Baam-e-Jahan

ہماری فیمنسٹ ہیروز پر ایک کتاب

کتاب“ تاریخ کی عظیم فیمنسٹ عورتیں

مہناز رحمان بشکریہ ہم سب


برصغیر پاک ہند کے جدید ذہن رکھنے والے مردوں نے ہمیشہ عورتوں کی تعلیم اور ترقی کی حمایت کی ہے۔ تاریخ کی عظیم ترین فیمنسٹ عورتوں کی حیات، نظریات اور تحریکوں کے عالمی مطالعے کے ذریعے نعیم مرزا نے راجا رام موہن رائے، شیخ عبدااللہ اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس تشکیل دینے والے مردوں کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ اکیسویں صدی کی نئی نسل کو 1364 سے 1933 تک کی تاریخ کی عظیم ترین فیمنسٹ عورتوں سے متعارف کرانا یقیناً ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جس کے لئے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔ نعیم مرزا عورت اور مرد کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی مساوات میں یقین رکھتے ہیں اور کرسٹین دی پزاں سے لے کر ایمیلن پنکہرسٹ جیسی خواتین کی جدوجہد کو قلم بند کر کے انہوں نے پاکستان کی فیمنسٹس اور ایکٹیوسٹس کو نیا حوصلہ دیا ہے۔

”اپنی کتاب“ تاریخ کی عظیم فیمنسٹ عورتیں ”پر انہوں نے برسوں کام کیا۔ نو ابواب اور پانچ سو صفحات پر مشتمل کتاب میں 1463 سے 1933 تک کے عرصے میں عالمی شہرت یافتہ فیمنسٹ ہیروز کی جد و جہد اور نظریات کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ فیمنزم کی بانی عورتوں کے متعلق ایک عالمی تحقیقی کاوش ہے۔

خوش قسمتی سے مجھے اس کتاب کے پہلے مسودہ کے کچھ ابواب پڑھنے کا موقع ملا تھا جس میں سے بہت سی چیزیں ضخامت کے خوف سے نکال دی گئی ہیں لیکن پہلے مسودے اور موجودہ شکل دونوں صورتوں میں یہ کتاب عورتوں کی تاریخی جدوجہد کے وہ در وا کرتی ہے جن سے ہم پہلے نا آشنا تھے۔

فرانس کی پہلی فیمنسٹ فلسفی کرسٹین ڈی پژاں سے میرا پہلا تعارف اسی کتاب کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے چودھویں صدی کے اواخر اور پندرہویں صدی کے اوائل میں تعلیم نسواں کا مطالبہ کر کے عورتوں کے بارے میں رویوں کو چیلنج کیا تھا۔

عام طور پر میری وولسٹن کرافٹ کو 1792 میں شائع ہونے والی ان کی کتاب

A vindication of the rights of women

کی وجہ سے فیمنزم کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ یورپ کی روشن خیالی کی تحریک سے متاثر ہونے کی بنا پر انہوں نے سماج میں عورت کی محکومیت کو چیلنج کیا۔ انہوں نے عورت کو محکوم بنانے والے سماجی عمل پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نسائیت فطری یا حیاتیاتی نہیں بلکہ سماجی تصور ہے۔

اولیمپ ڈی گوژ کے بارے میں بھی مجھے اسی کتاب کے ذریعے پتہ چلا جو فرانسیسی ڈرامہ نگار اور سیاسی ایکٹوسٹ خاتون تھیں۔ عورتوں کے حقوق اور غلامی کے خلاف ان کی تحریریں مختلف ممالک میں پڑھی جاتی تھیں۔ ایک ڈرامہ نگار کی حیثیت سے انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1780 کے عشرے میں کیا تھا۔ اس زمانے میں فرانس میں سیاسی تناؤ کا عالم تھا اور اولیمپ کھل کر نو آبادیوں سے لائے جانے والے غلاموں پر ہونے والے مظالم اور غلاموں کی تجارت کے خلاف کھل کر بات کرتی تھیں۔ انہوں نے سیاسی پمفلٹس لکھے، جن میں خواتین کے حقوق اور خاتون شہریوں کے حقوق کا اعلامیہ بھی شامل ہے۔ جس میں مردانہ حاکمیت اور صنفی عدم مساوات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

انقلاب فرانس کے موقع پر انقلابی دو گروہوں میں بٹ گئے اور اولیمپ کو ان کے ایک ڈرامے کے مسودے کی بنا پر گرفتار کر لیا گیا۔ جیل میں انہیں وکیل کی سہولت مہیا نہیں کی گئی۔ تین نومبر 1793 کو انقلابی ٹریبونل نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ اس خوبصورت اور ذہین عورت نے بڑے سکون کے ساتھ تختہ ء دار ( گلوٹین) کا سامنا کیا۔

اکثر لوگ روزا لکسمبرگ کو اس کے شاندار پمفلٹ

The Mass Strike and reform or revolution

کے حوالے سے جانتے ہیں لیکن اس کتاب سے ہمیں اس کی فیمنسٹ کاوشوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کو سمجھنے اور اس کو بدلنے کی لگن کے حوالے سے وہ ہر عہد کے فیمنسٹس کی رول ماڈل رہی ہے۔ لیکن عورتوں کے حوالے سے اس کی قریبی دوست کلارا زیٹکن نے زیادہ شہرت پائی۔ لکسمبرگ ایک مارکسی یا سوشلسٹ فیمنسٹ تھی۔ اس کی رائے میں خاندان کی تاریخ دراصل عورتوں کی غلامی کی تاریخ ہے۔ اس لئے وہ عورتوں کے لئے مساوی معاوضہ، مساوی کام اور خاندان کے لئے سماجی تحفظ کی بات کرتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ عورتوں کے حق رائے دہی اور سیاست میں شراکت کی بات بھی کرتی تھی۔

ایما گولڈ مین ایک انارکسٹ اور سیاسی ایکٹوسٹ اور مصنفہ تھی۔ عورتوں کے حقوق اور سماجی مسائل پر اس کے لیکچرز میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے تھے۔ وہ انقلاب روس کی شروع میں حامی تھی لیکن شخصی آزادی پر پابندیوں کے خلاف تھی۔ اس لئے اس نے روس چھوڑ دیا اور جلا وطنی اختیار کی۔

ذاتی طور پر اس کتاب میں جس عورت کی کہانی نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ سوجورن ٹروتھ کی طویل جد و جہد کی کہانی ہے۔ اس کا اصل نام ازابیلا بام فری تھا اور وہ 1797 میں نیو یارک کی ایک کاؤنٹی میں پیدا ہوئی۔ غلامی اسے ورثے میں ملی کیونکہ وہ ایک غلام جوڑے کی اولاد تھی۔ وہ تیرہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی لیکن اس کی کبھی اپنے بہن بھائیوں سے ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ انہیں بچپن میں ہی فروخت کر دیا گیا تھا۔ خود ازابیلا کو نو سال کی عمر کے بعد چار مرتبہ بیچا اور خریدا گیا۔ اسے کبھی اسکول جانے کا موقع نہیں ملا، وہ لکھ پڑھ نہیں سکتی تھی۔ لیکن اس نے اپنی تقاریر کی وجہ سے شہرت پائی۔

اس کی شادی بھی ایک غلام سے ہوئی جس سے اس کے پانچ بچے ہوئے جنہیں اس کے مالک نے دوسروں کے ہاتھ بیچ دیا۔ 1827 میں ٹروتھ اپنی نوزائیدہ بچی صوفیہ کے ساتھ فرار ہو کے غلامی کے خلاف کام کرنے والے وان ویگنر کے خاندان کے پاس پہنچ گئی جس نے غلامی کے خلاف قانون منظور کرایا تھا۔ اس خاندان نے بیس ڈالر میں اسے آزادی دلوائی اور عدالت سے اس کے فروخت کیے جانے والے بیٹے کی کسٹڈی بھی دلوائی۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد اس نے چودہ سال تک گھریلو ملازمہ کی حیثیت سے کام کیا۔

1842 میں اس کا بیٹا ایک بحری سفر پر گیا اور پھر اس کی کوئی خبر نہیں ملی تو اس نے اپنی زندگی غلامی کے خاتمے اور مساوی حقوق کی جد و جہد کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہی وہ ایک پادری کے گھر کام کرنے لگی اور غلامی کے خلاف اور دیگر تبلیغی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگی۔ 1843 میں اس نے اپنا نام تبدیل کر کے سوجورن ٹروتھ رکھ لیا اور ملک بھر میں گھوم کر انصاف اور مساوات کے لئے آواز اٹھانے لگی۔ 1850 میں اس نے پہلی مرتبہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں تقریر کی اور پھر یہ سلسلہ کبھی نہیں رکا نہیں۔

اس کتاب میں ہمیں جنوبی ایشیائی خواتین کی پسندیدہ فیمنسٹ رقیہ سخاوت حسین کے بارے میں بھی پڑھنے کو ملتا ہے۔ جن کی کہانی ”سلطانہ کا خواب“ ہم سب کی من پسند کہانی ہے۔ رقیہ ایک بنگالی فیمنسٹ رائٹر، مفکر اور سیاسی ایکٹوسٹ تھیں۔ انہیں جنوبی ایشیا میں عورتوں کی آزادی کی تحریک کی بانی سمجھا جاتا ہے۔

اس کتاب میں شامل ساری خواتین ہماری ہیروز ہیں۔ نئی نسل کی لڑکیوں کا ان کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ یہ کتاب سنگ میل لاہور نے شائع کی ہے اور دیباچہ اور مقدمہ کشور ناہید اور طاہرہ عبدااللہ نے لکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے