فرنود عالم farnood alam 135

پرویز ہود بھائی اقبال احمد کے خوابوں میں رنگ بھرتے ہیں

فرنود عالم


اقبال احمد کی پیدائش بھارتی علاقے بہار میں ہوئی لیکن پروان پاکستان میں چڑھے۔ امریکہ میں پڑھتے رہے، وہیں پڑھاتے رہے۔ پاکستان کے پہلے مارشل لاء میں جیل ہوئی اور دوسرے میں سزائے موت سنائی گئی۔ تیسرے میں انہیں ناپسندیدہ شخص ڈیکلئیر کیا گیا۔ دراصل وہ حقوقِ انسانی کے علمبردار تھے۔ ایسوں کی سزائیں کچھ ایسی ہی ہوتی ہیں۔ اقبال احمد حد اور سرحد سے ماورا ایک مزاحمت کار تھے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی میں عملی طور پر حصہ لیا۔ کشمیر پر سوائے کشمیریوں کے کسی کا حق تسلیم نہیں کرتے تھے۔ کشمیر تنازعے کا بنیادی ذمہ دار انڈیا کو سمجھتے تھے۔ کشمیر کی جدو جہدِ آزادی کو آلودہ کرنے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے تھے۔

وہ فرانس کے خلاف الجزائر کی تحریک آزادی میں بھی شریک ہوئے۔ الجزائر کی انقلابی کونسل کا حصہ تھے۔ اُس وفد میں بھی شامل تھے، جو امن مذاکرات کے لیے پیرس گیا تھا۔ آزادی کے بعد حکومتی منصب کی پیش کش ہوئی۔ انہوں نے سامان باندھا اور درس گاہ کی طرف لوٹ گئے۔

افغانستان تاخت و تاراج ہوا تو کابل و قندھار کی گلی گلی گھومے۔ لوگوں سے ملے اور طالبان کو دیکھا۔ مضامین لکھ کر عالمی ضمیر کو مخاطب کیا۔ وہ افغان عوام کے طرفدار تھے، طالبان سے بیزار تھے۔ جنرل اختر عبدالرحمان نے انہیں تزویراتی گہرائی پر زبانی کلامی بریفنگ دی۔ تسلی سے سن کر اقبال نے کہا، آپ لوگ سائے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جو انجامِ کار آپ کو اندھیروں میں پہنچا دے گا۔

اقبال یاسر عرفات کے دل کے بھی بہت قریب تھے۔ فلسطین کی نیشنل کونسل میں ایک نشست ان کی منتظر تھی۔ ابھی جوائننگ کا سوچ ہی رہے تھے کہ اوسلو معاہدہ ہو گیا۔ یہ کہہ کر وہ یاسر عرفات کے دل سے اتر گئے ‘یاسر نے انتہائی خطرہ مول لے لیا ہے، خطرے کا کوئی انعام نہیں ہوتا۔‘

اقبال احمد مذہبی اور سیاسی دہشت گردیوں کا تجزیہ اکثر ابن خلدون اور کارل مارکس کی روایت کی روشنی میں کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ فیدل کاسترو انہیں ہوانا کے سگار بھیجتے تھے۔ کاسترو نے کیوبا میں اپنے مخالفین پر سختی کی تو اقبال نے آواز اٹھائی، سگار آنا بند ہو گئے۔

اقبال احمد نہایت حساس انسان تھے۔ ایٹمی ہتھیار کا لفظ سنتے تھے تو تصور میں انسانی چیتھڑے آ جاتے تھے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف ایک بڑی آواز کے طور پر سامنے آئے۔ اسرائیل کو بیروت پر بارود برساتا دیکھا تو دل میں ایک چبھن سی محسوس ہوئی۔ بعد ازاں یہ چبھن بڑھی اور ہارٹ اٹیک ہو گیا۔

ویت نام پر حملہ ہوا تو اقبال نے امریکی اشرافیہ کو زبان اور قلم کی نوک پر لے لیا۔ ایک ہجوم کو لے کر نیویارک کی سڑکوں پر نکل آئے۔

اس لمحے وہ ان مظالم سے بھی غافل نہیں رہے جو ڈھاکہ میں بنگالیوں پر ڈھائے جا رہے تھے۔ پاکستان کے علمی حلقوں میں وہ دانشور اقبال احمد سے کنارہ کرتے تھے جو بنگالیوں کے مخالف بیانیہ مرتب کر رہے تھے۔ نیویارک کے چائے خانوں میں وہ امریکی دانشور اُن سے فاصلے پر رہتے تھے، جو جارحیت اور مداخلت کو امریکہ کا پیدائشی حق سمجھتے تھے۔

امریکہ میں ان کے لیکچر سننے لوگ قطار اندر قطار آتے تھے۔ عالمی جرائد میں ان کی تحریروں کی اشاعت کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا تھا۔ ایک امریکی یہودی ناتھن کرسٹال، جو صیہونی ہوگیا تھا، اسرائیل چلا گیا۔ اس نے کچھ سوال اٹھائے تو گرفتار ہو گیا۔ اسرائیلی حکام نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جوان اقبال احمد کی تحریروں سے متاثر ہے۔ امریکہ میں ان کے لیکچرز میں بھی شریک ہوتا رہا ہے۔

اقبال یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت نہیں مانتے تھے، مگر مذہبی ورثے کو تنہا مسلمانوں کی جاگیر بھی نہیں مانتے تھے۔ وہ اسرائیلی ریاستی جبر کے خلاف تھے مگر عرب دنیا کے بھی کسی طور حمایتی نہیں تھے۔کہتے تھے، عربوں کو ایک جمہوری طرز کے اسرائیل میں رہنے کا چلن سیکھنا ہو گا۔

امن تحریک نے زور پکڑا تو امریکی حکام نے اقبال احمد کو ایک بڑے مقدمے میں پھنسا دیا۔ الزام تھا کہ انہوں نے ہنری کسنجر کو اغوا کرنے اور وائٹ ہاوس کے ہیٹنگ سسٹم کو دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بات عدالت گئی تو فیصلہ اقبال اور ان کے ساتھیوں کے حق میں آ گیا۔ اس فیصلے نے امن تحریک میں نئی روح پھونک دی۔

ہمپشائر کالج نے اقبال کی ریٹائرمنٹ پر عالمی سطح کی تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب نے بڑے سے ایک جلسے کی شکل اختیار کر لی، جس میں بائیں بازو کے عالمی دانشور اور رہنما شریک تھے۔ الجزائر، مراکش، ترکی، فلسطین، کیوبا، کشمیر، ویتنام، افغانستان، پاکستان اور نیو انگلینڈ کے نواح سے ڈھائی ہزار لوگ آئے۔ نوم چومسکی اور ایڈورڈ سعید نے تقریب میں مقالے پڑھے۔ کالج میں ”اقبال احمد لیکچر‘‘ کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ اس سلسلے کا پہلا لیکچر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے دیا۔

کوفی عنان کہتے ہیں، اگر جاننا ہو کہ بین الاقوامیت کا پرچار کرنے والے ایک دانشور کو کیسا ہونا چاہیے تو اقبال احمد کو دیکھ لیجیے۔ ایڈورڈ سعید نے کہا،اقبال احمد آزادی اور انصاف کے بیچ توازن کا نام ہے۔ آزادی اور انصاف کے بیچ توازن والا جملہ کسی بھی ایکٹوسٹ کے لیے بہت قابلِ غور ہے۔

اقبال احمد جب امریکا کی جامعات میں پڑھا رہے تھے، تب کراچی کا ایک طالب علم ایم آئی ٹی میں پڑھ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اقبال احمد ویت نام جنگ کے خلاف لوگوں کو لے کر نکلے ہوئے ہیں اور امریکہ کو للکار رہے ہیں۔ وہ اقبال احمد کے سحر میں مبتلا ہو گیا۔ اقبال احمد سے ملا، پھر انہی کا ہوکر رہ گیا۔ عمر بھر وہ سائے کی طرح ان کے ساتھ رہا۔ یہاں تک اقبال احمد نے اسی طالب علم کی بانہوں میں آخری سانس لیا۔ اس طالب علم کو ہم ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کہتے ہیں۔

اقبال احمد رخصت ہوئے تو اکانومسٹ نے لکھا کہ اقبال انقلابی دانشور اور جدید دور کے ابنِ خلدون تھے۔ اقبال نیو یارک ٹائمز کے ناقد تھے مگر اس اخبار نے بھی لکھا، ” اقبال امریکہ کے ضمیر کو جگائے رکھنے والا دانشور تھا۔‘‘ پرویز ہود بھائی نے کہا،” بین الاقوامیت پر مبنی ہمارا ایک انسانی قبیلہ تھا، اقبال اس قبیلے کے باپ تھے۔ ہم باپ سے محروم ہو گئے ہیں۔‘‘

گویا پرویز ہود بھائی آزادی اور انصاف میں توازن رکھنے والے سلسلے کے آدمی ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ پرویز ہود بھائی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں۔ نہیں، وہ ایٹمی ہتھیاروں ہی کے خلاف ہیں، خواہ وہ کسی بھی ملک کا ہی کیوں نہ ہو۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی جارحیت کے خلاف ہیں۔ نہیں، وہ جارحیت کے ہی خلاف ہیں، خواہ وہ امریکہ کی ویتنام اور عراق پر کیوں نہ ہو۔ وہ اسلام بیچنے والے جنرل ضیا کے خلاف اس لیے لڑے کہ ان کی حیثیت غیر آئینی تھے۔ لبرل ازم بیچنے والے جنرل مشرف سے ایوارڈ لینے سے انکار بھی اسی لیے کیا کہ ان کی حیثیت غیر آئینی تھی۔

پڑھائی مکمل ہوئی تو ایک شاندار مستقبل امریکہ میں ہود بھائی کا منتظر تھا۔ صدر نکسن نے ہنوئی پر بم گرائے تو وہ ٹوٹ گئے اور امریکہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ شاید نہیں آنا چاہیے تھا، مگر وہ پاکستان آگئے۔ پوچھنے والے سائنس کے موضوع پر ان کا تحقیقی کردار پوچھتے ہیں۔ کیا اتنا بتا دینا کافی ہو گا کہ نیوکلئیر سائنس پر پی ایچ ڈی کی ڈگری انہوں نے ایم آئی ٹی سے حاصل کی ہے؟ یونیورسٹی آف میری لینڈ اور کارنیگ میلن یونیورسٹی کے وہ استاد رہ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ایڈوائزری کے وہ ممبر ہیں۔ الیکٹرانکس، ریاضیات اور فیزکل سائنس میں عالمی ایوارڈوں کے مستحق ٹھہر چکے ہیں۔ یہ ایوارڈ انہیں عالمی جامعات، سائنسی مراکز اور فیزیکل سائنس کی سوسائیٹیوں نے دیے ہیں۔ یہ ایوارڈز، یہ ڈگریاں یہ اعزازات پانی سے گاڑی چلانے والے کسی آغا وقار کی ہاں میں ہاں ملانے سے ہر گز نہیں ملتے۔

پرویز ہود بھائی نے لاہور کی ایک جامعہ میں ‘سائنس اینڈ آرٹس‘ کے عنوان سے نیا کورس متعارف کروایا۔ اس کورس کا مقصد سائنس اور آرٹس کے بیچ بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا تھا۔ طلبا کو یہ تو بتانا ہی تھا کہ سائنس نے دنیا کو کیسے بدلا، ساتھ یہ بھی سمجھانا تھا کہ سائنس کو اگر کھلی چھوٹ دے دی جائے تو کس طرح کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

اس کورس کے دوسرے مرحلے میں آرٹس کے اسی فیصد طلبا نے دلچسپی ظاہر کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پرویز ہود بھائی پر جامعہ کے دروازے بند کر دیے گئے۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ پرویز ہود بھائی اپنے مضمون سے دور کیوں نکل جاتے ہیں۔ پرویز ہود بھائی کا سوال یہ ہے کہ آپ اس مضمون کے قریب کیوں نہیں آتے۔ اس سوال کا جواب نہیں ملتا تو ہود بھائی خود جواب دیتے ہیں۔ یوں بات دور نکل جاتی ہے اور ریاست کا بیانیہ برا مان جاتا ہے۔

اقبال احمد نے بہت پہلے ہمپشائر کالج میں ایک خواب دیکھا تھا۔ سائنس اینڈ آرٹس یونیورسٹی کا خواب، جو خلدونیہ کے نام سے وہ اسلام آباد میں بنانا چاہتے تھے۔ ایسی یونیورسٹی، جہاں جامد علم نہ دیا جائے، درد مندی کا احساس بھی دیا جائے۔ ہمپشائر کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد یہی خواب اُگانے وہ پاکستان آئے تھے۔ اسلام آباد میں زمین مل گئی مگر ریاست کو جلد اندازہ ہو گیا کہ یہ تو سچ مچ کی یونیورسٹی بننے جا رہی ہے۔ اس زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے قوم کو علم جیسے ایک بڑے خطرے سے بچا لیا گیا۔

پرویز ہود بھائی نے اس خواب کو تعبیر دینے کے لیے بہت سے جتن کیے۔ شاید آخری کوشش کے طور پر انہوں نے اسلام آباد میں ‘دی بلیک ہول‘ کے نام سے ایک دانش کدے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ یہ تین منزلہ ایک عمارت ہے، جو نصابوں اور یقینوں کے دائرے سے بہت باہر واقع ہے۔ اس کی ایک منزل پر مکالمے کی ثقافت کو زندہ کیا جائے گا۔ سوال اٹھایا جائے گا اور بات بتائی جائے گی۔ بالائی منزل پر مطالعے کی روایت کو زندہ کیا جائے گا۔ یہاں وہ کتابیں رکھی ہیں، جن میں اس لفظ کا پتہ درج ہے، جو برے وقتوں میں ہجرت کر گیا تھا۔ اس میلے کا ذکر ہے، جس میں سُر بچھڑ گئے تھے اور ساز کھو گئے تھے۔ اس مقام کی تصویر موجود ہے، جہاں سائنس، تاریخ اور فلسفے کو اکڑوں بٹھا کر کلمے پڑھوائے گئے تھے۔

مارچ کے پہلے ہفتے میں ‘دی بلیک ہول‘ کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم نے بھی سب دیکھا کیے۔ پرویز ہود بھائی ہیں اور ان کے گرد ایک منظر ہے۔ اس منظر میں زمام ڈاکٹر زنیرہ ثاقب کے ہاتھ میں ہے۔ اس ہاتھ میں روشنی کی ایک لکیر بھی ہے۔ ان کے ساتھی ہیں، جن کا ماتھا روشن ہے اور فکر تازہ ہے۔ ہر طبقے کا نمائندہ دماغ موجود ہے۔ انسانی حقوق کے تقریبا سارے ہی حوالے ماحول پر درج ہیں۔

امیدِ سحر کی بات ہو رہی ہے اور امکان کا ایک پُل باندھا جا رہا ہے۔ خواب بیان ہو رہے ہیں اور ایک چراغ جل رہا ہے۔ نسرین اظہر شفقت فرما رہی ہیں اور افغانستان کے تین نوجوان فارسی گیت گا رہے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر دل مسلسل اچھی سی ایک بات کہہ رہا ہے۔ اقبال احمد ابھی کہیں نہیں گئے۔ قبیلے کا باپ ابھی کہیں نہیں گیا۔ سو

حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو

کچھ روشنی باقی تو ہے، ہر چند کہ کم ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں