83

حکومت نہیں ریاست بحران کا شکار ہے

فاروق سلہریا بشکریہ روزنامہ جدوجہد


جب معاشی بحران کی بات کی جاتی ہے تو عموماً تاثر دیا جاتا ہے گویا سرمایہ داروں کے اربوں ڈوب گئے ہیں کیونکہ جب اربوں کھربوں کی بات کی جاتی ہے تو عام انسان سوچتا ہے کہ اس کا اربوں کروڑوں کی رقم سے کیا لینا دینا۔ سچ تو یہ ہے کہ اکثر معاشی بحرانوں کے دوران بھی بہت سے ارب پتی اپنی دولت میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔ معاشی بحران ہمیشہ مزدور کسان کے لئے آتا ہے۔ ان کا کچومر نکلتا ہے، ان کی معیشت کا جنازہ نکلتا ہے۔

مارکسی طریقہ کار میں کسی ایک بحران کو اس کی انفرادی سطح پر دیکھنے کی بجائے تمام بحرانوں کو ایک مجموعے کی شکل میں دیکھ کر تجزیہ کیا جاتا ہے۔ مسئلہ تحریک انصاف یا موجودہ حکومت کے متزلزل ہونے کا نہیں۔ سوال صرف اس قدر بھی نہیں کہ اگلا فوجی سربراہ کون ہو گا یا پاکستانی طالبان سے کابل میں ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا۔

بحران کی بنیاد معاشی بھی ہے سیاسی بھی۔ یہ بحران دو چار سالوں کا نتیجہ نہیں، پچھتر سالہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ایک بات ذہن میں رہے کہ تیسری دنیا میں سیاست معیشت کا بھی تعین کرتی ہے۔ اس کی ایک مثال: فوج سیاست سے اس لئے نہیں جاتی کہ اس کی فوجی معیشت کو یقینی بنانے کے لئے سیاست میں رہنا ضروری ہے۔

معاشی بحران کی اس وقت تین بڑی وجوہات ہیں۔ غیر ملکی قرضے۔ دفاعی بجٹ۔ امیر لوگوں کا ٹیکس دینے کی بجائے 17 ارب ڈالر کی سالانہ سبسڈی لینا۔

ہم نے دیکھا کہ شہباز شریف حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لئے شائد اتنی خوش نہیں تھی مگر فوج نے دباؤ ڈالا۔ فوج کو پتہ ہے کہ آئی ایم ایف کو ناراض کر کے دفاعی بجٹ اور اشرافیہ کو ملنے والی سبسڈی (جس میں سے فوج کے کاروباری اداروں کو ڈھائی سو ارب ملتے ہیں) مشکل میں پڑ جائیں گے۔ فوج کی کوشش ہو گی کہ یہ بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جائے۔

کوئی بھی حکومت جو الیکشن میں جانا چاہتی ہو، وہ سارا بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتی۔ اس لئے کسی حد تک کوشش کی گئی کہ اشرافیہ پر بوجھ ڈالا جائے لہٰذا بعض درآمدات پر پابندی لگا کر تجارتی خسارہ کم کرنے کی کوشش کی گئی مگر اصل بوجھ تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے ڈال دیا۔ ساتھ ہی ساتھ 28 ارب کی سبسڈی کا اعلان کر کے زہر کو شہد کی کوٹنگ کرنے کی کوشش کی گئی۔

حکومت نہ تو دفاعی بجٹ کم کرنے کی جرات کر سکتی ہے، نہ اس میں ہمت ہے کہ قرضے دینے سے انکار کرے۔ نہ ہی یہ اشرافیہ کو ناراض کر سکتی ہے اور عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے۔ وہ کس دن سڑک پر نکلیں گے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

محنت کش نقطہ نگاہ سے سیاست کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ محنت کشوں کی کوئی سیاسی جماعت موجود ہے نہ ٹریڈ یونین کی بنیاد اس قدر وسیع ہے کہ وہ محنت کش طبقے کی مختلف پرتوں کی نمائندگی کر سکے۔ بڑی تین پارٹیوں کے علاوہ اگر کوئی متبادل، کم از کم پنجاب میں، ہے تو وہ مذہبی جنونی قوتیں ہیں جن کا خیبر پختونخواہ میں بھی ایک وسیع حلقہ موجود ہے جبکہ سندھ میں بھی ان کا اثر و نفوذ بڑھ رہا ہے۔

معاشی و سیاسی بحران کئی قسم کے سماجی بحرانوں کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ بیگانگی بڑھ رہی ہے۔ تشدد اور جرائم میں اضافہ ہے۔ عدم برداشت ایک معمول ہے۔ سائنسی سوچوں کی جگہ توہمات، سازشی تھیوریاں، جادو ٹونے اور تعویز دھاگے کا استعمال اور بڑھ گیا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کی پولیٹیکل اکانومی ایسی ہے کہ اس نے ان سماجی بحرانوں کو مزید گہرا کیا ہے۔ عوام کی اکثریت ایک ہیجان میں مبتلا ہے۔ محنت کش تو کیا، مڈل کلاس اور خوشحال لوگ بھی کسی امید کی بات نہیں کرتے۔ ہر کوئی مایوسی کی بات کر رہا ہے۔

ایسے میں ماحولیات، ویسٹ مینجمنٹ کی کمی، آبادی کا بے ہنگم اضافہ، شہری سہولتوں کی عدم فراہمی، صنفی برابری اور ایسے کئی سوال مندرجہ بالا بحرانوں کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ ان بحرانوں کو نہ تو حالیہ حکومتیں ختم کر سکتی ہیں نہ ہی آنے والی ایسی حکومتیں جو نئیو لبرل ایجنڈے (نجکاری، ڈی ریگولیشن، سبسڈیز کا خاتمہ، تجارتی ٹیرف کا خاتمہ) پر کاربند رہے گی۔

پاکستان کا حکمران طبقہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ اس طبقے نے ریاست کو ایک بند گلی میں پہنچا دیا ہے۔ اس لئے صرف حکومتیں بدلنے سے بحران حل نہیں ہو گا، حکمران طبقہ بدلنا ہو گا کیونکہ بحران کا شکار حکومت نہیں، یہ سرمایہ دار ریاست ہے۔

مزدور طبقے کو اپنا حق حکمرانی حاصل کرنا ہو گا۔ اس سے کم کوئی بھی ’حل‘ بحران کو مزید گہرا کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں