53

طلبہ سیاست


تحریر: دیدار علی


طالب علم کمیونٹی ملک کی آبادی کا سب سے زیادہ ترقی پسند، واضح، حوصلہ افزا اور متحرک طبقہ ہے۔

ایک طالب علم کی بے شمار ذمہ دایاں اور فرائض ہیں جنہیں پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کا  اولین مقصد حصول علم ہے اور اسی کے لئے وہ مکتب کی چاردیواری میں قدم رکھتا ہے۔ یہی علم ایک حیوان نما انسان کو انسان اور انسان کو با خدا انسان بنا دیتا ہے۔

آسان الفاظ میں کہے تو علم ہمیں حقیقی معنوں میں انسان بناتا ہے۔ اسی لیے اس کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ جس عظیم مقصد کے لیے سکول، کالج یا یونیورسٹی میں داخل ہوا ہے اسے با احسن طریقے سے پورا کرے۔

حصول علم ایک پاکیزہ مقصد ہے اور یہ ایک دینی فریضہ بھی ہے۔ اگر کوئی طالب علم یہ چاہتا ہے کہ اسے دور حاضر میں اخلاقی عظمتوں، ذہنی اور سائنسی ترقی اور کائنات کے لامحدود وسعتوں کے متعلق معلومات حاصل ہو تاکہ ان کی روشنی میں اپنی زندگی کا لائحہ عمل طے کر سکے تو اس کے لیے اولین ذمہ داری حصول علم ہے۔

طلباء سیاست بھی دور طالبعلمی کا ایک اہم حصہ ہے لیکن اس پر بحث کرنے سے پہلےلفظ طلباء سیاست کیا ہے اور طالب علموں کا سیاست سے وابستگی کیوں ضروری ہے۔؟ پر بحث کرنا ضروری ہے۔

 سیاست ایک سائنس ہے، جو ریاست اور اس کے عوام کی عام فلاح و بہبود کو فروغ دینے سے متعلق ہے. جس طرح سائنس کے قوانین ہوتے ہیں، اسی طرح سیاست کے بھی اپنے قوانین، آئین اور منشور ہوتے ہیں جو آئینی دائروں میں رہ کر عوام کے حقوق کی تحفظ کرتے ہیں۔

 ایک معاشرے میں جتنے بھی سماجی سرگرمیاں ہو رہی ہیں وہ بھی  سیاست کے حصے ہیں۔

طالب علموں کو ان کے کردار کے بارے میں پتا ہونا چاہیے۔کسی بھی معاشرے کا جو انقلابی طبقہ ہوتا ہے وہ طالب علموں پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ ہی وہ طبقہ ہے جس کے محنت کی وجہ سے معاشرے میں تبدیلی رونماں ہوتی ہے۔

اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کو برطانوی سامراج سے آذادی دلانے میں طالب علم کمیونٹی کا کلیدی کردار رہا ہے۔برصغیر پاک و ہند میں پچھلی صدی میں چلنے والی جدوجہد آزادی میں بھی طلبہ نے ایک اہم رول ادا کیا تھا۔ طلبہ کا ایک بڑاحصہ سامراج کے خلاف بغاوت کا حصہ بنا۔

 طلبہ اور نوجوانوں نے "HSRA”(ہندوستان سوشلسٹ ریپبلک آرمی) کی شکل میں ایک تنظیم بناٸی، آذاد تحریک چلاٸی اور مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ان میں قیادت کا کردار بھگت سنگھ‘ سکھ دیو‘ بی کے دت‘ راج گرو اور دوسرے کالج کےطلباء کا تھا۔

نوجوانوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ 1950ء سے 1980ء تک تیس برس طلبا پاکستان میں جمہوریت کی بحالی، عام آدمی کے شہری اور انسانی حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لیے جدوجہد کا ہر اول دستہ تھے۔ یہ طلبا ہی تھے، جنھوں تعلیم عام کیے جانے اور غریب طبقات کے بچوں کی تعلیم تک رسائی کے لیے 8 جنوری 1953ء کو اپنے سینے پر گولیاں کھائیں اور آٹھ نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

1959ء میں ایوب آمریت کو پہلی بار طلبا ہی نے کھل کر چیلنج کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب بیشتر سیاسی رہنما ایبڈو کا شکار ہوئے یا تو جیلوں میں تھے یا گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) نے سیاسی جمود کو توڑا اور آمریت کو کھل کر چیلنج کیا۔

طلبہ سیاست کو یونیورسٹیوں اور کالجوں میں فروغ دینے کا مقصد صرف یہی تھا کہ طلبہ حقوق کی تحفظ اور عوام میں علم و شعور کو اجاگر کرنا، قومی مسائل کو سامنے لانا، کرپٹ حکمرانوں اور اداروں کے خلاف جنگ لڑنا اور سارے طالب علموں کو منظم طریقے سے ایک پلیٹ فورم پر جمع کرنے کا عمل ہے۔ طلبہ تنظیموں کا مقصد یہ رہا ہے کہ ادارے اور خارجہ کے اندر دونوں طالب علموں کی نمائندگی کرنا، بشمول مقامی اور قومی مسائل پر. طلبا کے اتحادیوں کو مختلف قسم کی خدمات فراہم کرنے کے لئے بھی ذمہ دار ہیں۔

پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی جنرل ضیا الحق نے 1984 میں لگائی تھی۔ جناح انسٹی ٹیوٹ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے میں جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمیت طلبہ نے بنیادی کردار ادا کیا تھا جو بعد میں ضیا الحق کے ساتھ مل کر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں پر کریک ڈاؤن کے لیے منصوبہ بنا رہے تھے.اس مقالے کے مطابق جمعیت کو ریاستی سپورٹ حاصل ہونے کے باوجود ان کے مخالف طلبہ تنظیموں کے الائنس، جس میں’نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن‘ جو پیپلز پارٹی کی ذیلی تنظیم ’پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن‘ میں ضم ہوگئی اور متحدہ قومی موومنٹ کی طلبہ تنظیم ’آل پاکستان متحدہ سٹوڈٹنس آرگنائزیشن‘ یعنی اے پی ایم ایس او شامل تھی، نے 1983 میں اسلامی جمعیت طلبہ کو شکست دے کر یونین کے انتخابات جیت لیے۔ رپورٹ کے مطابق جنرل ضیا الحق کو یہ خوف لاحق ہوگیا کہ اب شاید یہ طلبہ ان کے خلاف کوئی تحریک شروع نہ کریں تو انہوں نے اگلے سال 1984 میں طلبہ یونین پر پابندی لگا دی۔

پاکستان میں سیاسی پارٹیاں ہوں، مذہبی یا قوم پرست پارٹیاں، چاہے بیوروکریٹس ہوں یہاں تک کہ ریٹائرڈ اور حاضر سروس جرنیل بھی ملک کے نوجوانوں بالخصوص پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنے فرائض کو سمجھنے اور اپنا کردار ادا کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر وہ طلبہ کے بنیادی حق طلبہ یونینز پر لگی پابندی پر کوئی سنجیدہ بات نہیں کرتے اور یوں ایک آمر کی لگائی ہوئی پابندی آج تک برقرار ہے۔

بات صرف طلبہ یونینز پر پابندی کی نہیں ہے۔جب ضیا آمریت میں طلبہ یونینز پر پابندی لگی تب سے ریاست نے میڈیا، نصاب اور اپنی گماشتہ طلبہ تنظیموں کے ذریعے طلبہ یونینز اور طلبہ سیاست کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا شروع کیا جو کہ آج تک جاری ہے۔ غنڈہ گردی، مارکٹائی، اسلحہ کلچر اور منشیات فروشی کا دوسرا نام طلبہ سیاست کو ٹھہرا دیا گیا۔ تعلیمی نصاب سے طلبہ سیاست کی تاریخ کو اس طرح غائب کردیا گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اگر کہیں کوئی تذکرہ ملتا ہے تو وہ یہی کہ طلبہ سیاست اور طلبہ یونینز تعلیمی اداروں کا پرامن ماحول خراب کرتی ہیں اور غنڈہ گردی اور اسلحہ کلچر کو فروغ دیتی ہیں۔

طلبا تنظیموں اور طلبا سیاست کا مقصد طلبا سیاست کو تقویت دینا ہے، طلباء کے بنیادی مسائل کو بحث میں لانا ہے، ان کے حل اور انھیں میڈیا اور اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لیئے جدوجہد کرنا ہے۔ اگر طلبا سیاست اپنے بنیادئ ہدف اور پروگرام سے روگردانی کرے تو طلبا ان سے جڑنا چھوڈ دیتے ہیں کیونکہ طلبا کے بنیادی مسائل ان کے تعلیمی مسائل ان کی سالیمت اور بقا کو خاطر میں لائے بغیر طلبا کسی کو اپنا نجات دہندہ ماننے کے لیئے تیار نہیں ہونگے۔طلبا سیاست کسی پارلیمانی جماعت کے لیڈر کو خوش کرنےکا نام نیہں بلکے طلبا کے تمام چیدہ چیدہ مسائل کو لے کر ان کے لیئے جدوجہد کو کہتے ہیں۔

طلبا سیاست، مہم جوئی اور انتہا پسندی کے خلاف ہے بلکہ باقاعدہ ایسے رویوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی شعوری کوشش ہے ۔اگر طلبا سیاست مضبوط وفعال ہوگا تو اج کا سماج سائینسی اور جمہوری سماج ہوگا، اگر طلبا سیاست کا گھلا گھونٹا گیا تو اس کے ردعمل میں سماج پستی پسماندگی اور کئی صدی پیچھے کی طرف جائے گا۔

طلبا پر آج بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سماج دشمن قوتوں کو عوام کے سامنےنے نقاب کریں،تاکہ آج کے نوجوانوں کے سامنے ان کا مکروہ چہرہ عیاں ہو۔ طلباء سیاست اور نوجوانوں کی جدوجہد سے خوفزدہ قوتیں عوام دشمن اور سماج دشمن قوتیں ہیں، جو عوام اور نوجوانوں کو گمراہی اور جہالت کی طرف کے جانے کی راہ میں سب سے بڑے مددگار اور معاون ہیں۔

آج کے طلبہ اگر اپنے حق کے لۓ لڑنا چاہتے ہیں، ریاست کی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا چاہتے ہیں تو وہ ترقی پسند طلبہ تنظیموں کے طلبہ کے ساتھ منظم ہو کر جدوجہد شروع کرسکتے ہیں جو ایک سوشلسٹ منشور اور انقلابی سوچ رکھتے ہیں۔

ہمارے پاس جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF)، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان (NSF-GB)، بلتستان سٹوڈنٹس اورگانٸزیشن (BSO) پروگیسویوتھ الائنس( PYA) کی صورت میں ترقی پسند طلبہ تنظیمیں موجود ہیں۔

آخر میں یہ کہ پاکستان میں سیاست کو درست سمت اس وقت مل سکتی ہے، جب سیاسی جماعتوں میں نئے تعلیم یافتہ مڈل کلاس سیاستدانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجائے،جو یونیورسٹیوں اور کالجوں سے تربیت یافتہ ہو۔ دوسرے شخصیت پرستی اور Electables سے جان چھوٹ جائے۔ اس مقصد کے لۓ طلبہ ٕ سیاست کو فروغ دینے کی ضرورت ہے

دیدار علی کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے پسماندہ علاقہ داہیمل سے ہیں۔ دیدار علی نے فلحال آغا خان ہایئر سیکنڈری سکول گاہکوچ غذر سے ایف ایس سی مکمل کی ہیں اور اپ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان کے رکن بھی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں