سلمان حیدر 110

سلمان حیدر کی نظمیں اور کتاب

شیراز حسن


سلمان حیدر ایک گھاگ شخص ہے۔ اردو زبان میں اس لفظ کا متبادل صرف پنجابی میں دستیاب ہے جو فی الحال پھر کسی وقت کے لیے ادھار رکھ لیتے ہیں۔

کیا آپ سلمان حیدر کو جانتے ہیں؟ جاننا چاہتے ہیں؟ کون ہے سلمان حیدر؟ میں نہیں جانتا۔

سلمان حیدر سے میری جتنی ملاقاتیں رہی ہر ملاقات ایک مکمل باب، جس کا پچھلے باب اور اگلی ملاقات سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یعنی ہر ملاقات میں سلمان حیدر کا ایک نیا پہلو سامنے آیا۔ یہی ہنر اس کی نظموں میں نظر میں آتا ہے۔ ایک نظم کے بعد دوسری اور پھر تیسری اور کتاب کی آخری نظم تک۔ آپ کو سلمان حیدر کے کئی روپ نظر آتے ہیں۔ وہ سلمان حیدر جو اب کہیں کھو گیا لیکن پھر بھی وہ ’سرمہ لگی آنکھیں اپنے گیت صندوقوں میں رکھ دینے پر آمادہ نہیں۔‘ درد، کرب، اذیت سے لے کر چائے ٹھنڈی ہونے کا دکھ اور سگریٹ کا ایک کش؟

عجیب شخص ہے، کہتا ہے کہ نظمیں صرف سگریٹ کے ساتھ لکھی جا سکتی ہیں لیکن نظم جننے کے لیے رات رات بھر پوری آنکھیں کھولے، اپنا دھڑ کہنیوں پر بلند رکھتا ہے۔ پھر کہتا ہے ’خاموشی شاعری کی ایک صنف ہے‘ اور ’کل پھر ایک نظم لکھوں گا‘۔۔۔ لیکن سلمان حیدر ’میں تمہیں ان دنوں سے جانتا ہوں، جب میں نے نظمیں لکھنا شروع کی تھیں۔‘ لیکن یہاں مسئلہ یہ بھی کہ ’نظم ابھی جاری ہے‘ کیونکہ ’میں نظم کو ادھورا چھوڑ سکتا ہوں‘ اسی لیے ’خوبصورت لڑکیوں پر نظمیں نہیں لکھنی چاہییں‘۔۔۔ لیکن سلمان حیدر لکھتا ہے۔۔۔

روایت، جدت، جدیدیت، مابعد از جدیدیت۔۔۔ ان کے معنی بعد میں تلاش کر لیں گے۔۔۔ پہلے نظمیں پڑھیں۔۔۔

سلمان حیدر کی نظمیں ایک ایسے شخص کی آواز ہیں جو ہجر اور ہجرت دونوں کا مارا ہوا ہے۔ اس کا لہجہ سخت اور مزاج شیریں ہے، زندگی کی لچکدار کمر کو پھر سے تھام لینے کی خواہش رکھنے والا شخص اس قدر تلخ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تلخی جب اس کے اندر انڈیلی گئی تو چائے کا ذائقہ بھی اسے بدمزہ محسوس ہونے لگا؟ سگریٹ کے ساتھ لکھی جانے نظمیں تاریکی اور زندان کی کراہ بن کی سنائی دینے لگی؟
زندگی کے چھتیس زینے طے کرنے میں اتنی تھکن اس پر لاد دی گئی کہ وہ سوال کرنے سے اب نہیں گھبراتا۔ ہجر کا مارا شخص اب ہجرت پر ہے۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ اسی نقل مکانی کا ہمسفر بنا لینے کا فن جانتا ہے۔

حاشیے پر لکھی یہ نظمیں زندگی سے موت اور موت سے زندگی کا وہ سفر ہے جس کی ایک کے بعد ایک پرت اترنے لگتی ہے۔ سلمان حیدر کی تلخی دھیرے دھیرے شیریں مزاج میں گھل جاتی ہے۔ یہی سلمان حیدر ہے۔ جسے ہم جانتے ہیں یا شاید جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حاشیے پر لکھی نظموں سے بہتر سلمان حیدر کا تعارف ممکن نہیں، شکریہ سلمان حیدر ہمیں خود سے متعارف کروانے کا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں