606

کاش آغا خان ڈائیگناسٹک سینٹر کچھ ماہ پہلے ہوتا۔۔۔

شفیق احمد


مناہیل! کاش یہی سہولیات آپ کی رحلت سے چند مہینے قبل میسر ہوتیں۔ شاید ان سے تمہاری زندگی بچ سکتی تھی۔

آج مجھے آج ”آغا خان تشخیصی مرکز کڑوپ رشت چترال جانے کا اتفاق ہوا۔ آغا خان ہیلتھ سروس کو دنیا بھر میں بہترین سروس کی وجہ سے شہرت حاصل ہے۔ میری ڈھائی سالہ ننھی پری مناہیل زہرہ شفیق دل کے عارضے میں مبتلا تھی۔ یعنی دل میں سوراخ تھا۔ پیدائش کے دس مہینے بعد ڈاکٹر گلزار صاحب نے ای سی او ٹیسٹ کرنے کامشورہ دیا بلکہ ان کی طرف سے کنفرم عارضے کی نشاندہی کی گٸی۔ اس دوران ماہر امراض قلب ڈاکٹر غفار صاحب کے ای سی او مشین سمیت چترال تشریف لانے کی خبر ڈاکٹر گلزار صاحب نے سنائی اور معائنے کے دوران انکشاف ہوا کہ ای سی او مشین بچوں کےلٸے نہیں ہے، اس کے لٸے آپ کو پشاور جانا ہوگا۔

اس وقت کرونا کی وبا ملک میں مکمل طور پھیل چکی تھی۔ اسی شام شہاب الدین کا پہلے کرونا مریض کے طور پر نام سامنے آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا۔ قرنطینہ، پازیٹیو، نیگیٹیو، ماسک، سنیٹاٸزر کے علاوہ کوئی اور آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ زندگی غیر یقینی ہوگٸی تھی۔ اس پہ اعتبار ختم ہو چکا تھا اور اس بے چینی کے عالم میں ہم مناہیل کو پشاور لے جانے میں بری طرح ناکام رہے۔

اکتوبر کے مہینے میں فوجی فاونڈیشن ہسپتال میں ڈاکٹر اعجاز صاحب سے ای سی او کرانے کے بعد ڈاکٹر مجید کی طرف سے فوراً آپریشن کرانے کی ہدایت ملی۔ مارچ میں آپریشن کی تاریخ مقرر کی گئی۔جب مارچ کے مہینے میں ہم پوری تیاری کے ساتھ پشاور پہنچ گٸے تو ان کی طرف سے کہا گیا کہ ہم نے تو مارچ کے مہینے تاریخ دینے کو کہا تھا آپریشن کا نہیں۔ لہذا چھ اکتوبر کے لٸے تاریخ دی گٸی۔ اس دوران خواہش تھی کہ آغا خان ہسپتال کراچی سے سرجری کراؤں تو دوسری طرف پی آئی سی پشاور کا افتتاح کرایا گیا۔ ہم تیسری مرتبہ پچیس ستمبر کے دن فوجی فاونڈیشن سے مقررہ تاریخ میں آپریشن کرانے کی کوشش کی تو ڈاکٹر مجید نے کیس لینے سے صاف انکار کر دیا بلکہ کراچی جانے کا مشورہ دیا۔ پشاور کے دیگر ماہرین امراض قلب سے مشورے کے بعد ہم پشاور انسٹیٹیوٹ اف کارڈیالوجی میں چھ اکتوبر کے دن بچی کو داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ بچی کو ٹمپریچر کی وجہ سے انجیوگرافی کرانے میں دقت پیش آرہی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے ڈینگی ہوئی تھی اس وجہ سے شدید بے چینی ہو رہی تھی۔ پی آئی سی میں جدید آلات سے لیس ماہرین سے مل کر نہایت خوشی ہوئی۔ ڈاکٹر مبشر صاحب اور ڈاکٹر اعجاز صاحب نے تسلی دی۔ ہسپتال میں سہولیات کو دیکھ کر مجھے بھی چین آیا۔

پورے ایک مہینے بعد میری بچی کا کامیاب ”اوپن ہارٹ “ سر جری ہوٸی لیکن زخم کو مندمل ہونے میں وقت تو لگتا ہے۔ مجھے اس زخم کے بارے میں آگاہی نہیں تھی۔ ہمیں کسی ڈاکٹر یا کسی عزیز کی طرف سے بھی پشاور میں ٹھہرنے کا مشورہ نہیں ملا۔ مجھے یقیناً پشاور سے نکلنے کی خواہش ستا رہی تھی۔ ہم بچی کے ہمراہ چترال پہنچ گٸے مگر زخم خراب ہو گیا۔ ڈاکٹر بلال نے بچی کو فوراً پشاور پہنچانے کا مشورہ دیا۔

دو مہینے تک ہم پی آئی سی میں رہے۔ مناہیل کو تمام سٹاف اپنی بچی کی طرح پیار کر رہے تھے۔ سب نے اپنی بساط سے بڑھ ان کی خدمت کی، ہمیں احترام سے نوازتے رہے اور ہر قسم کی سہولیات فراہم کرتے رہے۔

مارچ کے مہینے میں ہم دوبارہ چترال پہنچ گئے۔ کلچر رپورٹ آنے کے بعد پتہ چلا کہ "کریٹینین پروٹین“ کی سطح اوپر ہے جو کہ پریشان کن تھا۔ انفیکشن ختم کرنے کے لیے جو ڈوز دیے جا رہے تھے ان کی وجہ سے گردوں کا فنکشن بھی متاثر ہو چکا تھا۔ 5 مارچ 2022 کی شام میری ننھی پری مناہیل کی طبیعت اچانک خراب ہو گٸی۔ ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن میرہ بیٹی راستے میں ہی دم توڑ چکی تھی۔ ہمیں یقین نہیں آرہا تھا کہ مناہیل مر چکی ہے۔ میرا ارداہ تھا راتوں رات دوبارہ پشاور پہنچا دوں لیکن وہ فرصت ہمیں نہیں ملی۔

ان کی ماں ان سے لپٹ کر روتی رہی۔ یوں سمجھے اپنی زندگی انکے لیے وقف کر رکھی تھی۔
ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ میرے احباب اس دوران ہسپتال پہنچ کر ہمیں گھر لے آئے۔ بیٹی کو سویرے آبائی گاؤں رائین پہنچا کر دفنایا گیا۔ پشاور میں قیام کے دوران میں بار بار سوچ رہا تھا چترال میں یہی سہولیات کب میسر آئیں گیاور کتنے لوگ مناہیل کی طرح اپنی جانیں گنواتے رہینگے۔ آج چترال ٹاؤن میں آغا خان ڈائیگناسٹک سینٹر کے منیجر اور میرے یونیورسٹی فیلو مجھے بریفینگ دیتے وقت سی۔ٹی سکین مشین کی طرف اشارہ کرتے ہوٸے بولا یہ سہولت پختونخواہ میں صرف پی آئی سی پشاور اور ہمارے پاس موجود ہے اور کہیں بھی جدید طرز کی یہ مہنگی مشین میسر نہیں ہے۔ مجھے پی آئی سی کا نام سن کر مناہیل اور وہی سہولیات آنکھوں کے سامنے پھرتے رہے جن کو میں خواب سمجھ رہا تھا۔ اس وقت یہ ڈائیگناسٹک سینٹر چترال میں نہیں بنا تھا۔ صرف کام جاری تھا۔ میں سیلوٹ پیش کرتا ہوں آغا خان ہیلتھ سروس کو جنہوں نے ہمیں طب کے حوالے سے جدید سہولیات سے آراستہ کیا ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے پی آئی سی کی شکل میں سہولیات فراہم کی ہے۔

مناہیل! میری بچی تیری قسمت میں یہ سہولیات میسر نہیں تھیں۔ اگر یہ سہولیات میسر ہوتیں تو آج مجھے آپریشن سے قبل پانچ مرتبہ پشاور جانے کی ضرورت نہ پڑتی اور یہیں سے سارے معائنے کرواتا، تاریخ مقرر کرتے اور سرجری کے روز کراچی پہنچ کر آپریشن کرواتا۔

جس سے میں خواب سمجھ رہا تھا وہ یقین میں بدل گیا ہے۔ مجھے امید ہے آج کے بعد مناہیل کی طرح کٸی جانیں بچ جاٸیں گی۔ مجھے یقین ہے آج کے بعد کسی کو زیادہ مشکلات پیش نہیں آٸیں گی۔ مجھے ان مشینوں کی اہمیت کا بخوبی ادراک ہے۔ آج میں ان سہولیات کو چترال میں پا کر خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ یقیناً انسانیت کی خدمت میں یہ ادارے سر فہرست رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں