اور عمرا خان کی دراندازی اور رابرٹسن کی محصوری سے بے خبر یہ قافلہ جب ریشن پہنچا تو انہیں حالات کی سنگینی کا ادراک ہوا۔ انگریز افسر قافلہ روک کر اگلے دن چند سپاہیوں کے ساتھ آگے جاکر دیکھنے کی کوشش میں پرپش نامی گاؤں کے سامنے چترالیوں کے نرغے میں آتے ہیں۔ وہ پہاڑوں پر موجود دشمن کی پوزیشن اورتعداد دیکھ کر مزاحمت کا ارادہ ترک کرکے اپنی زخمیوں کو لیکر واپس ریشن بھاگتے ہیں مگر یہاں بھی ان پر حملہ کیا جاتا ہے۔ 8 بندوں کی ہلاکت اور 14 کے زخمی ہونے کے بعد ایڈورڈ اور فولر باقی سپاہیوں سمیت چند مکانات پر قبضہ کرکے مورچہ زن ہوتے ہیں۔ 9 مارچ کی رات ایک بار پھر ان پر حملہ کیا جاتا ہے اور ان کے 5 بندے ہلاک جبکہ 6 زخمی ہوتے ہیں مگر بہتر حکمت عملی اور مظبوط دفاع کی وجہ سے چترالی ان تک نہیں پہنچ پاتے۔
13 مارچ کو شیر افضل اور عمرا خان کے حامی سفید جھنڈے اٹھا کر لیفٹننٹ ایڈورڈز کی ملاقات شیر افضل کے رضائی بھائی محمد عیسیٰ سے کرواتے ہیں جو چترال شہر میں امن ہونے کی جھوٹی خبر اور ‘فرنگی چترالی بھائی بھائی’ کا جھانسہ دے کرایڈورڈز کو شیشے میں اتارتا ہے ۔ چترال میں "امن” قائم ہونے کی خوشی میں 14 مارچ کو پولو کھیل کا انتظام کیا جاتا ہے اور کھیل کے اختتام پر موسیقی کی محفل کے فوراً بعد پہلوان محمد عیسیٰ دونوں فرنگیوں کے بیچ کھڑا ہوکر ان کی گردن دبوچ کر انہیں قابو کرتا ہے۔ نتیجتاً قریبی گھر وں میں موجود کشمیری فوجی گولہ باری شروع کرتے ہیں۔ اچھی خاصی تعداد میں لوگ مرتے ہیں مگر چترالیوں کا پلہ بھاری رہتا ہے۔ کشمیری فوجیوں کا قلع قمع کرنے کے بعد محمد عیسیٰ دو انگریز افسروں سمیت چند ایک کو قیدی بناکر 19 مارچ کو چترال پہنچاتا ہے۔

لیفٹیننٹ ایڈورڈ اور فولر ریشن میں قیدی بننے کے بعد چترالیوں کے ساتھ


بونی میں لیفٹننٹ ایڈورڈ اور فولر کو رخصت کرکے واپس جانے والے کیپٹن روز کے مستوج پہنچتے ہی ریشن واقعے کا پتہ چلتا ہے اور وہ جونزسمیت 93 سکھ سپاہیوں کو لیکر لیفٹننٹ ایڈورڈ اور فولر کی مدد کے لئے ریشن کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ بونی پہنچنے کے بعد 33 کشمیری فوجیوں کو وہاں چھوڑ کر باقی سب ریشن کی طرف چلتے ہیں مگر 8 مارچ کے دن کوراغ سے نکل کر کڑاک نامی تنگ گھاٹی میں ان پر حملہ ہوتا ہے۔ مخالفین کی پوزیشن اور تعداد سے ڈر کر انگریز فوج واپس کوراغ جانے کی کوشش کرتی ہے مگر تب تک کوراغ کی طرف سے بھی چترالیوں نے اوپر چٹانوں سے پتھر گرانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ کئی بندوں کی ہلاکت کے بعد دونوں فرنگی افسران باقی ماندہ سپاہیوں سمیت دریا کے دہانے غاروں میں چھپ گئے اور رات ہوتے ہی نکل بھاگنے کی ایک اور ناکام کوشش کے بعد پھر غاروں میں پناہ لیتے ہیں۔ اگلے دن یعنی 9 اپریل کا پورا دن غاروں میں گزارنے کے بعد رات دو بجے (10 اپریل) ایک بار پھر فرار کی کوشش کی گئی تاہم کیپٹن روز گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ کوراغ پہنچ کرگنتی کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ صرف 17 لوگ ہی بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے اور ان میں سے بھی 9بشمول جونز کے شدید زخمی تھے۔ مقامی روایات اور فرنگی ریکارڈ کے مطابق 30 سکھ اگلے سات دن تک غار میں چھپے رہے مگر بھوک سے نڈھال ہوکر آخر کار خود کو مقامی فوجیوں کے حوالے کیا ۔ ان میں سے صرف دو کی جان بخشی کی گئی۔
جونز کی قیادت میں جنگِ کڑاک کے یہ سترہ مفرور فوجی سات دن تک بونی میں حفاظت سے رہے تاوقت یہ کہ 17 مارچ کو مستوج سے موبرلی فوج لیکر آیا اور انہیں اپنے ساتھ واپس لے گیا۔


نور شمس الدین کا تعلق چترال سے ہے۔ آپ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں اور پی ایچ ڈی کے سلسلے میں قازقستان میں مقیم ہیں۔ چترال کی تاریخ سے متعلق آپ کے مضامین ہائی ایشیاء میں شائع ہوتے آرہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں