61

گول میز کانفرنس تاریخی حقائق، سر ظفراللہ خان کے قلم سے

آصف منہاس


جناب عمران خان صاحب کے بزرگوں کی شرکت کے حوالے سے گول میز کانفرنس کا ذکر چھڑا ہے۔ بحث جاری ہے۔ عمران خان صاحب کی باتوں میں تاریخی تضادات ہیں۔ ان تضادات سے پہلے آئیے ان تینوں گول میز کانفرنسز میں شریک شخصیت کی زبانی اس کانفرنس کا حال جانتے ہیں۔
مسلم لیگ کے صدر چوہدری سر محمد ظفراللہ خان ہندوستان، تقسیم ہندوستان اور بعد میں پاکستان کی سیاست میں بہت اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کی سوانح عمری تحدیث نعمت خاصے کی چیز ہے جس میں بلا کم و کاست انہوں نے تمام حالات تحریر کئے ہیں۔ ان کی تحریر اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ گول میز کانفرنس کے کام کو جاری رکھنے کے لئے مشاورتی کمیٹی کے بھی ممبر رہے۔ تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے انہوں نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے ناموں پر اصرار کیا جن میں سے ایک نام پر اتفاق ہوا۔
لکھتے ہیں “1930 میں وزیراعظم ریمزے میکڈانلڈ نے ہندوستان کے آئینی مستقبل پر از سر نو غور کرنے کے لئے لندن میں ایک گول میز کانفرنس طلب کی۔ اکتوبر میں اس کانفرنس کے اجلاس سینٹ جیمز پیلس میں شروع ہوئے۔ کانگریس نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔ مندوبین حکومت کے نامزد کئے ہوئے تھے۔۔۔مسٹر شاستری، سر تیج بہادرسپرو، مسٹر جیکار، سر چمن لال سیتلواو، مسٹر فیروز سٹھینا، سر مانک جی دادا بھائی، مسٹر چنتا منی، سر اے پی پاٹرو، سر راما سوامی مدلیار، سر آغا خان، مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی ، سر میاں محمد شفیع، مسٹر جناح(قائد اعظم)، سر سید سلطان احمد، نواب صاحب چھتاری، خان بہادر حافظ ہدایت حسین، سر عبدالحلیم غزنوی، مولوی ابوالقاسم فضل الحق، سر غلام حسین ہدایت اللہ، نواب سر عبد القیوم خان، بیگم شاہنواز، سردار اجل سنگھ، سردار سمپورن سنگھ، مسٹر جوشی، مسٹر امبیدکار، نواب صاحب بھوپال، مہاراجہ بیکانیر، سر اکبر حیدری، سر مرزا اسمعیل، سر لیاقت حیات خان اور کئی دیگر ممتاز شخصیتوں کی موجودگی اس امر کی ضامن تھی کہ ہر نقطہ نگاہ کے اظہار کے لئے کانفرنس میں پورا موقع میسر ہوگا۔۔۔پہلی گول میز کانفرنس میں خان بہادر میاں عبدالعزیز فلک پیما اور مسٹر آلما لطیفی سیکریٹریٹ میں شامل تھے۔ سید امجد علی صاحب اپنے خرچ پر تمام اجلاسوں میں شامل رہے۔”
اس کانفرنس میں سر شاہنواز بھٹو ( ذوالفقار علی بھٹو کے والد)بھی سندھ سےنمائندہ تھے۔مسلم وفد کی سربراہی سر آغاخان سوم نے کی۔ کانگریس پارٹی نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر قائد اعظم نے ہندوستان واپسی کا ارادہ ترک کردیا اور عملاً سیاست سے کنارہ کش ہوکر انگلستان میں وکالت شروع کردی۔ اسی کانفرنس میں شرکت سے پہلے ہی مولانا محمد علی جوہر کی طبیعت خراب تھی۔ چوہدری صاحب لکھتے ہیں “کرسمس کی تعطیل میں ضعف بڑھنا شروع ہوگیا، آخری ایام میں اپنا سیاسی وصیت نامہ لکھوایا اور 4 جنوری 1931 کو داری اجل کو لبیک کہا۔۔۔”
دوسری گول میز کانفرنس ستمبر 1931 میں منعقد ہوئی۔ ایک سمجھوتے کے تحت کانگریس کوراضی کیا گیا۔ کانگریس نے مہاتما گاندھی کو کانگریس کا واحد نمائندہ مقرر کیا۔ ساتھ یہ تجویز دی کہ ڈاکٹر انصاری مسلمانوں کے اکلوتے نمائندے ہوں۔ مسلمان عمائدین نے اس کی مخالفت کی کہ کانگریس انہیں اپنے نمائندے کے طور پر شامل کرنا چاہے تو کرلے مسلمانوں کی نمائندگی وہ نہیں کریں گے۔ مسلم نمائندگان میں سر آغاخان سوم، قائد اعظم، علامہ اقبال، اے کے فضل حق، سر ظفراللہ خان، مولانا شوکت علی وغیرہ شامل تھے۔
کانفرنس میں سروجنی نائیڈو کی کوشش سے مسلم وفد اور گاندھی جی کے درمیان مختلف معاملات میں مفاہمت کے لئے سر آغا خان نے گاندھی جی کو شام کے کھانے پر دعوت دی۔ سر ظفراللہ خان اس دعوت کا احوال لکھتے ہیں:
“ ہز ہائی نس سر آغاخان نے سب کی طرف سےعظیم المرتبت مہمان کو خوش آمدید کہااور آرام کرسی آپ کے بیٹھنے کے لئے پیش کی۔ گاندھی جی نے انکار میں سر ہلایا، مسکرائے اور فرمایا مجھے فرش پر بیٹھنا پسند ہے۔آپ کے ہاتھ میں ساگوان کا ایک خوبصورت باکس تھا۔۔۔بکس کھلنے پر اس میں سے ایک چھوٹا سا پیتل کا چرخہ نکلا جو تہہ کیا ہوا تھا۔ گاندھی جی نے اسے احتیاط سے کھول کر فرش پر رکھا اور خاموشی سے چرخہ کاتنا شروع کردیا۔ جب دو ایک تاریں نکال چکے تو نگہ اوپر اٹھائی اور مسکراتے ہوئے اشارہ کیا کہ ہم گفتگو پر آمادہ ہیں۔۔۔دو گھنٹے سے زائد گفتگو جاری رہی۔ مسٹر جناح کے چودہ نکات زیر بحث تھے۔ گاندھی جی نے فرمایا ان میں سے بعض مطالبات کو نہ صرف میں تسلیم کرتا ہوں بلکہ ان کی تائید میں ہوں”
چوہدری سر ظفراللہ خان صاحب کے مطابق بالآخر تیرہ نکات پر اتفاق ہوگیا صرف جداگانہ نیابت کے مسئلے پر گاندھی جی کا اصرار رہا کہ وہ ڈاکٹر انصاری صاحب کی موجودگی ہی میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ گاندھی جی نے جواباً مسلمان وفد سے تحریری طور پر مطالبہ کیا کہ ان کی تجاویز کی بھی کانفرنس میں مخالفت نہ کی جائے۔ اس میں ایک تجویز اچھوت ہندووں سے متعلق تھی جس میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا اور یہ تجاویز سرے نہ چڑھ سکیں۔
تیسری گول میز کانفرنس منعقدہ 1932کے وقت سر ظفراللہ خان، سر میاں فضل حسین کی جگہ وائسرے کونسل کے قائمقام ممبر تھے۔ انہوں نے مسلم وفد کے نام پیش کئے جو وزیر ہند کو منظوری کے لئے بھجوائے گئے۔ لکھتے ہیں:
“وزیر ہند نے میرے تجویز کردہ ناموں میں سے دو کے متعلق اختلاف کیا۔ (قائد اعظم) مسٹر جناح کے متعلق لکھا “وہ ہر بات پر تنقید تو بہت کڑی کرتے ہیں لیکن کوئی اثباتی حل پیش نہیں کرتے۔ اب انہوں نے مستقل طور پر لندن میں رہائش اختیار کر لی ہے، ہندوستان کے معاملات کے ساتھ ان کا براہ راست تعلق نہیں رہا۔“ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے متعلق لکھا “وہ دوسری گول میز کانفرنس میں تشریف لائے تھے لیکن انہوں نے کانفرنس کے دوران میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔” میں نے دونوں اصحاب کی شمولیت پر پُرزور اصرار کیا اور وائسرائے نے میری معروضات وزیر ہند کی خدمت میں بھیج دیں۔ بالآخر وہ ڈاکٹر صاحب کو شامل کرنے پر تو رضامند ہوگئے لیکن (قائد اعظم) مسٹر جناح کے متعلق میری سعی ناکام رہی۔”

عمران خان صاحب نے جو تصویر شیئر کی ہے اس کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ یہ پہلی گول میز کانفرنس منعقدہ 1930 کی ہے۔ یہ تاریخی اعتبار سے پہلی گول میز کانفرنس اور تیسری گول میز کانفرنس نہیں ہوسکتی ۔ کیونکہ پہلی کانفرنس میں علامہ اقبال شامل نہیں تھے اور تیسری کانفرنس میں قائد اعظم شریک نہیں تھے۔اگر سال کی غلطی مان لی جائے تو دوسری کانفرنس ممکن ہے جو 1931 میں منعقد ہوئی۔ لیکن مختلف ویب سائٹس کے حوالے سے یہ ثابت ہے کہ محمد زمان خان صاحب اور جہانگیر خان صاحب تینوں گول میز کانفرنسز میں مندوب نہیں تھے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ لندن میں موجود ہندوستان سے تعلق رکھنے والے احباب کسی موقعے پرکسی اور میٹنگ یا ڈنر وغیرہ پر اکٹھے ہوئے ہوں جس کی تصویر عمران خان صاحب نے شیئر کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں