Baam-e-Jahan

شاعرہ بی بی، وادیِ کیلاش کی پہلی خاتون کونسلر

سید اولاد شاہ بشکریہ انڈیپنڈنٹ اردو


چترال کے بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر کونسلر منتخب ہونے والے کلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے شاعرہ بی بی اپنے حلقے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے امیدوار ہیں۔

شاعرہ بی بی نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے خواتین نشست میں الیکشن میں حصہ لیا تھا اور 1014 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر آئی ہیں۔

ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار 743 ووٹ لے کر دوسرے، اور جے یو آئی کے خاتون امیدوار 643 نمبر لے کر تیسرے نمبر پر رہیں۔

شاعرہ بی بی کلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے پہلے خاتون امیدوار ہیں جو باقاعدہ طور پر الیکشن میں حصہ لیکر ولیج کونسلر منتخب ہوئی ہیں۔ 

شاعرہ بی بی کا تعلق بروم بمبوریت سے ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف چترال سے سیاحت میں ماسٹرز کیا ہے۔

خاندانی ذرائع معاش سے متعلق ان کا کہنا ہے، ہمارے آبا و اجداد زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی سے گزر بسر کیا کرتے تھے۔

shaira.jpg

شاعرہ بی بی آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئی ہیں (تصویر: شاعرہ بی بی)

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’میرے والد کسان تھے، ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ کھیتی باڑی میں محنت زیادہ اور آمدنی کم ہے، بمشکل سال کا خرچہ نکلتا ہے اور زیادہ تر بازار پر منحصر کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اب رجحان بدل چکا ہے۔ اب نئی نسل میعاری تعلیم کو زیادہ ترجیح دیتی ہے، معیاری تعلیم سے زندگی سنور سکتی ہے۔‘ 

عملی سیاست میں حصہ لینے کے بارے میں انہوں نے کہا، ’میری والدہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود بطور سماجی کارکن فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔ انہی کے نقش قدم پہ چل کر میں نے انتخابات میں حصہ لیا تاکہ اپنے علاقے کی خدمت کر سکوں، اور اپنے علاقے کی ترقی میں حصہ ڈال سکوں۔‘

 مستقبل میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ فی الحال میں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور جیت گئی۔ یہ میری زندگی میں عملی سیاست کا آغاز ہے، بعد میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کے بارے میں سوچوں گی۔‘

نابیگ شراکٹ ایڈووکیٹ پیشے کے لحاظ سے وکیل اور پاکستان تحریک انصاف سے منسلک ہیں، اور پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے کونسلر منتخب ہوئے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ہم پوری برادری کے مشکور ہیں جنہوں نے اپنے قیمتی ووٹ سے ہمیں منتخب کیا۔ اس بار تینوں وادیوں سے کلاش قبیلے کے دس افراد منتخب ہوئے ہیں۔ ہم تینوں وادیوں میں امن و عامہ اور ترقی کے لیے اپنے مسلم بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ 

خواتین میں تعلیم کے سلسلے ان کا کہنا ہے۔ ہمارے علاقے میں سب سے اہم نقطہ لڑکیوں کے تعلیم سے متعلق ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔ اگر گھر کی لڑکیاں تعلیم یافتہ ہوں تو گھر سنور سکتی ہے۔ اگر معاشرے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہی فارمولا معاشرے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر لڑکیاں تعلیم یافتہ ہوں وہ اپنے مسائل کا حل خود نکال سکتی ہیں۔ میعاری تعلیم ہماری سوچ بدل سکتی ہے۔ 
درپیش مسائل کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے لیے سکولز اتنے زیادہ تعداد میں نہیں ہیں۔ تعلیم کی عرض سے لڑکیوں پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ سکولز کے لئے  ٹرانسپورٹ کا نظام ہمارے علاقے میں نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے۔ یہ ہمارے تینوں وادیوں بریر میں تین، رمبور میان تین، اور بمبوریت میں چار امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ ہم بلدیاتی انتخابات میں پورے تعاون اور منتخب کرنے پر اپنے عوام کے بہت مشکور ہیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے