177

دوغلے پن کی بھی انتہا ہوتی ہے

دیدار علی


کبھی کبھار اپنے معاشرے کے لوگوں کے بارے میں سوچ کے بہت افسوس ہوتا ہے کہ یہ کس قسم کا معاشرہ ہے۔ یہاں رہتے تو انسان ہیں مگر یہ انسان اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں کہ ان کو انسان کہتے بھی شرم آتی ہے۔ اپ ان لوگوں کو حیوان نہیں کہہ سکتے اس سے حیوانوں کی توہین ہوگی۔ حال ہی میں چھاشئ پھنڈر کے واقع کو دیکھے۔
اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ ہمارے لوگ کبھی ایک روپ میں نظر نہیں آتے۔ دوغلے پن کی حد پار کردیتے ہیں۔
جب کوئی معصوم بچی ڈانس کرتی ہے تو سب اس کو گالیاں دینا شروع کرتے ہیں اور ہر کوئی منہ اٹھا کر کفر کا فتوہ اور ثقافت کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتا ہے۔ جب بھی کسی خاتون کی ڈانس کی ویڈیو منظر عام پر آتی ہیں تو چوری کرنے والا، دھوکا دینے والا، ناجائز ذرائع سے کمانے والا، امتحاں میں نقل کرنے والے یعنی سب برے کام کرنے والے صف اول میں آ کے ڈانس کرنے والی خاتون کو گالیاں، اور کفر کے فتوے اور دوزخ کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے کبھی مذہب (اسلام) کو کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے، کبھی اسلامی تعلیمات کا خود مطالعہ نہیں کیا ہے سو اس لے یہ لوگ دوسروں کو کفر کے فتوے دیتے ہیں۔ ہمارا یہ معاشرہ سب سے زیادہ خوفزادہ کسی شیر یا جانور سے ہے بلکہ ایک باشعور و با ہمت خاتون سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک باشعور و باہمت خاتون جب اپنے حق کے لئے آواز بلند کرتی ہے تو منافقت پر مبنی یہ پدرشاہی نظام لرزنا شروع ہوجاتا ہے اور ہر آواز بلند کرنے والی عورت کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ہی لیے ہمارے لوگ (مرد) خواتین کی آواز کو دبا دیتے ہیں، انکو گھروں بند رہنا سکھایا جاتا ہے۔ ان کو ہر ظلم سہنا سیکھایا جاتا ہے مگر کبھی اپنے حق کے لے بولنا نہیں سکھاتے ۔
دو دن پہلے گلگت میں بچوں کی فحش فلمیں بنانے والے ایک گروپ کو پکڑا گیا مگر اس کے بارے میں بات کرتے بہت کم ہی لوگوں کو دیکھا۔ چند صحافی اور کچھ حق پرست دوستوں نے اس پہ بات کی مگر ڈانس کرنے پہ فتوہ دینے والے سب خاموش ہیں۔ دین اور ثقافت کے ٹھیکیداروں کے حلقوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ مجھے بہت حیرت ہورہی ہے کہ جو لوگ ایک پانچ سالہ لڑکی کے رقص کرنے پہ پورے علاقے کو سر پہ اٹھانے والے اس معاملے پہ کیوں خاموش ہیں؟
کیا یہ کفر نہیں؟
کیا یہ ثقافت کے منافی نہیں؟
کیا اس کی اجازت ہے مذہب میں؟
یہ اتنا گھٹیا کام ہے مگر پھر بھی لوگ چپ ہیں۔ یہ دوغلے پن کی انتہا نہیں تو کیا ہے؟
ابھی کچھ دنوں پہلے ہی کی بات ہے کہ گلگت کے ایک سکول میں ایک بچے کو گرفتار کیا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ ان نے سکول سے سرریہ چوری کرتے پکڑا گیا تھا۔
پولیس والوں اور سکول کے عہدیداران نے بچے کو پکڑنے کے بعد تصویر نکالی اور فخر محسوس کر رہے تھے۔ مجھے ان کو دیکھ کہ افسوس ہورہا تھا۔ اس بچے کو کسی سکول میں داخل کرانے کے بجائے تھانہ لے گئے اور یہ سوچ کے تصویر سوشل میڈیا پہ ڈالی کہ ہم نے بڑا کمال کیا۔ یہ کمال نہیں بلکہ ہماری ذہنی پستی ہے۔
کمال تو بچوں کی فحش فلمیں بنانے والوں کو پکڑ کے کیا مگر افسوس آپ انکی شناخت کو پوشیدہ رکھ کے اس معاملے کو بند کمروں میں حال کرنا چاہتے ہیں۔
چائلڈ رائٹس پر کام کرنے والے ادارے اور تمام حق پرست لوگوں سے گزارش ہے کہ ان ملزمان کی سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کریں اور انکی شناخت کو پبلک کرنے کی ڈیمانڈ کریں تاکہ آئندہ کوئی ایسی ناپاک حرکت کرنے کی جرات نہ کریں۔
ان ملزمان کو عدالت میں لے جانا چاہئے اور پبلک کو بھی بتا دیا جائے کہ آخر یہ انسان نما جانوروں کی شکلیں کیسے دکھتی ہے تا کہ ہم سب آگاہ ہوں۔


دیدار علی کا تعلق گوپس ضلع غذر سے ہے۔ وہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان کے سرگرم رُکن ہیں اور سماجی مسائل پر مضامین لکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں