عنایت ابدالی 113

ظلم کی حکومت اور کفر کا نظام

عنایت ابدالی


پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں چور دروازے سے بھرتیوں کا آغاز کیا ہے۔ اپنے من پسند افراد کو نوازنے کےلیے پہلے کنٹریکٹ، پروجیکٹ اور کنٹیجنٹ کے نام پر لوگ اداروں کے اندر گھسا دئیے۔

نوجوانوں سمجھ رہے تھے کہ مسلم لیگ نواز اس غلط روایات کو ختم کرے گی مگر وہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔پی پی پی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حافظ حفیظ الرحمان نے بھی گلگت بلتستان اسمبلی میں بل پاس کیا اور اس بل میں جعلی سازی کرکے کنٹریکٹ، پروجیکٹ اور کنٹیجنٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوگئے۔

ان دونوں جماعتوں کے بعد نوجوان سمجھ رہے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آکر اس روایات کو ختم کرئے گی مگر یہاں بھی میرٹ کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی جانب سے چور دروازے سے بھرتی کیے گئے عارضی ملازمین کو اب ریگولر کرنے کی کوششوں میں پاکستان تحریک انصاف مصروف ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گلگت بلتستان اسمبلی اس بل کو مسترد کرکے تمام آسامیاں مشتہر کرتے مگر بدقسمتی سے موجودہ حکومت بھی چور دروازوں سے گھسائے گیے افراد کو ریگولر کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

اگر گریڈ ون سے لے کر گریڈ سات تک کے ملازمین کو مستقل کیا جائے تو کوئی بات نہیں مگر اب یہاں سترہ گریڈ سے اوپر چور دروازے سے آنے والے افراد کو بھی مستقل کرنے کی بات کر ہو رہی ہے۔

گلگت بلتستان کے ہزاروں گریجویٹس کے حق پر ڈاکہ ڈال کر چور دروازوں
سے اپنے عزیزوں کو نوازنے والے سیاسی افلاطون آج نوجوانوں کی بات کرتے ہوئے میرٹ کا نام لے کر خود کو لیڈر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اقربا پروری، علاقائی، مسلکی اور دیگر سفارشوں سے کنٹریکٹ اور پروجیکٹ پہ بھرتی ہونے والے اب آسانی سے گریڈ سترہ سے اوپر مستقل ہونگے اور نوجوانوں کے پاس خودکشی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اب اس گلستان کو برباد ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں