115

باپ پارٹی اور عبوری صوبے کا بل

واجد عباس


بلوچستان عوامی پارٹی یا ‘باپ’ پارٹی کی جانب سے گلگت بلتستان عبوری صوبے کے بل کو سینیٹ میں پیش کرنے کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ یہ بل پاکستان کے کسی سیاسی پارٹی نے نہ تو ترتیب دیا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی نے پڑھا ہے۔

جو لوگ کبھی گلگت بلتستان آئے ہی نہیں ہیں انہیں ہمارے بارے میں اور ہماری سرزمین اور عوام کی ترجمانی یا اس کے بارے میں قانون سازی کا اختیار کس نے اور کب دیا ہے؟ ہم نے تو کسی کو یہ حق نہیں دیا ہے. گلگت بلتستان تنازع کشمیر کا حصہ ہے اور ہماری سرزمین اور اس کے ۲۰ لاک باسیوں کے بارے میں ان کی مرضی کے بغیر کوئی بھی چھیڑ خانی نہیں کر سکتا ہے.

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ایک بار پھر گلگت بلتستان دشمن بل کے ذریعے سے اپنی آئینی اور قانونی حدیں پار کرتے ہوئے اس متنازعہ خظہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے جو قابل مذمت ہے۔

جو سہولت کار باپ پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کو کچھ دینے کے بجائے تباہی کے دہانے پر لے گئے ہیں وہ گلگت بلتستان کیلئے کیا دیں گے؟؟؟

اگر گلگت بلتستان کی زمینوں اور مکینوں کو بچانا ہے تو گلگت بلتستان اسمبلی کے سبھی ممبران ایک آواز ہوکر اس بل کی مخالفت کریں نہیں تو آپ لوگوں کو اور آپ کی آنے والی نسلوں کو مستقبل میں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جائے گا۔

اسلئے تمام اراکین اسمبلی اور سیاسی قوتوں سےکو چاہئے کہ وہ گلگت بلتستان اسمبلی کو با اختیار بنانے کا مطالبہ کریں کیونکہ یہ آپ لوگوں کی بس کی بات نہیں کہ ریاستی قبضہ گیریوں کا مقابلہ کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں