66

یوسف مستی خان کا تعزیتی اجلاس


ہائی ایشیاء ہیرالڈ


یوسف مستی خان سیاست دانوں کی اس نایاب نسل کی نمائندگی کرتے  جو اپنی آخری سانس تک مظلوم قوموں، خواتین، مذہبی طور پر ستائے ہوئے طبقوں اور محنت کش عوام کے ساتھ کھڑے رہنے اور اقتدار کے سامنے سچ بولنے کے عزم پر قائم رہے۔

انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے بار بار انکار کیا۔ انہیں ایم پی اے یا ایم این اے بننے کے لیے متعدد شارٹ کٹس کی پیشکش کی گئی لیکن ہر موقع پر انہوں نے انکار کر دیا،وہ حقیقی طور پر ترقی پسند سیاست کا مظہر تھے،

انہوں نے ریاست اور معاشرے میں عسکریت پسندی کے خلاف ہمیشہ بے خوفی سے بات کی اور ترقی پسند قوتوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو جائیں،ر آج کے نوجوانوں کو یوسف مستی خان کے راستے کو اپنانا چاہیے، مقررین نے ان خیالات کا اظہارنیشنل پریس کلب اسلام آباد میں عوامی ورکرز پارٹی کے گزشتہ ہفتے کراچی میں کینسر کے ساتھ طویل جنگ کے بعد انتقال کرنے والےصدر یوسف مستی خان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں انکی حیات و جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کیا،

تعزیتی ریفرنس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےافراد، عوامی ورکرز پارٹی کے کارکنوں، طلبہ، دانشوروں، کچی آبادیوں کے باشندوں اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئےبی این پی کے اختر مینگل نے کہا کہ یوسف مستی خان نے کبھی بھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہیں ایم پی اے یا ایم این اے بننے کے لیے متعدد شارٹ کٹس کی پیشکش کی گئی لیکن ہر موقع پر انہوں نے انکار کر دیا۔پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یوسف مستی خان نے ریاست اور معاشرے میں عسکریت پسندی کے خلاف ہمیشہ بے خوفی سے بات کی اور ترقی پسند قوتوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو جائیں۔

وہ لاپتہ افراد کے حق میں زوردار آواز اٹھاتے تھے اور ساتھ ہی پاکستان کی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں کو ریاستی قومی سلامتی سے دور رکھنے کے حق میں تھے،نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو نے کہا کہ یوسف مستی خان میر غوث بخش بزنجو کے سب سے قریبی شاگرد تھے،

اور اس بات پر زور دیتے رہے کہ طبقاتی اور قومی مسائل کو یکجا ہو کر حل کیا جائے ورنہ نفرت انگیز سیاست کبھی بھی ختم نہیں کی جا سکتی۔ عوامی ورکرز پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عاصم سجاد نے کہا کہ یوسف مستی خان سیاست دانوں کی اس نایاب نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنی آخری سانس تک مظلوم قوموں، خواتین، مذہبی طور پر ستائے ہوئے طبقوں اور محنت کش عوام کے ساتھ کھڑے رہنے اور اقتدار کے سامنے سچ بولنے کے عزم پر قائم رہے۔

یوسف مستی خان حقیقی طور پر ترقی پسند سیاست کا مظہر تھے، آج کے نوجوانوں کو یوسف مستی خان کے راستے کو اپنانا چاہیے ، تقریب سے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر, پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی عصمت شاہجہان اور طوبیٰ سید، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے شفیق ترین، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین کے ڈاکٹر چنگیز ملک، اور پروگریسیو سٹوڈنٹس فیڈریشن کے شاہ رکن نے بھی خطاب کیا ۔

فوٹو (جاوید اے ملک این پی سی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں