پاکستان میں مذہب کے سیاسی استعمال کی تاریخ اور اس کے تباہ کن نتائج 102

پاکستان میں مذہب کے سیاسی استعمال کی تاریخ اور اس کے تباہ کن نتائج

کریم اللہ


مذہب کو جس حکمران نے بھی اپنے سیاسی مقصد کے لئے استعمال کیا وہ خود بھی تباہ ہوگیا اور قوم کو بھی تباہ کردیا۔
1۔ لیاقت علی خان
کہا یہ جاتا ہےکہ جب پاکستان میں لیاقت علی خان کی مقبولیت کم ہونے لگی اور ان کے خلاف احتجاج شروع ہوا تو موصوف پارلیمان سے ایک قرار داد پاس کروایا جسے "قرار داد مقاصد” کہتے ہیں۔ یہاں سے آئینی معاملات میں مذہب کو گھسانے کا عمل شروع ہوا۔ لیاقت علی خان نے اپنی سیاست کے لئے جو مذہبی کارڈ کھیلا تھا وہ بھی ان کے کام نہیں آیا اور حلقہ مقتدرہ نے اپنے مقاصد کے حصول کے بعد انہیں راستے ہی سے ہٹا دیا۔
2۔ ذوالفقار علی بھٹو
ذوالفقار علی بھٹو ایک خالص سیکولر لیڈر تھا مگر موصوف کے خلاف جب جب مذہبی جماعتوں کے احتجاجی تحریک چلی وہ اپنے سیکولر مائینٹ روشن خیال ورکروں کے پاس جانے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مذہب کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا۔ اس کی بہت ساری مثالیں ہمارے پاس موجود ہے مگر چھوڑئیے۔
3: ضیاء الحق
ضیاء الحق کی حکومت ہی ناجائز تھی اسی ناجائز حکومت کو سہارے کی ضرورت تھی اور پھر مذہبی طبقے نے بھٹو کو ہٹانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا تھا اسی وجہ سے ضیاء کو مفت میں مذہبی سپورٹرز ملے جن کے جذبات کو تسکین پہنچانے کے لئے وہ مذہب کا بے دریغ استعمال کیا۔ نتیجے کے طور پر افغانستان کے لاکھوں لوگ لقمہ اجل اور لاکھوں کروڑوں بے گھر ہوگئے جبکہ پاکستان کے ایک لاکھ کے قریب شہری اس مذہبی سیاست کی بھینت چڑھ گئے البتہ بھٹو اور ضیاء الحق میں فرق اتنا ہے کہ بھٹو اپنے لگائے گئے آگ میں خود بھی اور اپنے خاندان کو بھی جلا دیا جبکہ ضیاء الحق کا خاندان اسی آگ کی وجہ سے عیش و عشرت میں مصروف ہے۔
4: عمران خان
عمران خان کے سپورٹرز میں میرا نام بھی شامل ہے مگر اب ساڑھے تین برس بعد احساس ہورہا ہے کہ عمران خان اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے صرف اور صرف مذہب کا سہارا لیا اور آج سماجی و سیاسی انتہائی پسندی کے علاوہ مذہبی انتہا پسندی بھی اپنے عروج پر ہے۔
آج احساس ہو رہا ہے کہ آنے ولی نسلوں کے لئے یہ معاشرہ ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ جس انتہا پسندی کی بنیاد عمران خان صاحب نے رکھا ہے اس کا خمیازہ اگلے پانچ سے دس سالوں کے اندر ہمیں ہی بھگتا پڑے گا کیونکہ خان صاحب کے جانے کے بعد ان کے پیچھے کوئی خاندان یا اولادین اس معاشرے میں موجود نہیں۔ اپنے بچوں کو تو برطانیہ میں رکھا ہوا ہے جہاں وہ جتنی مرضی چاہے عیاشی کرسکتے ہیں مگر ہمارے لئے اس معاشرے کو جہنم بنا رہے ہیں۔ اور ہمارے بعد ہماری اگلی نسلیں اس جنہم کے الاؤ میں جلتے رہیں گے۔ اسی لئے ہمیں اپنی نئی نسلوں کو اس جنہم سے بچانے کے لئے اس معاشرے ہی کو خیر باد کہنا چاہئے۔

ے اور قوم کو بھی تباہ کردیا۔
۔ لیاقت علی خان
کہا یہ جاتا ہےکہ جب پاکستان میں لیاقت علی خان کی مقبولیت کم ہونے لگی اور ان کے خلاف احتجاج شروع ہوا تو موصوف پارلیمان سے ایک قرار داد پاس کروایا جسے "قرار داد مقاصد” کہتے ہیں۔ یہاں سے آئینی معاملات میں مذہب کو گھسانے کا عمل شروع ہوا۔ لیاقت علی خان نے اپنی سیاست کے لئے جو مذہبی کارڈ کھیلا تھا وہ بھی ان کے کام نہیں آیا اور حلقہ مقتدرہ نے اپنے مقاصد کے حصول کے بعد انہیں راستے ہی سے ہٹا دیا۔
۔ ذوالفقار علی بھٹو
ذوالفقار علی بھٹو ایک خالص سیکولر لیڈر تھا مگر موصوف کے خلاف جب جب مذہبی جماعتوں کے احتجاجی تحریک چلی وہ اپنے سیکولر مائینٹ روشن خیال ورکروں کے پاس جانے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مذہب کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا۔ اس کی بہت ساری مثالیں ہمارے پاس موجود ہے مگر چھوڑئیے۔
ضیاء الحق
ضیاء الحق کی حکومت ہی ناجائز تھی اسی ناجائز حکومت کو سہارے کی ضرورت تھی اور پھر مذہبی طبقے نے بھٹو کو ہٹانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا تھا اسی وجہ سے ضیاء کو مفت میں مذہبی سپورٹرز ملے جن کے جذبات کو تسکین پہنچانے کے لئے وہ مذہب کا بے دریغ استعمال کیا۔ نتیجے کے طور پر افغانستان کے لاکھوں لوگ لقمہ اجل اور لاکھوں کروڑوں بے گھر ہوگئے جبکہ پاکستان کے ایک لاکھ کے قریب شہری اس مذہبی سیاست کی بھینت چڑھ گئے البتہ بھٹو اور ضیاء الحق میں فرق اتنا ہے کہ بھٹو اپنے لگائے گئے آگ میں خود بھی اور اپنے خاندان کو بھی جلا دیا جبکہ ضیاء الحق کا خاندان اسی آگ کی وجہ سے عیش و عشرت میں مصروف ہے۔
عمران خان
عمران خان کے سپورٹرز میں میرا نام بھی شامل ہے مگر اب ساڑھے تین برس بعد احساس ہورہا ہے کہ عمران خان اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے صرف اور صرف مذہب کا سہارا لیا اور آج سماجی و سیاسی انتہائی پسندی کے علاوہ مذہبی انتہا پسندی بھی اپنے عروج پر ہے۔
آج احساس ہو رہا ہے کہ آنے ولی نسلوں کے لئے یہ معاشرہ ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ جس انتہا پسندی کی بنیاد عمران خان صاحب نے رکھا ہے اس کا خمیازہ اگلے پانچ سے دس سالوں کے اندر ہمیں ہی بھگتا پڑے گا کیونکہ خان صاحب کے جانے کے بعد ان کے پیچھے کوئی خاندان یا اولادین اس معاشرے میں موجود نہیں۔ اپنے بچوں کو تو برطانیہ میں رکھا ہوا ہے جہاں وہ جتنی مرضی چاہے عیاشی کرسکتے ہیں مگر ہمارے لئے اس معاشرے کو جہنم بنا رہے ہیں۔ اور ہمارے بعد ہماری اگلی نسلیں اس جنہم کے الاؤ میں جلتے رہیں گے۔ اسی لئے ہمیں اپنی نئی نسلوں کو اس جنہم سے بچانے کے لئے اس معاشرے ہی کو خیر باد کہنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں