noor shamss uddin yasin darkot 459

مہاراجہ کشمیر، جارج ہیوارڈ اور میر ولی

نور شمس الدین


سنہ 1830 کے بعد روس شمال سے جنوب کی طرف پیش قدمی شروع کرچکی تھی اور کرغزستان و تاجکستان تک پہنچ چکا تھا۔ یہ انگریزی راج کے لئے کوئی اچھی علامت نہیں تھی.  لھذا برطانوی حکومت نے جنوب سے شمال کی طرف پیش قدمی شروع کردی.  دونوں طاقتوں کے بیچ سلسلہ کوہ پامیر حائل تھے جہاں سے پیش قدمی دونوں طاقتوں کے لئے صرف اس لئے مشکل تھی کہ ابھی تک یہاں سے گزرنے کے راستے اور درّے دریافت نہیں ہوچکے تھے۔ ان راستوں کو کھوجنے اور نقشہ جات کی تیاری کے لئے رائل جیوگرافیکل سوسائٹی اف لندن کے ممبر لیفٹننٹ جارج ہیوارڈ کو ایک اہم مشن پر روانہ کیا گیا.  ہیوارڈ پہلے یارقند اور بدخشان گئے مگر وہاں سے اجازت نہ ملنے کے بعد 1869 کے اواخر میں یاسین پہنچ گئے۔

درہِ درکوت، یاسین، تصویر بشکریہ مصنف

ان دنوں میر ولی حاکم یاسین تھے جنھون نے اپنے بھائی راجہ مُلکِ آمان کو شکست دیکر اقتدار پر قبضہ کیا تھا. یاد رہے کہ مُلکِ آمان سنہ 1860 میں راجہ گوہر آمان کے انتقال کے بعد یاسین کے حاکم مقرر ہوئے تھے اور ان ہی کے دور میں یاسین کے تاریخی گاوں سندی میں  دریائے اسومبر اور دریائے قرقلتی  کے سنگم میں واقع قلعہ  موڈوری  میں ڈوگرہ افواج نے یاسین والوں  کو تہہ تیع کیا تھا۔

نور شمس الدین کے مزید کالم پڑھیے؛

گریٹ گیم، چترال اور انگریزوں کی مداخلت

شمال مشرقی حملہ آور، ریشن کے قیدی اور کڑاک کے مفرور فوجی

بہرحال والیِ یاسین میر ولی نے جارج ہیوارڈ کا استقبال  شاہی انداز سے کیا۔ لمبے عرصے تک  شاہی مہمان  کے طور پر خدمت کی گئی اور  دونوں ساتھ شکار کھیلتے رہے۔  یہی نہیں بلکہ  میر ولی کی قیادت میں ہیوارڈ کو نہ صرف قلعہ موڈوری کی سیر کروائی گئی بلکہ وہاں موجود انسانی کھوپڑیاں   مہاراجہ کشمیر کی ذیادتیوں  کی ثبوت کے طور پر دیکھائے بھی گئے۔ مہمان نوازی کے   بدلے میں  میرولی قیمتی تخائف سے نوازے گئے۔   جارج ہیوارڈ اور میرولی کے درمیاں    اچانک پنپنے والی دوستی کے پیچھے   رائل جیوگرافییکل سوسائیٹی اف لندن کے  اس وقت کے  نائب صدر سر ہنری راولینسن کی  طرف سے بطور امداد ملے ہوئے 300 پاونڈ اور کچھ قیمتی اشیاء تھے جن کی چکاچوند پامیر  کی پس ماندہ پہاڑیوں  میں موجود عوام و حکمرانوں کی انکھیں خیرہ کرنے کے لیے کافی تھیں۔   تاہم بہتریں  تعلقات کے باوجود ، میر ولی نے جارج ہیوارڈ کی پامیر جانے کی خواہش کو موسمی حالات کی بناپر رد کرکے اگلے سال درہ درکوت سے پامیر پہنچانے کا وعدہ کرکے واپس بیجھ دیا۔

ہیوارڈ  برزل سے ہوکر سرینگر اور پھر کلکتہ پہنچے اور وہاں کی مشہور زمانہ اخبار "پایئنرز” میں قلعہ موڈوری پر کئے گئے  ڈوگرہ افواج کےمظالم پر تفصیلی مضموں لکھ ڈالا۔ جس پر مہاراجہ کشمیر بے حد ناراض ہوگئے تھے۔ بحرحال ہیوارڈ اگلے سال جولائی میں پھر نمودار ہوئے ۔ باوجود ہیوارڈ کی دوستانہ پالیسی  کے اب کی بار میر ولی کا رویہ نہایت سرد تھا  ہیوارڈ کی بدقسمتی تھی کہ ان کی طرف سے  تحریر کردہ مضموں کا  میرولی کو کانوں کاں خبر نہیں تھی۔ جبکہ مہاراجہ کشمیر اپنا چال چل چکا تھا۔   ہیوارڈ کو بھی پہلے سے ہی علم تھا کہ  مہاراجہ  کے اثر رسوخ اور  میرولی  و مہتر چترال کے ساتھ مہاراجہ کے بہتر ہوتے تعلقات کی وجہہ سے  اب ان علاقوں میں اُن  کی  زندگی محفوظ نہیں۔  گلگت گیم نامی کتاب کے مصنف جان کی  کے مطابق مہاراجہ کشمیر کی طرف سے  گلگت کے گورنر نے پہلے ہی   جارج  ہیوارڈ کو قتل کرنے کے لئے  میرولی کو دس ہزار رائج الوقت کرنسی دی تھی اور اس بات کا کسی حد تک ہیوارڈ کو علم ہوگیا تھا۔ لھذا شاہی محل  جانے کے بجائے وہ درکوت درے سے چار گھنٹے کی مسافت پر بمقام درکوت خیمہ زن ہوگئے۔  مگر 18 اگست 1970 کی صبح پھوپھٹتے ہی یاسین والوں نے ہیوارڈ پر حملہ کیا اور پتھروں سے مار مار کر انہیں پانچ ساتھیوں سمیت قتل کردیا۔

قتل کا الزام اس وقت کے حاکم یاسین میرولی پر آیا اور ایک فرنگی کو قتل کرنے کا دباو برداشت نہ کرکے آنے  والی  فرنگی طوفان سے بچنے کے لئے مہتر میر ولی یاسین سے بھاگ گئے.  جبکہ دوسری روایت کے مطابق اس واقعے سے ناخوش مہتر چترال آمان المک نے حاکم مستوج غلام محی الدین المعروف پہلوان مہتر کو یاسین پر حملہ کرنے کے لئے بیجھ دیا۔ پہلوان مہتر کا مقابلہ کرنے کے بجائے میر ولی بدخشان فرار ہوگئے اور یاسین باقاعدہ طور پر چترال کی عملداری میں آگیا۔

میرولی کو  انگریزی حکومت کے دباو میں آکر  امیر بدخشان  نے ملک بدر کردیا  تو واپس چترال پہنچ گئے۔ اور  شمالی چترال میں کھوژ نامی گاوں کے قریب ایک  غار میں قتل ہوگئے۔ کہنے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ  مشہور "نیویشیرو ساروز’  نام ہی اس لئے پڑا ہے کہ  میرولی نے قتل ہونے سے پہلے وہاں  صنوبر کی ایک درخت  پر  ایک فارسی شعر کندہ کیا تھا  جو دنیا کی بے ثباتی  اور موت کے برحق ہونے سے متعلق تھی۔

یاد رہے کہ 1895 میں قلعہ چترال میں فرنگیوں کی نظر بندی کے بعد انہیں چھڑانے کے لئے گلگت سے آنے والی فوج کے سربراہ کرنل کیلی کے اسٹاف افیسر لیفٹننٹ بینین کے مطابق جارج ہیوارڈ کے قتل میں  حاکیم لاسپور محمد رفی بلاواسطہ شامل تھے۔ جبکہ  کرنل شومبرگ کے مطابق برکلتی یاسین کے  موہبی حاکم اور چھشی  کے حاکم رحمت اللہ اس  قتل کے مرکزی کردار تھے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ہیوارڈ کو قتل کرنے کے حوالے سے یاسین کی زبانی روایات اور لیفٹینٹ بینین کے خیالات میں کمال مماثلت پائی جاتی ہے.  دونوں اس بات سے متفق ہیں کہ ہیوارڈ نے مرنے سے پہلے ایک بار روشنی طلوع ہوتے دیکھنے کی خواہش کی تھی. یاسین کی زبانی روایات میں ہیوارڈ نے خود کے اہل کتاب ہونے اور قدرتی مناظر کا دلدادہ ہونے تک کا واسطہ دیکر جان بخشنے کی درخواست کی تھی۔ مگر قاتل بے رحم نکلے اور پتھر مار مار کر ہیوارڈ کو قتل کردیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ ہیوارڈ کو کیوں قتل کیا گیا؟ اس حوالے سے تین روایات ہیں

اول چونکہ ہیوارڈ بیش بہا قیمتی سامان لیکر بدخشان جارہا تھا لھذا یہ کیس صرف لوٹ مار کا تھا اور کچھ نہیں۔ البتہ اس لوٹ مار کو راجہ میرولی کی اشیرباد حاصل تھی۔

دوم اس واقعے کے پیچھے مہاراجہ کشمیر کا ہاتھ تھا جنھوں نے جارج ہیوارڈ سے صرف اس بات کا بدلہ لیا تھا کہ اپنے گزشتہ دورے کے دوران ہیوارڈ نے قلعہ مڈوری کا دورہ کیا تھا اور ہندوستان جاکر کلکتہ کے "پایئنرز ”  نامی ایک اخبار کو مضموں لکھ کر دنیا پر ڈوگرہ فوج کی ذیادتیاں اشکار کیا تھا۔  جس پر اس وقت کے وائسرائے لارڈ میو نے مہاراجہ سے باز پرس کی تھی۔ اور  رائل جیوگرافکل سوسائیٹی اف لندن  جارج ہیوارڈ کی جان کو خطرہ کی پیش نظر انہیں واپس ان علاقوں کی طرف جانے کے خلاف تھے۔ تاہم ہیوارڈ نے اپنی تنظیم کو تحریری طور پر اپنے رسک پر  جانے پر قائل کرکے واپس آئے تھے۔

ستم ظریفی تو دیکھیے کہ اگست میں ہیوارڈ کے موت کی خبر دہلی پہنچنے کے بعد وہاں سے مہاراجہ کشمیر سے باز پرس ہوئی اور مہاراجہ نے  فریڈرک  ڈریو کو اس واقعے کی تحقیقات کے لئے گلگت روانہ کیا۔  فریڈریک ڈریو کی تحقیقات  کا نتیجہ ڈریو رپورٹ کی شکل میں پبلش ہوا جس کے مطابق میر ولی اور آمان الملک جارج ہیوارڈ کے قتل میں سہولت کار تھے۔ ڈریو مہاراجہ  کی دربار سے   نمک حرامی شاید نہ کرسکے اس لئے یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر میرولی سہولت کار تھے تو سہولت کاری کروا کوں رہا تھا۔

سوئم یہ چالبازی مہتر چترال امان الملک کی تھی جس نے اس طریقے سے یاسین کا اقتدار اپنے بھتیجے پہلوان مہتر کے سپرد کردیا اور جارج ہیوارڈ کے قاتل میرولی کو شکست دیکر برطانوی سامراج کی اشیرباد بھی حاصل کرلی۔  اس بات کو تقویت اس لئے بھی ملتی ہے کہ صرف دس سال بعد پہلوان مہتر جب  پونیال میں  برسرپیکار تھے تو  آمان الملک نے اپنے بیٹے نظام الملک کو بیجھ کر یاسین پر قبضہ کروایا ۔  اور یاسین و چترال کا بلا شرکت غیرے حکمران بنے کے ساتھ انگریزیوں کا چہیتا بھی بن گیا۔


نور شمس الدین کا تعلق چترال سے ہے۔ آپ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں اور پی ایچ ڈی کے سلسلے میں قازقستان میں مقیم ہیں۔ چترال کی تاریخ سے متعلق آپ کے مضامین ہائی ایشیاء میں شائع ہوتے آرہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں