59

نوجوان موسیقار ضیاء الکریم کی ناگہانی موت پورے ملک کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے، مداحوں کا اظہارِ افسوس

ویب ڈیسک


پرسوں رات ہنزہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان موسیقار ضیاء الکریم کا ہنزہ میں ایک موٹرسائیکل حادثے میں انتقال ہوگیا تھا جس کے بعد ملک کے طول و عرض میں پھیلے ان کے مداحوں اور سیاسی و سماجی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا۔

ضیاء الکریم نے این سی اے لاہور سے موسیقی میں ماسٹرز کیا ہوا تھا اور التت میں قائم ایل ایل ایم سی نامی میوزک اسکول میں نوجوانوں کو موسیقی کی تربیت دیتے تھے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کی روایتی موسیقی کو جدید آلاتِ غنا کے استعمال سے جدت بخشی۔ ضیاء نے روایتی ساز ژیغیکینی میں تبدیلی کرکے اسے جدید موسیقی میں استعمال کے قابل بنایا۔
انہیں اپنے شعبے میں بے انتہا مہارت حاصل تھی جس کی وجہ سے انہیں گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں پہچانا جاتا تھا۔
ان کی ناگہانی موت کی خبر نے ان کے ہزاروں مداحوں کو دکھ اور صدمے میں مبتلا کردیا۔

عوامی ورکرز پارٹی ہنزہ کے صدر نوجوان ظہور الہیٰ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہنزہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان موسیقار ضیاء الکریم کی ناگہانی موت گلگت بلتستان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ورکرز پارٹی غم کی اس گھڑی میں لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

ایکسپریس ٹی وی سے تعلق رکھنے والے وقار احمد ملک نے لکھا کہ ضیاء الکریم جیسے لوگوں کی مثال اس ملک میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ معروف دانشور اور بلاگر حاشر ابن ارشاد نے کہا کہ ضیاء الکریم کی اچانک رحلت سے دل دکھ سے بھر گیا ہے۔ گلگت بلتستان کے معروف فنکار جابر خان کا کہنا تھا کہ فنکار برادری آج ایک ہونہار موسیقار سے محروم ہوگئی ہے۔ موسیقار نیاز ہنزائی نے اپنے دکھ کا اظہار کیا اور ضیاء الکریم کے درجات کی بلندی کی دعا کی۔
ہنزہ سے تعلق رکھنے والے معروف آرٹسٹ عمران ہنزائی اپنے غم کا اظہار اشعار کے پیرائے میں کرتے ہوئے کہا کہ ضیاء ایک روشنی تھا جو کبھی بجھ نہیں سکتی۔

ضیا الکریم حادثے سے قبل صدرِ پاکستان عارف علوی کے ساتھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں